Skip to main content

کتبے پر لکھی ادھوری سطر

 کتبے پر لکھی ادھوری سطر

قبرستان کی مٹی میں ایک عجیب طرح کی ہٹیلی نمی تھی، جو جوتوں کے تلووں سے چمٹ کر ساتھ چلنے کی کوشش کرتی۔ فضا میں نیم کے سوکھے پتوں کے جلنے کی بو تھی یا شاید یہ پرانی یادوں کا تعفن تھا۔ ایک شکستہ قبر کے سرہانے، جہاں صنوبر کا سایہ کسی کٹی ہوئی زبان کی طرح لٹک رہا تھا، وہ چاروں بیٹھے تھے۔

ان کے درمیان کوئی دیا نہیں جل رہا تھا، بلکہ ان کے سیگریٹوں کے دہکتے ہوئے سرے اندھیرے میں چار سرخ آنکھوں کی طرح جھپک رہے تھے۔

"میں نے سنا ہے کہ اس شہر میں اب لوگ مرنا بھول گئے ہیں،" پہلے شخص نے کہا۔ اس کی آواز میں ایسی کھنک تھی جیسے خالی برتن فرش پر گرا ہو۔ "وہ بس کہیں گم ہو جاتے ہیں۔ نہ جنازہ، نہ کتبہ۔ بس ایک خالی کرسی باقی رہ جاتی ہے۔"

دوسرے نے، جس نے اپنے چہرے کو مفلر میں چھپا رکھا تھا، دھواں فضا میں اچھالا۔ "گم ہونا مرنے سے زیادہ خوفناک ہے۔ کم از کم قبر میں یہ تو پتہ ہوتا ہے کہ حد ختم ہو گئی ہے۔ میں اس بستی سے آیا ہوں جہاں ہر شخص نے اپنے ہاتھ میں ایک آئینہ تھام رکھا ہے۔ وہ ایک دوسرے کو نہیں دیکھتے، آئینے میں اپنا عکس دیکھ کر دوسرے کا وجود فرض کر لیتے ہیں۔ وہاں سچائی کی ضرورت ہی نہیں رہی، صرف زاویے رہ گئے ہیں۔"

تیسرا مسافر خاموشی سے زمین پر لکیریں کھینچ رہا تھا۔ اس نے اچانک سر اٹھایا۔ اس کی آنکھوں میں ویرانی نہیں، بلکہ ایک وحشت ناک چمک تھی۔ "تمہارے آئینے اور تمہاری خالی کرسیاں۔۔۔ سب فرار کے راستے ہیں۔ میں نے ایک ایسے بوڑھے کو دیکھا جو عمر بھر ایک دیوار تعمیر کرتا رہا تاکہ ہوا کا راستہ روک سکے۔ جب دیوار مکمل ہوئی، تو اسے پتہ چلا کہ ہوا تو باہر رہ گئی، مگر وہ خود اندر گھٹ کر مر رہا ہے۔ ہم سب بھی تو اپنی اپنی دیواروں کے اسیر ہیں۔ ہم یہاں بیٹھے سچ ڈھونڈ رہے ہیں، جبکہ سچ شاید وہ 'درز' ہے جو ان دیواروں میں رہ گئی ہے۔"

سب سے کم عمر مسافر، جو اب تک صنوبر کی ٹہنی سے کھیل رہا تھا، تلخی سے مسکرایا۔ "میں نے آج صبح ایک جنازہ دیکھا تھا،" اس نے دھیمے لہجے میں کہا۔ "تابوت خالی تھا، مگر کندھا دینے والوں کے پسینے چھوٹ رہے تھے۔ میں نے پوچھا کہ بوجھ کس چیز کا ہے؟ تو ایک بوڑھے نے کہا، 'بیٹا، اس میں وہ وعدے دفن ہیں جو ہم نے خود سے کیے تھے۔ یادیں انسان سے زیادہ وزنی ہوتی ہیں۔'"

