Skip to main content

فیصلہ


کب تک؟
اپنے ہی وجود کی دستار کو
حوادث کی ہواؤں سے بچاتے رہیں گے
کب تک؟
دُنیا کی اس منافق عدالت میں
پارسائی کی جھوٹی گواہیاں دیتے رہیں گے
ہم نے دیکھ لیے ہیں وہ سب بادشاہ
جو عشق کی گلیوں میں ریزہ چینی کرتے ہیں
اور وہ درویش بھی
جو تقدس کے لبادے چاک کر کے
سچ کے رقص میں کھو جاتے ہیں
اب ہمیں بھی اس حصار سے نکلنا ہے
جہاں بزدلی کو مصلحت کا نام دیا جاتا ہے
اور خوف کو حیا کا!
اگر جدائی کا دن آ گیا ہے
تو اسے کسی پرانی دعا سے ٹالنے کی کوشش کیوں کریں؟
جو رفاقت کےکئی سالوں میں نہیں بدلا
وہ ایک لمحے کے وظیفے سے کیسے بدلے گا؟
آسمان پر چمگادڑوں کا ہجوم ہو
یا آنکھوں کے ویران جنگل میں خوابوں کا بسیرا
بیداری تو بہرحال ایک پنجرہ ہے!
مگر سنو!
جب اس سفر کا آخری پڑاؤ آئے
اور سانسوں کا عَلَم کسی نئے ہاتھ میں تھمانے کا وقت ہو
تو ہم اس صف میں کھڑے نہ ہوں
جو اپنی پوشاک کے داغ دھونے میں مصروف تھی
بلکہ ہمارا شمار ان میں ہو
جنہوں نے زندگی کو اس کی تمام وحشتوں سمیت
گلے لگایا
جن کے ماتھے پر شکست کا نہیں، تھکن کا غرور ہو
اور جن کے زخم گواہی دیں
کہ انہوں نے بھاگتے ہوئے پیٹھ پر وار نہیں سہا
بلکہ وہ لڑتے ہوئے گرے ہیں!

#نوریات 

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

‏صبر کی طاقت اور کمال

  ‏صبر کی طاقت اور کمال صبر بظاہر ایک چھوٹی سی کرداری خوبی ہے ۔ لیکن صبر کی طاقت اور نتائج سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ صبر ایک خوبی نہیں بلکہ ایک ایسی طاقت ہے کہ آپ بڑے سے بڑے مسئلے کو حل کرستکے ہیں ۔ حضرت ایوب کا صبر اور برداشت مثالی تھا ۔ اسی طرح تاریخ سے صبر کی بے شمار مثالیں موجود ہوں ۔ لیکن آج ہم صبر کے حوالے سے مارش میلو تھیوری پر بات کریں گے۔ استاد نے کلاس کے سب بچوں کو ایک خوب صورت ٹافی دی اور پھر ایک عجیب بات کہی۔ ’’ سنو بچو! آپ سب نے دس منٹ تک اپنی ٹافی نہیں کھانی۔ ‘‘ یہ کہہ کہ وہ کلاس روم سے نکل گئے۔ چند لمحوں کے لیے کلاس میں خاموشی چھاگئی ، ہر بچہ اپنے سامنے پڑی ٹافی کو بے تابی سے دیکھ رہا تھا اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ان کے لیے خود کو روکنا مشکل ہو رہا تھا۔ دس منٹ پورے ہوئے اور استاد نے آ کر کلاس روم کا جائزہ لیا۔ پوری کلاس میں سات بچے ایسے تھے، جن کی ٹافیاں جوں کی توں تھیں، جب کہ باقی تمام بچے ٹافی کھا کر اس کے رنگ اور ذائقے پر تبصرہ کر رہے تھے۔ استاد نے چپکے سے ان سات بچوں کے نام اپنی ڈائری میں نوٹ کیے اور پڑھانا شروع کردیا۔ اس استاد کا نام پروفیسر والٹر مشا...

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر