Skip to main content

رزقِ نمو

 رزقِ نمو

برکت کے ہاتھوں کی لکیریں اب گوشت کا حصہ نہیں رہی تھیں، بلکہ وہ کسی قدیم بلوط کے تنے پر پڑنے والی دراڑوں جیسی ہو چکی تھیں۔ مری کی ان ڈھلوانوں پر، جہاں کہر اتنی گہری ہوتی کہ سانس لو تو پھیپھڑوں میں مٹیالی چاشنی بھر جائے، برکت پچھلے پچاس برسوں سے ایک ہی تال پر زندگی جی رہا تھا۔ ’تھک۔۔۔ تھک۔۔۔ تھک!‘ کلہاڑی جب سوکھی لکڑی کے سینے میں اترتی، تو برکت کو لگتا جیسے وہ لکڑی کو نہیں، بلکہ وقت کے کسی گلے سڑے حصے کو کاٹ رہا ہے۔ اسے لکڑی کے بولنے کا ہنر آتا تھا۔ وہ بتا سکتا تھا کہ کون سی شاخ آگ کے حوالے ہونے کے لیے بے تاب ہے اور کون سی ابھی زندگی کا زہر پینا چاہتی ہے۔

اس کا بیٹا، جواد، شہر کی ایک ایسی عمارت میں کام کرتا تھا جس کی کھڑکیاں کبھی نہیں کھلتی تھیں اور جہاں ہوا مشینوں کے ذریعے بیچی جاتی تھی۔ جواد جب گاؤں آیا تو اسے اپنے باپ کا مٹی سے اٹا ہوا چہرہ دیکھ کر ایک عجیب طرح کی ہمدردی محسوس ہوئی، جس میں ہلکی سی کراہت بھی شامل تھی۔

"ابا! اب بس کریں۔ یہ لکڑیاں، یہ دھواں، یہ پہاڑ کی سردی۔۔۔ آپ کی ہڈیاں اب یہ بوجھ نہیں سہہ سکتیں۔ شہر چلیں، وہاں سکون ہے۔"

برکت نے کلہاڑی کی دھار پر انگوٹھا پھیرا۔ "بیٹا، لکڑی کٹنے کے بعد ہی سکون پاتی ہے۔ جب تک شاخ پر ہے، اسے تنے کا بوجھ ڈھونا پڑتا ہے۔"

مگر جواد کی ضد کے سامنے وہ بوڑھا تنا جھک گیا۔ وہ اسے اسلام آباد کے ایک ایسے اپارٹمنٹ میں لے آیا جہاں فرش پر سنگِ مرمر کی برف جمی تھی اور دیواریں اتنی ہموار تھیں کہ وہاں کوئی یاد بھی نہیں لٹکائی جا سکتی تھی۔ 

پہلے چند دن برکت کے لیے ایک سحر زدہ قید کی طرح تھے۔ کچن میں گیس کا چولہا تھا، جس کا بٹن گھماؤ تو نیلی لو ایسے نکلتی جیسے کسی سانپ کی زبان ہو۔ ڈرائنگ روم میں گیس کا ہیٹر ایک بے جان سورج کی طرح دہکتا، جس میں سے تپش تو آتی تھی مگر روشنی میں وہ مٹیالی مہک نہیں تھی جو لکڑیوں کے جلنے سے پیدا ہوتی ہے۔

برکت وہاں کھڑکی کے پاس بیٹھ جاتا۔ باہر گاڑیوں کا شور تھا، جو اسے لکڑی کے چرچرانے کی آواز سے کہیں زیادہ خوفناک لگتا۔ اسے محسوس ہونے لگا کہ اس کے اندر کا لکڑ ہارا دم توڑ رہا ہے۔

"ابا، ہیٹر کے پاس بیٹھیں۔" جواد نے محبت سے کہا۔

برکت نے ہیٹر کی نیلی آگ کو دیکھا۔ "جواد، یہ آگ بھوکی ہے۔"

"کیا مطلب ابا؟"

"بیٹا، آگ کو جب تک لکڑی کا رزق نہ ملے، وہ اپنا سینہ نہیں کھولتی۔ یہ نیلی آگ تو کسی کیمیکل کی قے ہے۔ یہ بدن تو گرم کر سکتی ہے، روح کو نہیں سنیک سکتی۔"

جواد ہنسا، "آپ بھی پرانے وقتوں کی باتیں کرتے ہیں۔ لکڑی کا دھواں آنکھیں جلاتا ہے، ابا!"

