اپنے اپنے حصے کے سچ
چراغ اور سایوں کے مسافر
رات کا وہ لمحہ تھا جب وقت اپنی سانس روک لیتا ہے۔ قبرستان کے شکستہ گنبد پر چاند کی زرد روشنی یوں جمی تھی جیسے کسی پرانے زخم پر نمک چھڑک دیا گیا ہو۔ نیم کے پتوں کی کڑواہٹ اور گیلی مٹی کی خوشبو ہوا میں گھل کر ایک ایسا بوجھ پیدا کر رہی تھی جو دل پر بیٹھ جائے اور ہلنے نہ دے۔ اس سنسانی کے بیچ، ایک لرزتے دیے کے گرد چار اجنبی بیٹھے تھے۔ اجنبی ضرور تھے، مگر ان کی آنکھوں میں سفر کی تھکن ایک خاموش رشتہ بن چکی تھی۔
دیے کی لو تھرتھراتی تو دیواروں پر ان کے سائے دیو قامت ہیولوں کی طرح ناچنے لگتے۔ پہلا مسافر، جس کا چہرہ زمانے کے تھپیڑوں سے پتھر کی طرح سخت ہو چکا تھا، اپنی قبا سمیٹ کر بولا:
"میں اس دیس سے آیا ہوں جہاں وقت ریت نہیں، سانسوں کی طرح پھسلتا ہے۔ وہاں لوگ اپنی پیدائش کے ساتھ ہی موت کی تاریخ لکھوا دیتے ہیں۔ زندگی وہاں ایک تیاری ہے، جینے کا مقصد نہیں۔"
دوسرا مسافر، جس کی آنکھیں جھیل کی طرح ساکت تھیں، آہ بھر کر گویا ہوا:
"میں جس نگر سے گزرا ہوں، وہاں وقت کو قتل کر دیا گیا ہے۔ نہ ماضی کا بوجھ، نہ مستقبل کا خوف۔ مگر انجام یہ کہ ان کے چہروں سے خوشی اور غم دونوں کے رنگ اڑ گئے ہیں۔ وہ زندہ نہیں، چلتی پھرتی لاشیں ہیں۔"
تیسرا مسافر، جو اب تک خاموش تھا، اپنی تسبیح کے دانے گھماتے ہوئے مسکرایا۔ اس کی مسکراہٹ میں درویشی کی روشنی تھی۔ وہ بولا:
"میں ایک جزیرے سے آیا ہوں جہاں بادشاہ اندھا ہے، مگر رعایا کہتی ہے کہ وہ سب کچھ دیکھتا ہے۔ جب میں نے پوچھا یہ کیسے ممکن ہے، تو کہا گیا: 'ہم سب اپنی آنکھیں اسے ادھار دیتے ہیں۔' وہاں سچ وہ نہیں جو نظر آتا ہے، بلکہ وہ ہے جسے سب مل کر فرض کر لیتے ہیں۔"
چوتھا مسافر، سب سے کم عمر مگر سب سے زیادہ فکر مند، بولا:
"کیا ہم سب بھی اسی اندھے بادشاہ کی رعایا نہیں؟ ہم بھی تو وہی دیکھتے ہیں جو ہمیں دکھایا جاتا ہے۔ میں نے ایک فلسفی کو دیکھا جو دن کے اجالے میں چراغ لیے انسان ڈھونڈ رہا تھا۔ جب میں نے پوچھا کہ کیا اسے کوئی ملا، تو اس نے چراغ کی لو میری طرف کر کے کہا: 'مجھے وہ مل گیا جو خود کو ڈھونڈ رہا ہے، مگر اسے راستہ نہیں مل رہا'۔"
گنبد کے باہر الّو کی ہوک سنائی دی۔ دیے کی لو بجھنے کو تھی، مگر گفتگو کی آگ بھڑک رہی تھی۔
اب ایسا لگ رہا تھا جیسے چار انسان نہیں، بلکہ انسانیت کی چار جہتیں آپس میں گفتگو کر رہی ہوں۔
چاروں اٹھے اور خاموشی سے قبرستان کی سنسانی میں مدغم ہو گئے۔ ان کے قدموں کی چاپ مٹی میں گم ہو گئی، مگر ان کے مکالمے فضا میں معلق رہ گئے۔
جب سورج کی پہلی کرن شکستہ گنبد پر پڑی، وہاں صرف راکھ کا ڈھیر اور چند قدموں کے نشان باقی تھے۔ سورج نے نرم تپش سے گنبد کو چھوا اور گویا ہوا:
"زندگی کا حاصل ان قصوں میں نہیں جو سنائے گئے، بلکہ اس خاموشی میں ہے جو ان قصوں کے بعد دلوں پر طاری ہوتی ہے۔ ہر شخص اس قبرستان کا مسافر ہے، اپنے دیے کی روشنی لیے، اس امید میں کہ کوئی دوسرا مسافر اس روشنی میں اپنا سچ ڈھونڈ لے۔ حقیقت صرف اتنی ہے کہ سفر ہی مقصود ہے، اور ہم سب اس کائناتی المیے اور طربیہ کا حصہ ہیں۔"

0 Comments