Skip to main content

ادھورا آہنگ: وہ گیت جو ابھی گایا نہیں گیا


کبھی کبھی آپ کے اندر ایک ایسی دھن گونجتی ہے جس کا کوئی موسیقار نہیں ہوتا۔ یہ وہ گیت نہیں جو ریڈیو پر بجتا ہے یا جسے کسی نے کاغذ پر اتارا ہو۔ یہ ایک بےآواز ارتعاش ہے جو عین اس وقت بیدار ہوتا ہے جب آپ ہجوم کے درمیان بالکل خاموش کھڑے ہوتے ہیں۔
ہم اسے اکثر 'یاد' یا 'اداسی' کا نام دے کر اس کی وسعت کو محدود کر دیتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ ان امکانات کی دستک ہے جو ابھی وجود میں نہیں آئے۔ یہ دھن ان رستوں کا نقشہ ہے جن پر ہم کبھی چلے نہیں، اور ان لفظوں کا استعارہ ہے جو ہماری زبانوں پر آ کر مکر گئے۔ ہم سب کے اندر ایک ایسی ہی نامکمل تال چل رہی ہے جو ہمیں یہ احساس دلاتی رہتی ہے کہ ہم جو کچھ 'ہیں'، اس سے کہیں زیادہ وہ ہیں جو ہم 'ہو سکتے تھے'۔
حیرت یہ ہے کہ یہ دھن ہمیں بے چین نہیں کرتی، بلکہ ایک عجیب سا سکون دیتی ہے ۔۔۔ بالکل ویسے ہی جیسے کسی پرانی لائبریری میں رکھی ان کتابوں کی خوشبو، جنہیں کبھی کھولا نہ گیا ہو۔ یہ آواز ہمیں بتاتی ہے کہ کائنات محض مادے کا ڈھیر نہیں، بلکہ ایک وسیع گونج ہے جس کا ایک سرا ہمارے دل کی دھڑکن سے جڑا ہے۔
کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ جب آپ اکیلے پن میں گنگناتے ہیں، تو آپ دراصل کسی کو سنا نہیں رہے ہوتے، بلکہ اپنے ہی وجود کی بکھری ہوئی کرچوں کو ایک ترتیب میں لانے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں؟ وہ دھن جو ذہن میں گھومتی رہتی ہے، وہ کوئی بیرونی آواز نہیں، بلکہ آپ کے شعور کا وہ حصہ ہے جو ابھی مٹی سے نہیں ملا۔
شاید ہم سب اس دنیا میں ایک ہی بڑے گیت کے الگ الگ مصرعے ہیں، جو ایک دوسرے سے ملنے کی تڑپ میں بھٹک رہے ہیں۔ اور وہ دھن؟ وہ محض ایک یاددہانی ہے کہ ابھی بہت کچھ سننا باقی ہے۔
اگر آج آپ کے اندر وہ خاموش نغمہ جاگے، تو اسے لفظوں میں قید کرنے کی کوشش مت کیجیے گا۔ بس یہ سوچیے کہ کیا آپ اس دھن کے ساتھ ہم آہنگ ہیں، یا آپ کی زندگی کا شور اسے دبانے کی کوشش کر رہا ہے؟

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

‏صبر کی طاقت اور کمال

  ‏صبر کی طاقت اور کمال صبر بظاہر ایک چھوٹی سی کرداری خوبی ہے ۔ لیکن صبر کی طاقت اور نتائج سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ صبر ایک خوبی نہیں بلکہ ایک ایسی طاقت ہے کہ آپ بڑے سے بڑے مسئلے کو حل کرستکے ہیں ۔ حضرت ایوب کا صبر اور برداشت مثالی تھا ۔ اسی طرح تاریخ سے صبر کی بے شمار مثالیں موجود ہوں ۔ لیکن آج ہم صبر کے حوالے سے مارش میلو تھیوری پر بات کریں گے۔ استاد نے کلاس کے سب بچوں کو ایک خوب صورت ٹافی دی اور پھر ایک عجیب بات کہی۔ ’’ سنو بچو! آپ سب نے دس منٹ تک اپنی ٹافی نہیں کھانی۔ ‘‘ یہ کہہ کہ وہ کلاس روم سے نکل گئے۔ چند لمحوں کے لیے کلاس میں خاموشی چھاگئی ، ہر بچہ اپنے سامنے پڑی ٹافی کو بے تابی سے دیکھ رہا تھا اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ان کے لیے خود کو روکنا مشکل ہو رہا تھا۔ دس منٹ پورے ہوئے اور استاد نے آ کر کلاس روم کا جائزہ لیا۔ پوری کلاس میں سات بچے ایسے تھے، جن کی ٹافیاں جوں کی توں تھیں، جب کہ باقی تمام بچے ٹافی کھا کر اس کے رنگ اور ذائقے پر تبصرہ کر رہے تھے۔ استاد نے چپکے سے ان سات بچوں کے نام اپنی ڈائری میں نوٹ کیے اور پڑھانا شروع کردیا۔ اس استاد کا نام پروفیسر والٹر مشا...

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر