Skip to main content

رنگ


میں اکثر سوچتا ہوں کہ اگر کائنات سے نام چھین لیے جائیں، تو کیا رنگ باقی بچیں گے؟ ہم نے سرخ کو غصے یا محبت کا پیرہن پہنا دیا اور زرد کو خزاں کی تذلیل سونپ دی، لیکن رنگوں کا اپنا کوئی مسلک نہیں ہوتا۔ وہ تو بس روشنی کے وہ مسافر ہیں جو مادے سے ٹکرا کر اپنی تھکن ظاہر کرتے ہیں۔
میں نے محسوس کیا ہے کہ رنگ مجھ پر طاری نہیں ہوتے، بلکہ میں ان کے اندر سے گزرتا ہوں۔ جب میں کسی گہرے نیلے سمندر کو دیکھتا ہوں، تو میں پانی کو نہیں دیکھ رہا ہوتا، بلکہ اپنے اندر کی اس وسعت کو ڈھونڈ رہا ہوتا ہوں جس کا ابھی کوئی نام نہیں رکھا گیا۔ نیلا رنگ میرے لیے سکون نہیں، بلکہ ایک سوال ہے کہ "تمہاری گہرائی کہاں ختم ہوتی ہے؟"
ہم رنگوں کو باہر تلاش کرتے ہیں، جبکہ رنگ ہمارے اندرونی موسموں کے عکس ہیں۔ جس دن میں اندر سے بنجر ہوتا ہوں، ہرا بھرا باغ بھی مجھے کسی پرانے بلیک اینڈ وائٹ اخبار کی مانند لگتا ہے جس کی سرخیاں مٹ چکی ہوں۔ اور جس دن شعور کے کسی گوشے میں کوئی نئی کھڑکی کھلتی ہے، تو کالی رات کی سیاہی میں بھی مجھے روشنی کے ہزاروں مخفی رنگ رقص کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ سیاہ رنگ اندھیرا نہیں ہے، بلکہ وہ تمام رنگوں کی خاموش یکجائی ہے؛ یہ وہ مقام ہے جہاں پہنچ کر سب رنگ اپنی انفرادیت کھو کر ’واحد‘ ہو جاتے ہیں۔
کیا ہم خود بھی رنگ نہیں ہیں؟ حالات کے منشور (Prism) سے گزرتے ہوئے ہماری شخصیت کبھی شوخ ہوجاتی ہے اور کبھی مدھم۔ کبھی ہم کسی کی زندگی میں قوسِ قزح بن کر بکھر جاتے ہیں اور کبھی کسی کے خاکے میں محض ایک گہرا سایہ بن کر رہ جاتے ہیں۔
حقیقت تو یہ ہے کہ رنگ مادہ نہیں، ایک احساس ہے۔ ایک ایسا احساس جو بصارت سے نہیں، بصیرت سے جڑا ہے۔ ہم نے تو رنگوں کو لباس اور دیواروں تک محدود کر دیا، ورنہ سچ تو یہ ہے کہ خاموشی کا بھی ایک رنگ ہوتا ہے اور سچی بات کا بھی۔
کبھی تنہائی میں بیٹھ کر سوچیے گا، اگر آپ کی روح کا کوئی رنگ ہوتا، تو وہ کیا ہوتا؟ کیا وہ وہی رنگ ہوتا جو آپ کو پسند ہے، یا وہ جس سے آپ ہمیشہ بھاگتے رہے ہیں؟

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

جب وہ گیسو سنوارتے ہوں گے

  جب وہ گیسو سنوارتے ہوں گے

مختصر سی زندگی

مختصر سی زندگی محمد نور آسی زندگی بہت مختصر ہے یہ فقرہ تو ہم دن میں شاید کئی بار سنتے ہیں ۔ لیکن کبھی غور نہیں کیا ۔ مختصر کیوں ، کیسے؟ اگر کسی کی عمراللہ کریم نے 50 سال لکھی ہے ، 70 سال لکھی ہے یا 100 سال- تو وہ دنیا میں اتنے ہی سال گذار کر جائے گا۔ پھر مختصر کیوں ہے زندگی ؟ میں کوئی مذہبی سکالر نہیں ۔ لیکن ایک بات جو اپنی کم علمی کے اعتراف کے باوجود جانتا ہوں وہ یہ ہے کہ ہم جب اپنی گذشتہ زندگی پر نظر ڈالتے ہیں تو ایسے لگتا ہے جیسے گذارے گئے دس ، بیس ، تیس سال تو گویا کل کی بات ہے۔ یوں گذرے گئے جیسے اک لمحہ گذرا ہو۔ اسی سے قیاس کرکے جب یہ سوچ ذہن میں آتی ہے کہ جب نزع کا عالم ہو گا تو ممکن ہے اس وقت ہمیں یہی محسوس ہو کہ ہماری 60، 70 زندگی یوں پلک چھپکتے گذر گئی کہ پتہ بھی نہ چلا۔ تو پھر شاید اسی لئے کہتے ہیں کہ زندگی مختصر ہے۔ ہاں سچ ہی تو کہتے ہیں۔ ذرا ایک لمحے کے لئے تصور کیجئے ۔ وہ پہلا دن جب آپ اسکول گئے۔ کل کی بات لگتی ہے نا۔ بے شک سر کے بال سفید ہوگئے یا سفیدی کی جانب سرک رہے ہیں لیکن محسوس ہوتا ہے ابھی تو ہم جوان ہیں۔ کوئی انکل بولے یا آنٹی تو حیرت سی ہوتی ہے۔ ہوتی ہے نا؟ اص...