انسان کا قدیم ترین خواب سونا حاصل کرنا یا محل بنانا بنانا نہیں تھا، بلکہ سانسوں کی آمدورفت میں چھپی اس کیفیت کو پانا تھا جسے ہم خوشی کہتے ہیں۔ صدیوں سے فلسفیوں نے سر پٹخے، صوفیوں نے جنگلوں کی خاک چھانی اور اب سائنس دانوں نے لیبارٹریوں میں نیورانز کے جال بچھا دیے ہیں، مگر سوال وہیں کا وہیں ہے- کیا خوشی کوئی ایسی چڑیا ہے جو ہمارے آنگن میں خود اترتی ہے، یا یہ وہ شکار ہے جسے ہمیں خود پکڑنا پڑتا ہے؟ کیا یہ واقعی ہمارے ہاتھ میں ہے؟
جدید دور کے مثبت نفسیات کے ماہرین، جن میں مارٹن سیلگمین کا نام سرِفہرست ہے، کہتے ہیں کہ ہم نے ایک طویل عرصہ صرف یہ سمجھنے میں گزار دیا کہ دکھ کیا ہے اور اسے کیسے کم کیا جائے، مگر ہم یہ پوچھنا بھول گئے کہ سکھ کیا ہے اور اسے کیسے بڑھایا جائے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کسی باغبان سے سکھایا جائے کہ پودا مرنے سے کیسے بچانا ہے ، مگر اسے یہ نہ بتایا جائے کہ اسے تناور درخت کیسے بنایا جائے۔
سائنس کی دنیا میں ایک نظریہ بہت مشہور ہے جسے ہیڈونک سیٹ پوائنٹ (Hedonic Set Point) کہا جاتا ہے۔ کچھ محققین کا خیال تھا کہ ہماری خوشی کا پچاس فیصد حصہ ہماری جینیات طے کر دیتی ہیں۔ یعنی کچھ لوگ فطری طور پر خوش باش پیدا ہوتے ہیں اور کچھ کے خمیر میں ہی تھوڑی اداسی گندھی ہوتی ہے۔ اس تحقیق نے ایک وقت میں لوگوں کو مایوس کر دیا تھا کہ اگر میں اداس پیدا ہوا ہوں تو کیا میں کبھی سچا تبسم نہیں پا سکوں گا؟
مگر یہاں مثبت نفسیات کی ایک ممتاز محقق سونجا لیوبومرسکی نے ایک نئی کھڑکی کھولی۔ ان کی مشہور زمانہ 40 فیصد کی فارمولا کہتی ہے کہ اگرچہ 50 فیصد جینیات ہے اور 10 فیصد ہمارے حالات (دولت، گھر، نوکری)، مگر باقی ماندہ 40 فیصد خالصتاً ہماری اپنی ارادی سرگرمیوں پر منحصر ہے۔ یہ 40 فیصد وہ علاقہ ہے جہاں ہم اپنی زندگی کے خود مختار حکمران ہیں۔ یہیں سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ خوشی محض اتفاق نہیں، بلکہ ایک انتخاب ہے۔
ہم جس معاشرے میں سانس لے رہے ہیں، وہاں کامیابی کا پیمانہ بینک بیلنس اور مادی آسائشیں ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ایک بڑی گاڑی یا نیا گھر ہمیں وہ سکون بخش دے گا جس کی ہمیں تلاش ہے۔ مگر نفسیات میں ایک اصطلاح استعمال ہوتی ہے جسے ہیڈونک ایڈاپٹیشن کہتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ انسان کسی بھی نئی خوشی کا بہت جلد عادی ہو جاتا ہے۔ آپ نے نئی گاڑی لی، دو ہفتے آپ کا دل باغ باغ رہا، تیسرے ہفتے وہ محض ایک سواری بن گئی اور چوتھے ہفتے آپ کی نظر کسی اور ماڈل پر ٹک گئی۔
معروف ماہرِ معاشیات رچرڈ ایسٹرلن نے ایک دلچسپ تضاد پیش کیا، جسے ایسٹرلن پیراڈوکس کہا جاتا ہے۔ ان کی تحقیق کے مطابق ایک خاص حد تک آمدنی بڑھنے سے خوشی بڑھتی ہے (کیونکہ بنیادی ضروریات پوری ہوتی ہیں)، مگر اس حد کے بعد دولت میں اضافہ آپ کی خوشی کے گراف کو اوپر نہیں لے جاتا۔ گویا خوشی کا تعلق اس سے نہیں ہے کہ آپ کے پاس کتنا ہے، بلکہ اس سے ہے کہ آپ اس کتنے کو دیکھتے کیسے ہیں۔
اگر آپ مجھ سے پوچھیں کہ انسانی تاریخ کی سب سے طویل سائنسی تحقیق کیا کہتی ہے، تو میں آپ کو ہارورڈ اسٹڈی آف ایڈلٹ ڈویلپمنٹ کی طرف لے جاؤں گا۔ یہ مطالعہ پچھلے 80 سالوں سے زائد عرصے سے جاری ہے۔ اس نے نسل در نسل انسانوں کی زندگیوں کا مطالعہ کیا اور آخر میں جس نتیجے پر پہنچی، وہ چونکا دینے والا تھا۔
اس تحقیق کے ڈائریکٹر رابرٹ والڈنگر کہتے ہیں کہ نہ تو شہرت، نہ دولت اور نہ ہی سخت محنت ہمیں خوش رکھتی ہے۔ خوشی کا واحد اور سب سے بڑا راز اچھے اور گہرے تعلقات ہیں۔ وہ لوگ جو اپنے خاندان، دوستوں اور برادری سے جڑے ہوتے ہیں، نہ صرف زیادہ خوش رہتے ہیں بلکہ وہ جسمانی طور پر بھی زیادہ تندرست ہوتے ہیں اور ان کی عمریں بھی لمبی ہوتی ہیں۔ تنہائی ایک ایسی خاموش دیمک ہے جو انسان کو اندر سے چاٹ جاتی ہے۔ پس، خوشی ہمارے ہاتھ میں اس طرح ہے کہ ہم اپنے اردگرد موجود انسانوں کو کتنی اہمیت دیتے ہیں۔
ہنگری کے ماہرِ نفسیات میہالی نے ایک تصور پیش کیا جسے وہ فلو (Flow) کہتے ہیں۔ آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ جب کوئی مصور کینوس پر رنگ بکھیرتا ہے، یا کوئی لکھاری کاغذ پر حرف جڑتا ہے، یا کوئی باورچی بڑے شوق سے ہنڈیا بھونتا ہے، تو وہ وقت اور حالات سے بے خبر ہو جاتا ہے۔ اسے نہ بھوک لگتی ہے، نہ پیاس۔ یہ وہ لمحہ ہے جب آپ کا کام آپ کی صلاحیتوں کے عین مطابق ہوتا ہے۔
خوشی اس لمحے کا نام ہے جب آپ ماضی کے پچھتاووں اور مستقبل کے خوف سے آزاد ہو کر 'حال' میں مکمل طور پر ضم ہو جاتے ہیں۔ مثبت نفسیات ہمیں سکھاتی ہے کہ اپنی زندگی میں ایسی سرگرمیاں تلاش کریں جو آپ کو فلو کی کیفیت میں لے جائیں۔ یہ کوئی بڑا کارنامہ ہونا ضروری نہیں، یہ ایک کتاب کا مطالعہ بھی ہو سکتا ہے اور پودوں کو پانی دینا بھی۔
ہمارے پرانے بزرگ ہمیشہ شکر کی تلقین کرتے تھے، مگر آج کی سائنس اسے نیوروپلاسٹی سٹی کے تناظر میں دیکھ رہی ہے۔ جب ہم شعوری طور پر اپنی زندگی کی تین اچھی چیزیں روزانہ لکھتے ہیں، تو ہمارا دماغ آہستہ آہستہ منفی کے بجائے مثبت ڈھونڈنے کا عادی ہو جاتا ہے۔ یہ ایک ذہنی ورزش ہے جو دماغ میں ڈوپامین اور سیروٹونن جیسے خوش کن کیمیکلز کی مقدار بڑھا دیتی ہے۔
خوشی کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ہم دوسروں کے لیے کیا کرتے ہیں۔ رحم دلی پر ہونے والی تحقیقات بتاتی ہیں کہ جب ہم کسی کی مدد کرتے ہیں، تو ہمارے دماغ کا وہ حصہ روشن ہوتا ہے جو ہمیں لذت محسوس کرواتا ہے۔ گویا قدرت نے ہماری خوشی کا تالا دوسروں کی آسانی کی چابی میں رکھا ہے۔
مشہور ماہرِ نفسیات وکٹر فرینکل جنہوں نے نازی کیمپوں کی ہولناکیوں کو سہا، اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ انسان خوشی کے بغیر تو زندہ رہ سکتا ہے، مگر معنی (Meaning) کے بغیر نہیں۔ خوشی محض عارضی لذت کا نام ہو سکتی ہے، مگر قلبی اطمینان اس احساس سے آتا ہے کہ آپ کی زندگی کسی بڑے مقصد سے جڑی ہوئی ہے۔
دکھ زندگی کا ایک لازمی جزو ہے۔ مثبت نفسیات یہ نہیں کہتی کہ آپ ہمیشہ ہنستے رہیں یا اداسی کا انکار کریں۔ بلکہ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ دکھ کے تلاطم میں بھی اپنے وجود کے سکون کو کیسے برقرار رکھا جائے۔ خوشی کا مطلب دکھ کی غیر موجودگی نہیں، بلکہ دکھ کے باوجود جینے کا حوصلہ پانا ہے۔
آخر میں، میں وہی سوال دوبارہ دہراتا ہوں: کیا خوشی ہمارے ہاتھ میں ہے؟
جواب ہے: جی ہاں، مگر یہ کوئی پکا پکایا حلوہ نہیں ہے جو آپ کو تھالی میں مل جائے گا۔ یہ ایک عادت ہے جسے روزانہ کا معمول بنانا پڑتا ہے۔ یہ ان چھوٹے چھوٹے فیصلوں کا مجموعہ ہے جو ہم روزانہ کرتے ہیں۔ کسی کی بات کو درگزر کرنا، کسی کی مسکراہٹ پر مسکرانا، اپنی چھوٹی سی کامیابی پر خود کو شاباش دینا، اور یہ تسلیم کرنا کہ ہم انسان ہیں اور ہمیں مسکراہٹ کے ساتھ اداس ہونے کا بھی ہنر آنا چاہیے۔۔
مثبت نفسیات کی نئی جہتیں ہمیں یہ پیغام دیتی ہیں کہ خوشی باہر کی دنیا میں نہیں، بلکہ ہمارے اپنے ردِعمل میں چھپی ہے۔ ہم حالات کو نہیں بدل سکتے، مگر ہم ان حالات کے بارے میں اپنی سوچ کو ضرور بدل سکتے ہیں۔
جیسا کہ آپ نے خود کہا تھا کہ "ایک تماشا ہے ہونے اور نہ ہونے کا"، تو اس تماشے میں اگر ہم ہونے کے پہلو پر توجہ دیں اور اس 40 فیصد علاقے کو اپنی محنت، شکرگذاری اور تعلقات سے آباد کر لیں، تو خوشی دور نہیں۔ یہ ہمارے ہاتھوں کی لکیروں میں نہیں، بلکہ ہمارے ہاتھوں سے کیے گئے نیک اعمال اور ہماری سوچ کے زاویوں میں موجود ہے۔
خوشی کوئی منزل نہیں، یہ اس راستے کا نام ہے جس پر چلتے ہوئے ہم اپنے اندر کے انسان کو زندہ رکھتے ہیں۔ پس، آج ہی سے اپنی خوشی کی ذمہ داری خود اٹھائیے، کیونکہ یہ کائنات آپ کو وہی کچھ واپس کرتی ہے جو آپ اس کی طرف اچھالتے ہیں۔ اگر آپ محبت اور شکر بانٹیں گے، تو کائنات اسے سود سمیت خوشی کی صورت میں آپ کی جھولی میں ڈال دے گی۔
Comments
Post a Comment