ایک طویل سکوت چھا گیا۔ اب کوئی گفتگو نہیں تھی۔ ہوا کا ایک جھونکا آیا اور ان کے سیگریٹوں کی راکھ اڑا کر مٹی میں ملا گیا۔

"کیا ہم یہاں کسی کا انتظار کر رہے ہیں؟" پہلے مسافر نے پوچھا۔

"نہیں،" دوسرے نے جواب دیا۔ "ہم صرف یہ دیکھ رہے ہیں کہ ہم میں سے پہلے کون اٹھ کر اس اندھیرے کا حصہ بنتا ہے۔"

دور کہیں کسی پرندے نے پر پھڑپھڑائے۔ افق پر سفیدی نہیں پھیلی تھی، بلکہ سیاہی کا رنگ ذرا مدھم پڑ کر سرمئی ہونے لگا تھا۔ یہ سحر نہیں تھی، محض رات کا تھک جانا تھا۔

وہ چاروں ایک ایک کر کے اٹھے۔ کوئی الوداعی جملہ نہیں، کوئی مصافحہ نہیں۔ وہ مختلف سمتوں میں چل دیے۔ ان کے قدموں کی آواز مٹی کی نمی میں جذب ہوتی گئی۔

جب اجالا ہوا، تو وہاں نہ کوئی راکھ کا ڈھیر تھا اور نہ قدموں کے نشان۔ صرف صنوبر کے درخت کے نیچے ایک پرانا کتبہ تھا، جس پر کوئی نام نہیں لکھا تھا۔ وہاں صرف ایک ادھوری سطر کندہ تھی: "مسافر وہ نہیں جو راستہ چلے، مسافر وہ ہے جسے راستہ کھا جائے۔"

ہوا چلی اور کتبے پر جمی ہوئی مٹی اڑ کر اس سطر کو مٹانے لگی۔ کائنات کا طربیہ جاری تھا۔

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

اے شہنشاہِ زمنﷺ

  اے شہنشاہِ زمنﷺ

پہلا روزہ

پہلا روزہ محمد نور آسی ہمیں نہ تو کسی نے مجبور کیا ، بہت ضد کی یا منت سماجت کی کہ خدا کے اپنے پہلے روزے کے بارے میں  اپنا ایک ادبی  شاہکار  اپنے "زورقلم اور زیادہ " والے قلم  سے  عنائت کریں  اور نہ ہی کسی نے ان باکس میں کوئی مسیج کیا نہ کسی نے ٹیک کیا۔  پھربھی پتہ نہیں کیوں ہم نے یہ تحریرلکھی ہے بلکہ اپنے ایک عدد بوسیدہ بلکہ خزان رسیدہ  بلاگ پر بھی ڈال دی ۔۔۔۔۔۔۔۔ پہلاروزہ رکھے ویسے تو اب اتنے سال بیت گئے ہیں کہ بہت ساری تفصیلات ذہن میں نہیں تاہم ماہ رمضان سے جڑے اپنے بچپن کے کچھ ایسے واقعات ضرور یاد ہیں جو کل کی طرح تازہ لگتے ہیں۔  پہلا روزہ جب رکھا تو یہ یاد نہیں کہ کیا کھایا کیا پیا البتہ شام کو جو آؤ بھگت ہوئی وہ نہیں بھولتی ۔  گھروالوں کے علاوہ خصوصا خالہ ، پھوپھو اور کزن نے جو تحائف پھلوں اور دیگر کھانے کی اشیاء اور نقدی  کی صورت میں دیے تو  دل کرتا تھا اب روزانہ روزہ ہی رکھیں گے ۔ وہ تو امی آڑے آ جاتی کہ معصوم جان اور سخت گرمی ۔ بس ایک روزہ کافی ہے ۔ ہاں جس دن موسم ٹھیک ہو گا اس دن رکھ لینا ۔ جمعے کا روزہ ضد کرکے ر...