وہ گلیاں اب بھی وہیں ہیں
جہاں میرے پیروں کے نشان
گرد کی تہوں میں دب کر
خاموشی کا حصہ بن چکے ہیں
مگر ان گلیوں کے دہانے پر کھڑی حویلیاں
اب ایسی بوڑھی عورتوں کی طرح لگتی ہیں
جو اپنے دکھ چھپانے کے لئے
دیواروں پر سفیدی کی چادر اوڑھ لیتی ہیں
مگر اندر کے ٹوٹے ہوئے چوبارے
اب بھی پرانی یادوں کے ملبے سے
اپنا وجود بچانے کی تپسیا میں مصروف ہیں
تم نے دیکھا ہے کبھی؟
کہ پگڈنڈیاں کسی منزل کی طرف نہیں جاتیں
بلکہ وہ ماضی کے ان زخموں کا راستہ ہیں
جو پیروں تلے روندی جانے کے باوجود
کبھی نہیں بھرتیں
اور ان پگڈنڈیوں کے کنارے کھڑا وہ برگد
جس کی جڑیں زمین کے باطن میں نہیں
بلکہ میرے وجود میں اتری ہوئی ہیں
وہ اب بھی ہوا کے ہر جھونکے سے
یہی پوچھتا ہے
کہ کیا کوئی مسافر
اپنے سائے کو بھی کبھی پیچھے چھوڑ سکا ہے؟
میں نے چوباروں کی ان کھڑکیوں سے
کئی بار خود کو باہر جھانکتے دیکھا ہے
مگر وہاں کوئی نہیں تھا
سوائے اس سناٹے کے
جو کسی خالی برتن میں گرنے والی بوند کی طرح
اپنا ہی ماتم کر رہا تھا
عجیب ہے ناں!
کہ وہ حویلیاں جو کبھی آباد تھیں
اب محض ایک ایسی بساط معلوم ہوتی ہیں
جس پر وقت نے تمام مہرے الٹ دیئے ہیں
دیکھو!
میں نے ان ویران راستوں کو
جہاں میری پہلی ہنسی کے حروف گرے تھے
اب ایک ایسی "دائمی چپ" کے حوالے کر دیا ہے
جس میں نہ کوئی صدا ہے، نہ کوئی پکار
بس ایک مسلسل انتظار ہے
اس ہوا کا، جو شاید کبھی پلٹ کر آئے
اور ان چوباروں کی گرد صاف کر دے
مگر ہوا تو اب شہروں کی بے نام بھیڑ میں
خود اپنا رستہ بھول چکی ہے
شاید کسی روز
جب وقت کی کوئی آوارہ لہر
ان بوسیدہ در و دیوار کو چھو کر گزرے گی
تو وہ گواہی دے گی کہ
برگد کی چھاؤں میں رکا ایک سایہ
دراصل خود ایک پرانی حویلی تھا
جس کا باطن تو کب کا بکھر چکا تھا
مگر ظاہر میں وہ اب بھی
ایک ادھورے لمس کی طرح
اپنا بوجھ اٹھائے کھڑا تھا!
Comments
Post a Comment