Skip to main content

چڑیوں کی چہچہاہٹ: کائنات کا پہلا مکالمہ

 

سورج ابھی افق کی دہلیز پر دستک دینے کا سوچ ہی رہا ہوتا ہے کہ فضا میں ایک باریک سا ارتعاش پیدا ہوتا ہے۔ یہ شور نہیں، بلکہ کائنات کا وہ قدیم ترین "سافٹ ویئر" ہے جو ہر صبح بغیر کسی غلطی کے اپ ڈیٹ ہوتا ہے۔ ہم اسے 'چڑیوں کی چہچہاہٹ' کہتے ہیں، لیکن کیا کبھی ہم نے سوچا کہ یہ محض ایک حیاتیاتی ضرورت ہے یا کسی وسیع تر حقیقت کا حصہ؟
چڑیاں صبح سویرے اس لیے نہیں چہچہاتیں کہ انہیں دن بھر کے رزق کی فکر ہے، بلکہ وہ تو روشنی کے پہلے قطرے کا استقبال اس یقین سے کرتی ہیں جیسے وہ اس کائنات کی سب سے بڑی رازداں ہوں۔ ان کی آوازوں میں ایک ایسی تیکھی معصومیت ہوتی ہے جو انسان کے خود ساختہ وقار اور مصنوعی سنجیدگی کو ایک لمحے میں مسمار کر دیتی ہے۔
ان کا نغمہ دراصل 'عدم' سے 'وجود' کی طرف واپسی کا ایک اعلان ہے۔ جب انسان گہری نیند میں اپنی شناخت کھو چکا ہوتا ہے، یہ ننھی جانیں فضا کے کینوس پر آوازوں کے رنگ بکھیر کر کائنات کو یہ بتاتی ہیں کہ شعور کی لہر بیدار ہو چکی ہے۔ یہ کوئی روایتی حمد و ثنا نہیں، بلکہ ایک خاموش فلسفہ ہے کہ جینے کے لیے صرف سانس لینا کافی نہیں، بلکہ اپنی موجودگی کا اعتراف کرنا بھی لازم ہے۔
ہم جو اپنے بڑے بڑے منصوبوں اور مستقبل کے خوف میں جکڑے ہوئے ہیں، ان پرندوں کے سامنے کتنے بونے دکھائی دیتے ہیں جو کل کی فکر سے آزاد، صرف 'آج' کی پہلی کرن پر اپنا پورا وجود نچھاور کر دیتے ہیں۔ کیا یہ چہچہاہٹ ہمیں یہ سوال کرنے پر مجبور نہیں کرتی کہ:
ہم نے آخری بار کب کسی مقصد کے بغیر صرف 'ہونے' کی خوشی منائی تھی؟
کیا ہماری زبانیں ان پرندوں جتنی سچی ہیں جو صرف وہی بولتے ہیں جو وہ ہوتے ہیں؟
یہ چہچہاہٹ کائنات کی وہ نرم دستک ہے جو ہمیں یاد دلاتی ہے کہ زندگی کسی بڑے معجزے کا نام نہیں، بلکہ ان چھوٹی چھوٹی لہروں کا تسلسل ہے جو ہر صبح ہمارے کانوں سے ٹکراتی ہیں۔
جب کل صبح آپ کی آنکھ ان کی آواز سے کھلے، تو ایک لمحے کو سوچیے گا: کیا وہ چڑیاں آپ کو جگا رہی ہیں، یا وہ آپ کے اندر سوئے ہوئے اس انسان کو پکار رہی ہیں جو کہیں وقت کی گرد میں گم ہو گیا ہے؟

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

جب وہ گیسو سنوارتے ہوں گے

  جب وہ گیسو سنوارتے ہوں گے

مختصر سی زندگی

مختصر سی زندگی محمد نور آسی زندگی بہت مختصر ہے یہ فقرہ تو ہم دن میں شاید کئی بار سنتے ہیں ۔ لیکن کبھی غور نہیں کیا ۔ مختصر کیوں ، کیسے؟ اگر کسی کی عمراللہ کریم نے 50 سال لکھی ہے ، 70 سال لکھی ہے یا 100 سال- تو وہ دنیا میں اتنے ہی سال گذار کر جائے گا۔ پھر مختصر کیوں ہے زندگی ؟ میں کوئی مذہبی سکالر نہیں ۔ لیکن ایک بات جو اپنی کم علمی کے اعتراف کے باوجود جانتا ہوں وہ یہ ہے کہ ہم جب اپنی گذشتہ زندگی پر نظر ڈالتے ہیں تو ایسے لگتا ہے جیسے گذارے گئے دس ، بیس ، تیس سال تو گویا کل کی بات ہے۔ یوں گذرے گئے جیسے اک لمحہ گذرا ہو۔ اسی سے قیاس کرکے جب یہ سوچ ذہن میں آتی ہے کہ جب نزع کا عالم ہو گا تو ممکن ہے اس وقت ہمیں یہی محسوس ہو کہ ہماری 60، 70 زندگی یوں پلک چھپکتے گذر گئی کہ پتہ بھی نہ چلا۔ تو پھر شاید اسی لئے کہتے ہیں کہ زندگی مختصر ہے۔ ہاں سچ ہی تو کہتے ہیں۔ ذرا ایک لمحے کے لئے تصور کیجئے ۔ وہ پہلا دن جب آپ اسکول گئے۔ کل کی بات لگتی ہے نا۔ بے شک سر کے بال سفید ہوگئے یا سفیدی کی جانب سرک رہے ہیں لیکن محسوس ہوتا ہے ابھی تو ہم جوان ہیں۔ کوئی انکل بولے یا آنٹی تو حیرت سی ہوتی ہے۔ ہوتی ہے نا؟ اص...