Skip to main content

ڈیجیٹل عہد کی دہلیز اور معصومیت کا بحران



انسانی تاریخ کے ہر دور میں نسلِ نو کی تربیت ایک چیلنج رہی ہے، لیکن اکیسویں صدی کی تیسری دہائی جس تیزی  کے ساتھ نمودار ہوئی ہے، اس نے والدین، اساتذہ اور ماہرینِ نفسیات کے لیے مروجہ ضابطوں کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں مادی فاصلے تو سمٹ گئے ہیں، مگر شعور کی سرحدوں پر ایک ایسی یلغار ہے جس کا مقابلہ کرنے کے لیے روایتی ڈھالیں اب ناکافی ثابت ہو رہی ہیں۔ مصنوعی ذہانت (AI) اور ڈیجیٹل آلات کی فراوانی نے جہاں زندگی کے پہیے کو تیز کیا ہے، وہیں بچوں کی نفسیات اور اخلاقیات کے خمیر میں ایسی تبدیلیاں پیدا کر دی ہیں جن کے اثرات دور رس اور کسی حد تک تشویشناک بھی ہیں۔

بچپن کا تصور ہمیشہ سے کھیل کود، فطرت سے رغبت اور کہانیوں کے گرد گھومتا رہا ہے۔ لیکن آج کا بچہ جس ماحول میں آنکھ کھول رہا ہے، وہاں مٹی کی خوشبو کی جگہ سکرین کی نیلی روشنی (Blue Light) اور نانی اماں کی کہانیوں کی جگہ الگورتھم کے تیار کردہ ویڈیوز نے لے لی ہے۔ یہ تبدیلی صرف ذرائع کی تبدیلی نہیں بلکہ یہ ادراک اور حسیات کی تبدیلی ہے۔ جب ایک ننھا بچہ اپنی ضرورتوں اور خواہشات کے لیے ایک مشین یا گیجیٹ کا محتاج ہو جاتا ہے، تو اس کے اندر کی فطری جستجو اور صبر کا مادہ آہستہ آہستہ ختم ہونے لگتا ہے۔ کل کا بچہ ٹوٹے ہوئے کھلونوں کو جوڑ کر تخلیق کا ہنر سیکھتا تھا، آج کا بچہ سکرین پر ایک کِلک کے ذریعے سب کچھ حاصل کر لینے کے خبط میں مبتلا ہے۔ اس "فوری تسکین"  کے رویے نے بچوں کے مزاج میں ایسی بے صبری پیدا کر دی ہے جو آگے چل کر ان کی سماجی زندگی کو تلخ بنا سکتی ہے۔

مصنوعی ذہانت کے اس دور میں سب سے بڑا نفسیاتی بحران توجہ کے ارتکاز کی کمی ہے۔ سمارٹ فون اور ٹیبلٹس پر موجود مواد اس طرح ڈیزائن کیا جاتا ہے کہ وہ انسانی ذہن کو ایک سیکنڈ کے لیے بھی آزاد نہ چھوڑے۔ بچوں کے لیے تیار کردہ مختصر ویڈیوز اور گیمز ان کے دماغ میں ڈوپامائن (Dopamine) کی سطح کو مسلسل بلند رکھتے ہیں، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بچہ حقیقی زندگی کے سست رفتار مگر اہم کاموں، جیسے پڑھائی، گفتگو یا مشاہدے میں دلچسپی کھو دیتا ہے۔ جب ایک بچے کو سکرین پر ہر لمحہ بدلتے ہوئے رنگ اور آوازیں ملتی ہیں، تو اسے نصابی کتاب کے ساکن حروف بوجھل لگنے لگتے ہیں۔ یہیں سے علمی پسماندگی اور ارتکازِ توجہ کی کمی (ADHD) جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔

اخلاقی لحاظ سے دیکھا جائے تو انٹرنیٹ کی بے لگام آزادی نے بچوں کو ان معلومات اور مناظر تک رسائی دے دی ہے جن کے لیے ان کا ذہن ابھی تیار ہی نہیں تھا۔ اخلاقیات کا سبق اب والدین کے عمل سے نہیں بلکہ سوشل میڈیا کے سوکالڈ انفلونسرز کے طرزِ عمل سے لیا جا رہا ہے۔ شہرت کی ہوس، دوسروں سے آگے نکلنے کا جنون اور مادی نمائش نے بچوں کے معصوم ذہنوں میں یہ تصور بٹھا دیا ہے کہ کامیابی صرف وہی ہے جو سکرین پر نظر آئے۔ اس دوڑ میں وہ ہمدردی، مروت اور احترام کے ان جذبوں کو پیچھے چھوڑ رہے ہیں جو کسی بھی مہذب معاشرے کی روح ہوتے ہیں۔ جب ایک بچہ اپنے کمرے میں اکیلا بیٹھ کر پوری دنیا سے جڑا ہوتا ہے، تو وہ دراصل اپنے خاندان سے کٹ رہا ہوتا ہے۔ یہ ڈیجیٹل تنہائی اسے خود غرضی اور نرگسیت کی طرف مائل کر رہی ہے۔

تو کیا اس صورتِ حال کا حل گیجیٹس پر پابندی یا ٹیکنالوجی سے فرار میں ہے؟ قطعاً نہیں۔ ہم اپنے بچوں کو غاروں کے دور میں واپس نہیں بھیج سکتے اور نہ ہی انہیں اس جدید ترین لہر سے کاٹ کر عالمی مقابلے کی دوڑ سے باہر کر سکتے ہیں۔ حل دراصل رویے کی تبدیلی اور ڈیجیٹل نظم و ضبط میں چھپا ہوا ہے۔ والدین کا سب سے پہلا اور اہم منصب یہ ہے کہ وہ خود کو ایک مثال (Role Model) کے طور پر پیش کریں۔ یہ کیسی بدقسمتی ہے کہ باپ گھر آ کر خود موبائل میں مگن ہو جاتا ہے اور ماں اپنی سوشل میڈیا مصروفیات کے لیے بچے کے ہاتھ میں ٹیبلٹ پکڑا دیتی ہے تاکہ وہ خاموش رہے۔ ہم بچوں کو وقت دینے کے بجائے انہیں گیجیٹس دے کر دراصل ان کی معصومیت کا سودا کر رہے ہیں۔

بچوں کی نفسیات کو سنبھالنے کے لیے معیاری وقت (Quality Time) کی فراہمی ناگزیر ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ دن کا کچھ حصہ ایسا مخصوص کریں جہاں کوئی الیکٹرانک آلہ موجود نہ ہو۔ دسترخوان پر گفتگو، پارک میں سیر، یا رات کو سونے سے پہلے کتاب خوانی وہ قدیم نسخے ہیں جو آج بھی اتنے ہی کارآمد ہیں جتنے سو سال پہلے تھے۔ بچوں کو فطرت کے قریب لانا ان کے حواس کو بیدار کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔ مٹی میں کھیلنا، پودوں کو پانی دینا اور پرندوں کا مشاہدہ کرنا ان کے اندر وہ ٹھہراؤ پیدا کرتا ہے جو سکرین کی تیز رفتار دنیا میں ناممکن ہے۔

مصنوعی ذہانت کے دور میں بچوں کو تنقیدی سوچ (Critical Thinking) سکھانا سب سے بڑی ضرورت ہے۔ انہیں یہ بتانا ضروری ہے کہ سکرین پر نظر آنے والا ہر منظر حقیقت نہیں ہوتا اور ہر معلومات درست نہیں ہوتی۔ ہمیں ان کے اندر یہ شعور بیدار کرنا ہوگا کہ ٹیکنالوجی ایک خادم ہے، مالک نہیں۔ اگر بچہ ٹیکنالوجی کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا سیکھ جائے تو یہ اس کے لیے نعمت ہے، لیکن اگر ٹیکنالوجی اسے استعمال کرنے لگے تو یہ زحمت بن جاتی ہے۔ اخلاقی تربیت کے لیے ضروری ہے کہ بچوں کو انسانی رشتوں کی اہمیت، بوڑھوں کا احترام اور ہمدردی کے عملی نمونے دکھائے جائیں۔ انہیں سکھایا جائے کہ سکرین کے پیچھے بھی ایک انسان بستا ہے اور ڈیجیٹل دنیا میں بھی اخلاقی حدود اتنی ہی اہم ہیں جتنی حقیقی زندگی میں۔

ایک اور اہم پہلو سائبر سیفٹی اور ڈیجیٹل لٹریسی کا ہے۔ والدین کو پولیس مین بننے کے بجائے بچوں کا دوست بننا ہوگا تاکہ بچہ کسی بھی آن لائن مشکل یا دھمکی کی صورت میں سب سے پہلے اپنے والدین سے رجوع کرے۔ جب ہم بچوں پر بے جا پابندیاں لگاتے ہیں یا ان پر شک کرتے ہیں، تو وہ چھپ کر ایسے راستے تلاش کرتے ہیں جو انہیں مزید دلدل میں دھکیل دیتے ہیں۔ اعتماد کا رشتہ ہی وہ واحد پل ہے جو اس ڈیجیٹل خلیج کو بھر سکتا ہے۔

مستقبل کا انسان وہی کامیاب ہوگا جو ٹیکنالوجی کے طوفان میں اپنے اعصاب کو قابو میں رکھ سکے گا۔ ہمیں اپنے بچوں کو ایسے "ڈیجیٹل شہری" بنانا ہے جن کے ہاتھ میں جدید ترین گیجیٹ تو ہو، مگر دل میں انسانیت کی تڑپ اور ذہن میں سچ اور جھوٹ کو پرکھنے کا مادہ بھی ہو۔ یہ سفر مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں۔ اگر ہم آج مصلحت کی چادر اتار کر اپنے بچوں کے ساتھ کھڑے ہو جائیں، انہیں اپنا وقت اور توجہ دیں، اور ان کی انگلی پکڑ کر انہیں اس ڈیجیٹل بھول بھلیاں سے گزاریں، تو یقیناً ہم ایک ایسی نسل تیار کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے جو ٹیکنالوجی کو تو مسخر کرے گی مگر اپنی روح کو فنا نہیں ہونے دے گی۔

یاد رکھئے ہمیں بچوں کو مشینوں کے رحم و کرم پر چھوڑنے کے بجائے دوبارہ سے "انسان" بنانا ہوگا۔ یہ کام نہ کوئی سافٹ ویئر کر سکتا ہے اور نہ ہی کوئی اے آئی بوٹ۔ یہ صرف ایک ماں کی ممتا اور باپ کی شفقت بھری توجہ سے ہی ممکن ہے۔ آئیے، ہم اپنے گھروں میں دوبارہ سے وہ خاموشی پیدا کریں جس میں گفتگو کی گونج سنائی دے، اور وہ اندھیرا لائیں جس میں رشتوں کی روشنی زیادہ واضح نظر آئے۔


Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

جب وہ گیسو سنوارتے ہوں گے

  جب وہ گیسو سنوارتے ہوں گے

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر