سورج ابھی افق کی دہلیز پر دستک دینے کا سوچ ہی رہا ہوتا ہے کہ فضا میں ایک باریک سا ارتعاش پیدا ہوتا ہے۔ یہ شور نہیں، بلکہ کائنات کا وہ قدیم ترین "سافٹ ویئر" ہے جو ہر صبح بغیر کسی غلطی کے اپ ڈیٹ ہوتا ہے۔ ہم اسے 'چڑیوں کی چہچہاہٹ' کہتے ہیں، لیکن کیا کبھی ہم نے سوچا کہ یہ محض ایک حیاتیاتی ضرورت ہے یا کسی وسیع تر حقیقت کا حصہ؟
چڑیاں صبح سویرے اس لیے نہیں چہچہاتیں کہ انہیں دن بھر کے رزق کی فکر ہے، بلکہ وہ تو روشنی کے پہلے قطرے کا استقبال اس یقین سے کرتی ہیں جیسے وہ اس کائنات کی سب سے بڑی رازداں ہوں۔ ان کی آوازوں میں ایک ایسی تیکھی معصومیت ہوتی ہے جو انسان کے خود ساختہ وقار اور مصنوعی سنجیدگی کو ایک لمحے میں مسمار کر دیتی ہے۔
ان کا نغمہ دراصل 'عدم' سے 'وجود' کی طرف واپسی کا ایک اعلان ہے۔ جب انسان گہری نیند میں اپنی شناخت کھو چکا ہوتا ہے، یہ ننھی جانیں فضا کے کینوس پر آوازوں کے رنگ بکھیر کر کائنات کو یہ بتاتی ہیں کہ شعور کی لہر بیدار ہو چکی ہے۔ یہ کوئی روایتی حمد و ثنا نہیں، بلکہ ایک خاموش فلسفہ ہے کہ جینے کے لیے صرف سانس لینا کافی نہیں، بلکہ اپنی موجودگی کا اعتراف کرنا بھی لازم ہے۔
ہم جو اپنے بڑے بڑے منصوبوں اور مستقبل کے خوف میں جکڑے ہوئے ہیں، ان پرندوں کے سامنے کتنے بونے دکھائی دیتے ہیں جو کل کی فکر سے آزاد، صرف 'آج' کی پہلی کرن پر اپنا پورا وجود نچھاور کر دیتے ہیں۔ کیا یہ چہچہاہٹ ہمیں یہ سوال کرنے پر مجبور نہیں کرتی کہ:
ہم نے آخری بار کب کسی مقصد کے بغیر صرف 'ہونے' کی خوشی منائی تھی؟
کیا ہماری زبانیں ان پرندوں جتنی سچی ہیں جو صرف وہی بولتے ہیں جو وہ ہوتے ہیں؟
یہ چہچہاہٹ کائنات کی وہ نرم دستک ہے جو ہمیں یاد دلاتی ہے کہ زندگی کسی بڑے معجزے کا نام نہیں، بلکہ ان چھوٹی چھوٹی لہروں کا تسلسل ہے جو ہر صبح ہمارے کانوں سے ٹکراتی ہیں۔
جب کل صبح آپ کی آنکھ ان کی آواز سے کھلے، تو ایک لمحے کو سوچیے گا: کیا وہ چڑیاں آپ کو جگا رہی ہیں، یا وہ آپ کے اندر سوئے ہوئے اس انسان کو پکار رہی ہیں جو کہیں وقت کی گرد میں گم ہو گیا ہے؟
Comments
Post a Comment