Skip to main content

کچی مٹی کا نوحہ


میرے ہاتھوں کی پوروں میں

کسی قدیم مٹی کی بو اب تک باقی ہے

وہ مٹی جس سے پہلا کالبد ڈھالا گیا تھا

اور جس کے سینے میں

ساہ لینے کی آرزو نے پہلا شگاف ڈالا تھا

میں کوئی ٹھہرا ہوا پانی نہیں ہوں

جس میں تم اپنا عکس دیکھ کر مطمئن ہو جاؤ

میں تو وہ ریگزار ہوں

جو ہر لمحہ اپنی حدیں بدلتا ہے

اور جس کے ذرے

ہواؤں کے ساتھ ہمکلام ہونے کے لیے

اپنے ہی وجود سے بغاوت کرتے ہیں

تم مجھے لفظوں کے پنجرے میں قید کرنا چاہتے ہو؟

مگر یاد رکھو

خون کی گردش کا کوئی گرامر نہیں ہوتا

اور نہ ہی آنکھوں میں اترنے والے خوابوں کو

کسی لغت کی ضرورت ہے

میں نے دیکھا ہے

کہ جب بیج زمین کا سینہ چاک کرتا ہے

تو کوئی شور نہیں ہوتا

مگر ایک کائنات لرز اٹھتی ہے

تخلیق کا یہ کرب

کسی خاموشی کا نہیں، بلکہ ایک مسلسل پکار کا نام ہے

وہ پکار جو مٹی کو گوشت پوست بناتی ہے

اب میں نے سیکھ لیا ہے

کہ دھوپ کو مٹھی میں کیسے قید کرتے ہیں

اور کیسے اپنی ہی پرچھائی کے تعاقب میں

ستاروں کی سرحدیں عبور کی جاتی ہیں

میں وہ مسافر ہوں

جس نے اپنی منزل کی تلاش میں

راستے کے تمام سنگِ میل اکھاڑ دیئے ہیں

تاکہ واپسی کا ہر نشان مٹ جائے

اور صرف وہی ایک راستہ باقی رہے

جو میرے اندر سے گزر کر

مجھ تک ہی واپس آتا ہے

میری معراج یہ نہیں کہ میں پایا جاؤں

میری معراج تو یہ ہے

کہ میں خود کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے

ایک ایسی جگہ پہنچ جاؤں

جہاں میں اور تم کے درمیان

کوئی دیوار، کوئی پردہ، کوئی لفظ باقی نہ رہے

صرف ایک ارتعاش ہو

جو کائنات کے پہلے لفظ کی طرح

ابد تک گونجتا رہے

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

جب وہ گیسو سنوارتے ہوں گے

  جب وہ گیسو سنوارتے ہوں گے

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر