Skip to main content

غذائی تہوار یا ماہ رمضان

 

ابھی شعبان المعظم  کا آخری ہفتہ شروع ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں ایک عجیب سی 'صالحانہ افراتفری' کا آغاز ہو جاتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہلالِ رمضان کی رویت کا اعلان نہیں ہونے والا، بلکہ کسی ایٹمی جنگ کی پیشگی اطلاع مل چکی ہے اور پوری قوم نے اگلے تیس دن کسی زیرِ زمین بنکر میں محصور ہو کر گزارنے ہیں۔ بازاروں کا نقشہ بدل جاتا ہے، گلیوں کا مزاج بگڑ جاتا ہے اور عام آدمی کا 'تقویٰ' اچانک کچن بھرنے کی تگ و دو میں بدل جاتا ہے۔

ہمارے ہاں رمضان کی تیاری کا فلسفہ یہ ہے کہ دن بھر بھوکا پیا سا رہنا ہے  سو افطاری کے لئے ہر وہ چیز خرید لو جو کھانے پینے والی ہے اور کچن کو اتنا بھر دو کہ الماریوں کے دروازے بند کرنا محال ہو جائے۔ بازار میں مچنے والا وہ غدر دیکھ کر گمان گزرتا ہے کہ شاید محکمہ خوراک نے اعلان کر دیا ہے کہ یکم رمضان سے آٹا، چینی اور گھی، سبزی  خریدنا  قانوناً جرم قرار دے دیا جائے گا، اس لیے جو سمیٹنا ہے، ابھی سمیٹ لو۔ خواتین کی ہمت کی داد دینی پڑتی ہے جوسرد و گرم ماحول میں ایسے خریداری کرتی ہیں جیسے وہ کوئی افطاری نہیں، بلکہ پورے محلے کی دعوتِ ولیمہ کی تیاری کر رہی ہوں۔ ٹرالیوں میں بیسن کے اتنے تھیلے لدے ہوتے ہیں کہ بندہ سوچتا ہے، اگر خدانخواستہ کہیں کوئی دیوار گر جائے تو اس بیسن سے پوری عمارت دوبارہ تعمیر کی جا سکتی ہے۔

ادھر دکانداروں کا عالم یہ ہے کہ وہ 'خلقِ خدا' کی خدمت کے جذبے سے اتنے مغلوب ہو جاتے ہیں کہ راتوں رات قیمتوں کو پر لگ جاتے ہیں۔ ان کی نفسیات دانی کمال کی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ اس مہینے میں مومن کی جیب سے پیسے نکلوانا کتنا سہل ہے۔ وہ دس روپے کی چیز پر تیس روپے کا ٹیگ لگاتے ہیں اور پھر اس پر 'رمضان ڈسکاؤنٹ' کی مہر ثبت کر کے اسے بیس روپے میں 'سیل' کر دیتے ہیں۔ خریدار خوش کہ اس نے دس روپے بچا لیے، اور دکاندار نہال کہ اس نے ڈبل کما لیے۔ یہ وہ تجارت ہے جس میں دونوں فریقین ایک دوسرے کو بیوقوف بنا کر 'ثواب' دارین حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

افسوس تو اس بات کا ہے کہ ہم نے 'صبر' کے مہینے کو 'شکم پری' کا میلہ بنا دیا ہے۔ سحری کی فکر عشا سے شروع ہو جاتی ہے اور افطاری کی منصوبہ بندی فجر کے فوراً بعد۔ وہ پکوڑے، وہ سموسے، وہ دہی بھلے اور وہ چاٹیں، چٹنیاں! یوں لگتا ہے جیسے معدہ نہیں، کوئی ہائیڈرو پاور پلانٹ ہے جسے چلانے کے لیے تیل اور مرچ مصالحوں کی مسلسل سپلائی درکار ہے۔ ٹی وی چینلز پر 'شیفس' کا وہ ہجوم نظر آتا ہے جو ایسے ایسے لوازمات بتاتے ہیں کہ روزہ دار کو پیاس سے زیادہ اپنی کم مائیگی کا احساس ہونے لگتا ہے۔

وہ مہینہ جس میں ہمیں اپنی روح کو خوراک دینی تھی، اس میں ہم نے اپنے دسترخوانوں کو اتنا وسیع کر لیا کہ پڑوسی کا دکھ دکھائی دینا ہی بند ہو گیا۔ بازار کا رش، دھکم پیل، لڑائی جھگڑے اور گالی گلوچ ۔۔ یہ سب اس لیے کہ 'افطاری کا سامان' کم نہ پڑ جائے۔

ابھی عصر کی اذان کی گونج فضاؤں میں ٹھیک سے رچی بھی نہیں ہوتی کہ معاشرے کا درجہ حرارت اچانک 'نقطۂ ابال' کو چھونے لگتا ہے۔ وہ قوم جو صبح سحری میں سنتِ نبویؐ کی پیروی کا دعویٰ کرتے ہوئے پیٹ بھر کر دہی اور پراٹھے نوش کرتی ہے، عصر کے بعد اس کا 'تقویٰ' بلڈ پریشر کی شکل اختیار کر کے کنپٹیوں پر ناچنے لگتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے روزہ اللہ کی رضا کے لیے نہیں رکھا گیا، بلکہ معاشرے پر کوئی بہت بڑا احسان کیا گیا ہے جس کا بدلہ ہر راہ چلتے شخص سے وصول کرنا لازم ہے۔

افطاری سے ایک گھنٹہ قبل سڑکوں کا منظر کسی ہالی ووڈ کی ایکشن فلم سے کم نہیں ہوتا۔ ہر شخص کی گاڑی، موٹر سائیکل یا سائیکل اس رفتار سے دوڑ رہی ہوتی ہے جیسے اگر وہ پانچ منٹ تاخیر سے گھر پہنچا تو شاید سموسے ٹھنڈے ہو کر احتجاجاً کڑھائی میں واپس کود جائیں گے۔ ٹریفک سگنل پر کھڑا ہونا تو جیسے گناہِ کبیرہ بن جاتا ہے۔ پیلے سگنل پر گاڑی روکنے والے کو پیچھے سے آنے والے روزہ دار ایسی ایسی 'نورانی' صلواتیں سناتے ہیں کہ شیطان بھی شرما کر سائیڈ پر ہو جائے۔

ایک صاحب موٹر سائیکل پر پانچ کلو دہی کا تھیلا لٹکائے، مچھلی کی طرح ٹریفک کے درمیان سے راستہ بناتے ہوئے نکل رہے ہیں، تو دوسرے صاحب کار کا ہارن ایسے بجا رہے ہیں جیسے اس کی آواز سے راستہ خود بخود پھٹ کر بحیرہ قلزم کی طرح دو حصوں میں تقسیم ہو جائے گا۔ اس افراتفری میں گالم گلوچ اور منہ ماری ایک لازمی جزو بن چکی ہے۔ "بھائی صاحب! روزہ ہے میرا، دماغ مت چاٹیں"--- یہ وہ جملہ ہے جو ہر اس بدتمیزی کے بعد بولا جاتا ہے جس کی اجازت اسلام تو کیا، انسانیت بھی نہیں دیتی۔ گویا روزہ ایک 'لائسنس ٹو کِل' ہے کہ آپ کسی کی بھی پگڑی اچھال دیں کیونکہ آپ بھوکے ہیں۔

کمالِ زہد تو دیکھیے کہ یہی غصہ مسجد کی دہلیز تک بھی پیچھا کرتا ہے۔ مسجد میں افطاری کا دسترخوان بچھا ہے، روح پرور منظر ہونا چاہیے، مگر وہاں بھی 'خانہ جنگی' کے آثار نمایاں ہوتے ہیں۔ خربوزے کی قاش پر نظریں ایسے جمی ہوتی ہیں جیسے وہ کوئی مالِ غنیمت ہو۔ اگر خدانخواستہ کسی بچے کا پاؤں دسترخوان پر پڑے ہوئے کھجور کے پیالے سے مس ہو جائے، تو اس معصوم پر وہ 'تبرا' بھیجا جاتا ہے کہ بقیہ روزہ داروں کا وضو خطرے میں پڑ جائے۔

صفِ اول میں جگہ پانے کی تگ و دو میں ایک دوسرے کو کہنیاں مارنا اور ضعیفوں کو پیچھے دھکیلنا اب معمول بن چکا ہے۔ عجیب تضاد ہے؛ پیٹ خالی ہے مگر انا آسمان پر ہے۔ ہم تسبیح کے دانوں پر تو استغفار پڑھ رہے ہوتے ہیں، لیکن برابر میں بیٹھے بھائی کے لیے دل میں وہ کدورت پال لیتے ہیں کہ اگر وہ افطاری میں آپ کے حصے کا پکوڑا اٹھا لے تو شاید ہم مسجد ہی میں 'رستم و سہراب' کا معرکہ برپا کر دیں۔

رمضان میں ہماری 'نازک مزاجی' کا عالم یہ ہے کہ گھر میں بیگم سے نمک کم ہونے پر دسترخوان الٹ دیا جاتا ہے اور دفتر میں ماتحت کی معمولی غلطی پر اسے 'جہنم رسید' کرنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ روزے کا مقصد 'نفس کی سرکوبی' تھا، نہ کہ 'نفس کی سرکشی'۔ ہم نے صبر کو صرف کھانے پینے تک محدود کر دیا، جبکہ زبان اور اخلاق کو 'عام تعطیل' دے دی۔

افطاری کے بعد جب پیٹ کسی ڈھول کی طرح تن جاتا ہے، تو سستی اور کاہلی کا وہ دورہ پڑتا ہے کہ عشا اور تراویح بوجھ محسوس ہونے لگتی ہیں۔ وہ تمام توانائیاں جو سارا دن 'خریداری کے جہاد' اور 'سڑکوں کی لڑائی' میں صرف کی گئی تھیں، اب جواب دے جاتی ہیں۔ ہم ڈکار لیتے ہوئے خود کو تسلی دیتے ہیں کہ "الحمدللہ، آج کا روزہ بہت اچھا گزرا"۔

حقیقت تو یہ ہے کہ ہم نے رمضان کو ایک 'غذائی تہوار' بنا دیا ہے۔ دکاندار کی لوٹ مار سے لے کر گاہک کی چھینا جھپٹی تک، اور سڑک کی بدتمیزی سے لے کر گھر کی بدمزگی تک ۔۔ کیا یہی وہ تربیت ہے جو یہ مقدس مہینہ ہمیں دینے آیا تھا؟ اگر ہم تیس دن بھوکا رہ کر بھی اپنے لہجے میں مٹھاس اور اپنے رویے میں برداشت پیدا نہیں کر سکے، تو ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہم نے 'روزہ' رکھا تھا یا محض 'بھوکے پیاسے رہ کر وقت گزارا تھا؟

سودا سلف کی بوریاں بھرنے سے بہتر ہے کہ ہم اپنے ظرف کے برتن کو تھوڑا بڑا کریں۔ کیونکہ اللہ کے ہاں پکوڑوں کی تعداد نہیں، دلوں کا تقویٰ دیکھا جائے گا۔ اور تقویٰ بازار کے رش میں نہیں، انسان کے اپنے اندر کے سکون میں ملتا ہے۔


Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

جب وہ گیسو سنوارتے ہوں گے

  جب وہ گیسو سنوارتے ہوں گے

مختصر سی زندگی

مختصر سی زندگی محمد نور آسی زندگی بہت مختصر ہے یہ فقرہ تو ہم دن میں شاید کئی بار سنتے ہیں ۔ لیکن کبھی غور نہیں کیا ۔ مختصر کیوں ، کیسے؟ اگر کسی کی عمراللہ کریم نے 50 سال لکھی ہے ، 70 سال لکھی ہے یا 100 سال- تو وہ دنیا میں اتنے ہی سال گذار کر جائے گا۔ پھر مختصر کیوں ہے زندگی ؟ میں کوئی مذہبی سکالر نہیں ۔ لیکن ایک بات جو اپنی کم علمی کے اعتراف کے باوجود جانتا ہوں وہ یہ ہے کہ ہم جب اپنی گذشتہ زندگی پر نظر ڈالتے ہیں تو ایسے لگتا ہے جیسے گذارے گئے دس ، بیس ، تیس سال تو گویا کل کی بات ہے۔ یوں گذرے گئے جیسے اک لمحہ گذرا ہو۔ اسی سے قیاس کرکے جب یہ سوچ ذہن میں آتی ہے کہ جب نزع کا عالم ہو گا تو ممکن ہے اس وقت ہمیں یہی محسوس ہو کہ ہماری 60، 70 زندگی یوں پلک چھپکتے گذر گئی کہ پتہ بھی نہ چلا۔ تو پھر شاید اسی لئے کہتے ہیں کہ زندگی مختصر ہے۔ ہاں سچ ہی تو کہتے ہیں۔ ذرا ایک لمحے کے لئے تصور کیجئے ۔ وہ پہلا دن جب آپ اسکول گئے۔ کل کی بات لگتی ہے نا۔ بے شک سر کے بال سفید ہوگئے یا سفیدی کی جانب سرک رہے ہیں لیکن محسوس ہوتا ہے ابھی تو ہم جوان ہیں۔ کوئی انکل بولے یا آنٹی تو حیرت سی ہوتی ہے۔ ہوتی ہے نا؟ اص...