برکت خاموش ہو گیا۔ اسے محسوس ہوا کہ شہر میں وقت کٹتا نہیں ہے، بلکہ پگھلتا ہے۔ یہاں لوگ آگ نہیں جلاتے، بلکہ سوئچ دباتے ہیں۔ یہاں زندگی ’تیار‘ ملتی ہے، اسے ’تخلیق‘ نہیں کرنا پڑتا۔

برکت کو نیند میں لکڑیوں کے چرچرانے اور کلہاڑی کے گرنے کی آوازیں سنائی دیتیں۔ اسے لگتا کہ اس کے پوروں سے رستا ہوا پسینہ اب لکڑی کے برادے کی طرح خشک ہو رہا ہے۔ ایک رات، جب پورا شہر مصنوعی روشنیوں میں غرق تھا، برکت اپنی پرانی کلہاڑی اٹھائے سیڑھیاں اتر گیا۔ اس کے لیے وہ اپارٹمنٹ ایک ایسی لکڑی تھا جس میں گھن لگ چکا ہو۔

وہ واپس اپنے پہاڑ کے دامن میں پہنچا۔ اس نے گہرا سانس لیا۔ کہر کی نمی اور پائن کی خوشبو نے اس کا استقبال کیا۔ وہ بھاگا ہوا اپنے اسی پرانے جنگل میں پہنچا، جہاں ایک قدیم، ادھ کٹا ہوا درخت برسوں سے اس کا انتظار کر رہا تھا۔

چند دن بعد، جواد اپنے دفتر کے اے سی والے کمرے میں بیٹھا تھا جب اس کا فون بجا۔ گاؤں کے نمبر سے کال تھی۔ "جواد بھائی، برکت چاچا۔۔۔ وہ جھونپڑی میں نہیں ہیں۔ ہم نے انہیں اوپر جنگل میں پایا ہے۔ آپ فوراً آ جائیں۔"

جواد جب گاؤں پہنچا تو دھند اتنی گھنی تھی کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دیتا تھا۔ وہ بھاگتا ہوا اس مقام پر پہنچا جہاں برکت لکڑیاں کاٹا کرتا تھا۔

منظر دیکھ کر جواد کے قدم وہیں جم گئے۔

سامنے وہ پرانا، ادھ کٹا ہوا درخت کھڑا تھا جس کے ادھورے زخم سے ابھی تک گوند رس رہی تھی۔ برکت وہیں تھا۔ اس نے کلہاڑی ایک طرف پھینک دی تھی اور اپنے دونوں بازو اس تنے کے گرد اس طرح حمائل کر رکھے تھے جیسے کوئی بچھڑا ہوا بچہ برسوں بعد ماں سے مل کر اس کے سینے میں سما جانے کی کوشش کر رہا ہو۔ اس کا سر درخت کے اسی مقام پر جھکا ہوا تھا جہاں کلہاڑی کے گہرے گھاؤ تھے۔

برکت مر چکا تھا، مگر اس کی گرفت تنے پر اتنی مضبوط تھی جیسے وہ درخت سے معافی مانگ رہا ہو، یا شاید وہ اسے اپنی زندگی کی تمام تپش ادھار دے کر خود لکڑی میں تبدیل ہو رہا تھا۔ اس کے چہرے پر کوئی کرب نہیں تھا، بس ایک ایسی خاموشی تھی جو صرف جڑوں کے پاس ہوتی ہے۔

جواد نے اسے پیچھے سے کھینچنے کی کوشش کی، مگر اسے یوں محسوس ہوا جیسے برکت کا گوشت اور درخت کی چھال ایک دوسرے میں ضم ہو چکے ہیں۔ وہ اب ایک انسان کی لاش نہیں تھی، بلکہ اسی ادھ کٹے درخت کا ایک نیا، جیتا جاگتا حصہ تھا۔

پہاڑ پر کہر اتر رہی تھی۔ جواد نے پیچھے مڑ کر دیکھا، جھونپڑی غائب ہو چکی تھی۔ وہاں صرف دھند تھی اور لکڑی کی وہ خوشبو، جو اب جواد کے اپنے کپڑوں سے بھی آنے لگی تھی۔


Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

‏صبر کی طاقت اور کمال

  ‏صبر کی طاقت اور کمال صبر بظاہر ایک چھوٹی سی کرداری خوبی ہے ۔ لیکن صبر کی طاقت اور نتائج سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ صبر ایک خوبی نہیں بلکہ ایک ایسی طاقت ہے کہ آپ بڑے سے بڑے مسئلے کو حل کرستکے ہیں ۔ حضرت ایوب کا صبر اور برداشت مثالی تھا ۔ اسی طرح تاریخ سے صبر کی بے شمار مثالیں موجود ہوں ۔ لیکن آج ہم صبر کے حوالے سے مارش میلو تھیوری پر بات کریں گے۔ استاد نے کلاس کے سب بچوں کو ایک خوب صورت ٹافی دی اور پھر ایک عجیب بات کہی۔ ’’ سنو بچو! آپ سب نے دس منٹ تک اپنی ٹافی نہیں کھانی۔ ‘‘ یہ کہہ کہ وہ کلاس روم سے نکل گئے۔ چند لمحوں کے لیے کلاس میں خاموشی چھاگئی ، ہر بچہ اپنے سامنے پڑی ٹافی کو بے تابی سے دیکھ رہا تھا اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ان کے لیے خود کو روکنا مشکل ہو رہا تھا۔ دس منٹ پورے ہوئے اور استاد نے آ کر کلاس روم کا جائزہ لیا۔ پوری کلاس میں سات بچے ایسے تھے، جن کی ٹافیاں جوں کی توں تھیں، جب کہ باقی تمام بچے ٹافی کھا کر اس کے رنگ اور ذائقے پر تبصرہ کر رہے تھے۔ استاد نے چپکے سے ان سات بچوں کے نام اپنی ڈائری میں نوٹ کیے اور پڑھانا شروع کردیا۔ اس استاد کا نام پروفیسر والٹر مشا...

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر