Skip to main content

کرکٹ میں ہار کا نوحہ



پاکستانی سماج میں کرکٹ محض ایک کھیل نہیں، بلکہ ایک اجتماعی 'کتھارسس' ہے جس کے ذریعے ایک پوری قوم اپنے بکھرے ہوئے خوابوں کی شیرازہ بندی کرتی ہے۔ جب میدان میں ہرا رنگ لہراتا ہے، تو وہ صرف ایک پرچم نہیں ہوتا، بلکہ اس تھکے ہوئے مزدور، کچلے ہوئے طبقے اور ان گنت ان کہی خواہشوں کا استعارہ بن جاتا ہے جنہیں روزمرہ کی تلخیوں نے گنگ کر رکھا ہو۔ یہ کھیل ہمارے لیے ایک ایسی عارضی پناہ گاہ ہے جہاں ہم اپنی تمام تر محرومیاں اور تقسیم در تقسیم شناختیں بھول کر، ایک گیند اور بلے کے گرد اپنی قومی انا کا طواف کرتے ہیں۔
ہمارا جوش ایک ایسی کیمیا گری ہے جو عام سے انسان کو راتوں رات دیوتا بنا دیتی ہے۔ ہم جیت کو فتحِ مبین کی طرح پی جاتے ہیں، جیسے صدیوں کی پیاس بجھ رہی ہو۔ مگر جب ہار دستک دیتی ہے، تو وہ صرف ایک کھیل کا نتیجہ نہیں ہوتی، بلکہ وہ اس آئینے کی طرح ہوتی ہے جو ہمیں ہماری اپنی بے بضاعتی اور بکھرے ہوئے خوابوں کا عکس دکھاتا ہے۔ مایوسی کا وہ بوجھل سایہ جو شکست کے بعد گلیوں میں رقص کرتا ہے، دراصل اس محرومی کا نوحہ ہے جو ہم نے زندگی کے دیگر میدانوں میں سہی ہوتی ہے۔
عجیب بات یہ ہے کہ ہم اس ٹیم سے اس قدر محبت کرتے ہیں کہ اسے معاف نہیں کر پاتے۔ ہماری نفرت بھی دراصل تڑپتی ہوئی محبت کا دوسرا نام ہے۔ ہم ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ ٹی وی سکرینیں نہیں توڑتے، بلکہ اپنے اندر کی اس آخری امید کی کرچیوں کو سمیٹ رہے ہوتے ہیں جو اس کھیل سے جڑی تھی۔
پاکستانی قوم اور کرکٹ کا رشتہ اس مکرر عشق جیسا ہے جس میں ہر بار دھوکا ملنے کا یقین ہو، مگر دل پھر بھی اگلی صبح اسی دہلیز پر دستک دیتا ہے۔ ہم ایک ایسی قوم ہیں جو شکست کے ملبے پر کھڑے ہو کر بھی اگلے میچ کے لیے دعائیں مانگنا شروع کر دیتی ہے۔ شاید اس لیے کہ ہمیں معلوم ہے، زندگی کے سنگلاخ راستوں پر چلتے ہوئے، یہی ایک ہرا میدان ہے جہاں ہم آج بھی معجزوں کے منتظر رہتے ہیں۔
کیا ہم کھیل سے محبت کرتے ہیں، یا اس جیت سے جو ہمیں چند لمحوں کے لیے یہ بھلا دیتی ہے کہ ہم کون ہیں؟ شاید ہمارا اصل المیہ ہارنا نہیں، بلکہ جیت کو اپنی بقا کی اکلوتی سند مان لینا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

جب وہ گیسو سنوارتے ہوں گے

  جب وہ گیسو سنوارتے ہوں گے

مختصر سی زندگی

مختصر سی زندگی محمد نور آسی زندگی بہت مختصر ہے یہ فقرہ تو ہم دن میں شاید کئی بار سنتے ہیں ۔ لیکن کبھی غور نہیں کیا ۔ مختصر کیوں ، کیسے؟ اگر کسی کی عمراللہ کریم نے 50 سال لکھی ہے ، 70 سال لکھی ہے یا 100 سال- تو وہ دنیا میں اتنے ہی سال گذار کر جائے گا۔ پھر مختصر کیوں ہے زندگی ؟ میں کوئی مذہبی سکالر نہیں ۔ لیکن ایک بات جو اپنی کم علمی کے اعتراف کے باوجود جانتا ہوں وہ یہ ہے کہ ہم جب اپنی گذشتہ زندگی پر نظر ڈالتے ہیں تو ایسے لگتا ہے جیسے گذارے گئے دس ، بیس ، تیس سال تو گویا کل کی بات ہے۔ یوں گذرے گئے جیسے اک لمحہ گذرا ہو۔ اسی سے قیاس کرکے جب یہ سوچ ذہن میں آتی ہے کہ جب نزع کا عالم ہو گا تو ممکن ہے اس وقت ہمیں یہی محسوس ہو کہ ہماری 60، 70 زندگی یوں پلک چھپکتے گذر گئی کہ پتہ بھی نہ چلا۔ تو پھر شاید اسی لئے کہتے ہیں کہ زندگی مختصر ہے۔ ہاں سچ ہی تو کہتے ہیں۔ ذرا ایک لمحے کے لئے تصور کیجئے ۔ وہ پہلا دن جب آپ اسکول گئے۔ کل کی بات لگتی ہے نا۔ بے شک سر کے بال سفید ہوگئے یا سفیدی کی جانب سرک رہے ہیں لیکن محسوس ہوتا ہے ابھی تو ہم جوان ہیں۔ کوئی انکل بولے یا آنٹی تو حیرت سی ہوتی ہے۔ ہوتی ہے نا؟ اص...