انسان کا قدیم ترین خواب سونا حاصل کرنا یا محل بنانا بنانا نہیں تھا، بلکہ سانسوں کی آمدورفت میں چھپی اس کیفیت کو پانا تھا جسے ہم خوشی کہتے ہیں۔ صدیوں سے فلسفیوں نے سر پٹخے، صوفیوں نے جنگلوں کی خاک چھانی اور اب سائنس دانوں نے لیبارٹریوں میں نیورانز کے جال بچھا دیے ہیں، مگر سوال وہیں کا وہیں ہے- کیا خوشی کوئی ایسی چڑیا ہے جو ہمارے آنگن میں خود اترتی ہے، یا یہ وہ شکار ہے جسے ہمیں خود پکڑنا پڑتا ہے؟ کیا یہ واقعی ہمارے ہاتھ میں ہے؟ جدید دور کے مثبت نفسیات کے ماہرین، جن میں مارٹن سیلگمین کا نام سرِفہرست ہے، کہتے ہیں کہ ہم نے ایک طویل عرصہ صرف یہ سمجھنے میں گزار دیا کہ دکھ کیا ہے اور اسے کیسے کم کیا جائے، مگر ہم یہ پوچھنا بھول گئے کہ سکھ کیا ہے اور اسے کیسے بڑھایا جائے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کسی باغبان سے سکھایا جائے کہ پودا مرنے سے کیسے بچانا ہے ، مگر اسے یہ نہ بتایا جائے کہ اسے تناور درخت کیسے بنایا جائے۔ سائنس کی دنیا میں ایک نظریہ بہت مشہور ہے جسے ہیڈونک سیٹ پوائنٹ (Hedonic Set Point) کہا جاتا ہے۔ کچھ محققین کا خیال تھا کہ ہماری خوشی کا پچاس فیصد حصہ ہماری جینیات طے کر دیتی ہیں...
میری نثری تحاریر، شاعری، خیالات اور خود کلامیوں پر مبنی بلاگ - محمد نور آسی