Skip to main content

فیصلہ


کب تک؟
اپنے ہی وجود کی دستار کو
حوادث کی ہواؤں سے بچاتے رہیں گے
کب تک؟
دُنیا کی اس منافق عدالت میں
پارسائی کی جھوٹی گواہیاں دیتے رہیں گے
ہم نے دیکھ لیے ہیں وہ سب بادشاہ
جو عشق کی گلیوں میں ریزہ چینی کرتے ہیں
اور وہ درویش بھی
جو تقدس کے لبادے چاک کر کے
سچ کے رقص میں کھو جاتے ہیں
اب ہمیں بھی اس حصار سے نکلنا ہے
جہاں بزدلی کو مصلحت کا نام دیا جاتا ہے
اور خوف کو حیا کا!
اگر جدائی کا دن آ گیا ہے
تو اسے کسی پرانی دعا سے ٹالنے کی کوشش کیوں کریں؟
جو رفاقت کےکئی سالوں میں نہیں بدلا
وہ ایک لمحے کے وظیفے سے کیسے بدلے گا؟
آسمان پر چمگادڑوں کا ہجوم ہو
یا آنکھوں کے ویران جنگل میں خوابوں کا بسیرا
بیداری تو بہرحال ایک پنجرہ ہے!
مگر سنو!
جب اس سفر کا آخری پڑاؤ آئے
اور سانسوں کا عَلَم کسی نئے ہاتھ میں تھمانے کا وقت ہو
تو ہم اس صف میں کھڑے نہ ہوں
جو اپنی پوشاک کے داغ دھونے میں مصروف تھی
بلکہ ہمارا شمار ان میں ہو
جنہوں نے زندگی کو اس کی تمام وحشتوں سمیت
گلے لگایا
جن کے ماتھے پر شکست کا نہیں، تھکن کا غرور ہو
اور جن کے زخم گواہی دیں
کہ انہوں نے بھاگتے ہوئے پیٹھ پر وار نہیں سہا
بلکہ وہ لڑتے ہوئے گرے ہیں!

#نوریات 

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

جب وہ گیسو سنوارتے ہوں گے

  جب وہ گیسو سنوارتے ہوں گے

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر