آدھے قد کا دیوتا انسان کے اندر ایک ایسی کھڑکی ہمیشہ ادھ کھلی رہتی ہے، جس کا رخ اس گلی کی طرف ہے جہاں اب کوئی نہیں رہتا۔ ہم نے دنیا کی دھوپ میں چل کر اپنے وجود تو سخت کرلیے، لہجے میں منطق کی برف جما لی اور آنکھوں میں مصلحت کے جالے بن لیے، لیکن سینے کے ایک اندھیرے گوشے میں ایک بچہ اب بھی دبک کر بیٹھا ہے جو بالغ ہونے سے صاف انکاری ہے۔ وہ بچہ جو آج بھی ٹوٹے ہوئے کھلونے پر نہیں، بلکہ ٹوٹے ہوئے بھروسے پر اسی شدت سے سسکتا ہے جیسے پہلی بار گرنے پر رویا تھا۔ عجیب بات یہ ہے کہ ہم نے بڑے ہو کر معاف کرنا سیکھ لیا، مگر وہ بچہ اب بھی پشیمانی کی گردن پکڑ کر اسے کونے میں کھڑا کر دیتا ہے۔ وہ خوشی کے ہر بڑے موقع پر ایک ایسی چھوٹی سی کمی ڈھونڈ لاتا ہے جو صرف ایک ناسمجھ ہی ڈھونڈ سکتا ہے۔ اسے اس بات سے غرض نہیں کہ آپ نے کتنی دولت کمالی، وہ تو آج بھی اس ایک ہاتھ کی تلاش میں ہے جو بھیڑ میں کہیں چھوٹ گیا تھا۔ کبھی کبھی آدھی رات کو جب شعور کی دنیا سے تعلق ٹوٹتا ہے، تو وہ بچہ اٹھ کر آپ کے ماتھے پر پڑی شکنوں کو حیرت سے چھوتا ہے اور پوچھتا ہے، "تم نے اتنے نقاب کیوں پہن رکھے ہیں؟" ہم اسے چپ کروانے کی...
میری نثری تحاریر، شاعری، خیالات اور خود کلامیوں پر مبنی بلاگ - محمد نور آسی