Skip to main content

سانس کی لہر


سانس لینا محض پھیپھڑوں کی ایک میکانکی حرکت نہیں، بلکہ کائنات کے ساتھ ہمارا وہ خفیہ معاہدہ ہے جو ہر لمحہ تجدید مانگتا ہے۔ ہم ایک ایسے سمندر کی تہہ میں رہتے ہیں جس کا پانی نظر نہیں آتا، مگر ہمہ وقت ہمیں اپنی آغوش میں لیے رکھتا ہے۔ کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ جب ہم سانس اندر کھینچتے ہیں، تو ہم دراصل باہر کی کائنات کو اپنے وجود کا حصہ بنا رہے ہوتے ہیں؟ اور جب ہم اسے باہر نکالتے ہیں، تو اپنے وجود کا ایک حصہ کائنات کے حوالے کر دیتے ہیں۔
یہ لین دین اتنا خاموش اور خودکار ہے کہ ہم اس کے اعجاز سے غافل ہو چکے ہیں۔ غور کریں تو ہر سانس ایک خود مختار 'موت' اور 'زندگی' کا مجموعہ ہے۔ ایک لمحے کے لیے ہوا کا رک جانا ہمیں عدم کی سرحد پر کھڑا کر دیتا ہے، اور اگلا ہی لمحہ ہمیں دوبارہ ہستی کے دربار میں لا بٹھاتا ہے۔ یہ ایک مسلسل دستک ہے جو ہمارے سینے کے اندر بجتی رہتی ہے، مگر ہم اسے تبھی سنتے ہیں جب یہ تھمنے لگتی ہے۔
عجیب تماشہ ہے کہ ہم اس ہوا کے لیے کوئی قیمت ادا نہیں کرتے جو ہماری رگوں میں زندگی کا رقص جاری رکھتی ہے، پھر بھی ہم خود کو زندگی کا 'مالک' سمجھتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم محض اس ہوا کے امین ہیں۔ جو ذرہ میری سانس بن کر میرے خون میں شامل ہوا، وہ شاید چند لمحے پہلے کسی مرجھاتے ہوئے پھول کی آخری مہک تھا، یا کسی دور دراز پہاڑ کی ٹھنڈک۔ ہم سب ایک ہی ہوا کو بانٹ رہے ہیں۔ میری نکالی ہوئی سانس آپ کی زندگی بنتی ہے، اور آپ کی چھوڑی ہوئی لہر کسی اور کا سہارا۔ ہم الگ الگ جسموں میں قید ہو کر بھی ایک ہی عظیم سانس کے تسلسل سے جڑے ہوئے ہیں۔
اس ایک پل کی مہلت پر غور کیجیے، جو 'آنے' اور 'جانے' والی لہر کے درمیان ایک باریک واہمے کی طرح کھڑا ہے۔ ہم جسے اپنی زندگی کہتے ہیں، وہ دراصل دو سانسوں کے درمیان معلق ایک مختصر سا وقفہ ہی تو ہے۔ اگر یہ لوٹ کر آنے والی ہوا رستہ بھول جائے، تو ہمارے تمام دعوے، تفاخر اور لمبی مسافتوں کے خواب محض مٹی کی ایک خاموش ڈھیری میں بدل جائیں گے۔ کیا یہ حیرت انگیز نہیں کہ ہماری پوری کائنات کا دارومدار اس ان دیکھی ڈوری پر ہے جو اتنی مضبوط ہے کہ پہاڑوں کو سر کروا دیتی ہے، اور اتنی نازک کہ ایک ذرا سی ٹھیس سے ٹوٹ جائے؟ ہم جی نہیں رہے، بلکہ ہر لمحہ ایک ادھار لی گئی زندگی کے ذریعے فنا کو شکست دے رہے ہیں۔ شاید ہم خود کچھ بھی نہیں، بس ایک عظیم اور لافانی سانس کے گزرنے کا راستہ ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

اے شہنشاہِ زمنﷺ

  اے شہنشاہِ زمنﷺ

پہلا روزہ

پہلا روزہ محمد نور آسی ہمیں نہ تو کسی نے مجبور کیا ، بہت ضد کی یا منت سماجت کی کہ خدا کے اپنے پہلے روزے کے بارے میں  اپنا ایک ادبی  شاہکار  اپنے "زورقلم اور زیادہ " والے قلم  سے  عنائت کریں  اور نہ ہی کسی نے ان باکس میں کوئی مسیج کیا نہ کسی نے ٹیک کیا۔  پھربھی پتہ نہیں کیوں ہم نے یہ تحریرلکھی ہے بلکہ اپنے ایک عدد بوسیدہ بلکہ خزان رسیدہ  بلاگ پر بھی ڈال دی ۔۔۔۔۔۔۔۔ پہلاروزہ رکھے ویسے تو اب اتنے سال بیت گئے ہیں کہ بہت ساری تفصیلات ذہن میں نہیں تاہم ماہ رمضان سے جڑے اپنے بچپن کے کچھ ایسے واقعات ضرور یاد ہیں جو کل کی طرح تازہ لگتے ہیں۔  پہلا روزہ جب رکھا تو یہ یاد نہیں کہ کیا کھایا کیا پیا البتہ شام کو جو آؤ بھگت ہوئی وہ نہیں بھولتی ۔  گھروالوں کے علاوہ خصوصا خالہ ، پھوپھو اور کزن نے جو تحائف پھلوں اور دیگر کھانے کی اشیاء اور نقدی  کی صورت میں دیے تو  دل کرتا تھا اب روزانہ روزہ ہی رکھیں گے ۔ وہ تو امی آڑے آ جاتی کہ معصوم جان اور سخت گرمی ۔ بس ایک روزہ کافی ہے ۔ ہاں جس دن موسم ٹھیک ہو گا اس دن رکھ لینا ۔ جمعے کا روزہ ضد کرکے ر...