Skip to main content

خاندانی تصویری البم

 

پرانی تصویروں کی وہ بوسیدہ البم، جو الماری کے کسی اندھیرے گوشے میں دبے ہوئے 'خاندانی راز' کی طرح پڑی ہوتی ہے، دراصل ایک ایسی پٹاری ہے جسے کھولتے ہی ماضی کی روحیں چیخ و پکار شروع کر دیتی ہیں۔ آج کے دور میں جہاں سمارٹ فون کی گیلری میں ہزاروں تصویریں 'کلاؤڈ' پر تیر رہی ہیں، اس پرانی البم کی حیثیت اس ریٹائرڈ بزرگ جیسی ہے جو گھر کے کونے میں بیٹھا خاموشی سے نئی نسل کی بے راہ روی پر کڑھتا رہتا ہے۔

اس البم کو کھولنے کا مطلب ہے کہ آپ نے خود اپنے خلاف گواہیاں اکٹھی کرنے کا رسک لے لیا ہے۔ پہلا صفحہ الٹتے ہی جو پہلی تصویر سامنے آتی ہے، وہ عام طور پر کسی ایسی 'تقریبِ سعید' کی ہوتی ہے جس میں آپ کے ابا جی نے کلف لگی شلوار قمیض پہن رکھی ہوتی ہے اور ان کے بالوں کا سٹائل دیکھ کر گمان ہوتا ہے کہ اس زمانے میں حجام کے پاس صرف ایک ہی ڈیزائن  ہوتا تھا، اور وہ تھا 'کٹورا کٹ'۔ ابا جی کی اس تصویر میں جو رعب اور دبدبہ نظر آتا ہے، وہ آج کے 'فلٹرز' اور 'ایڈٹنگ' کے دور میں ناپید ہے۔ اس وقت کی کیمرہ مین کی ہدایات بھی بڑی جابرانہ ہوتی تھیں۔ "ہلئے گا مت"، "سانس روک لیں"، "نظریں سامنے"۔ بندہ تصویر کھنچواتے وقت ایسا محسوس کرتا تھا جیسے اسے پھانسی کے پھندے پر چڑھایا جا رہا ہو، یہی وجہ ہے کہ ان تصویروں میں سب کے چہرے ایسے سپاٹ ہوتے ہیں جیسے ابھی ابھی محلے کے کسی شرارتی لڑکے نے ان کی سائیکل کی ہوا نکالی ہو۔

پھر باری آتی ہے بچپن کی ان تصویروں کی، جنہیں دیکھ کر انسان کو اپنی شرافت پر سے اعتبار اٹھ جاتا ہے۔ تصویر میں آپ برہنہ حالت میں ایک تپائی پر بیٹھے ہوتے ہیں اور آپ کی نظریں کسی نامعلوم خوف کی وجہ سے چھت کی طرف اٹکی ہوتی ہیں۔ اس زمانے کی فوٹوگرافی میں 'بچے کی معصومیت' دکھانے کا سب سے مقبول طریقہ اسے ننگا کر کے کسی مصنوعی گھاس یا پلاسٹک کے پھولوں کے درمیان بٹھانا تھا۔ آج جب آپ وہ تصویر دیکھتے ہیں تو دل چاہتا ہے کہ اس البم کو وہیں دفن کر دیں، مگر ساتھ بیٹھی بیگم یا دوستوں کا قہقہہ آپ کو یہ باور کروا دیتا ہے کہ آپ کی 'تاریخی ذلت' کا ریکارڈ محفوظ ہاتھوں میں ہے۔

ان پرانی البموں میں ایک خاص قسم کی تصویر ہوتی ہے جسے ہم 'گروپ فوٹو' کہہ سکتے ہیں۔ اس میں خاندان کے تمام چاچے، مامے، تائے اور پھوپھیاں ایسے جڑے ہوئے بیٹھے ہوتے ہیں جیسے ایلفی سے چپکا دیے گئے ہوں۔ اس تصویر کی سب سے بڑی خوبی یہ ہوتی ہے کہ اس میں کوئی ایک فرد ضرور ایسا ہوتا ہے جس کی آنکھیں آدھی کھلی ہوتی ہیں یا اس نے عین اسی وقت چھینک ماری ہوتی ہے جب کیمرے کا فلیش چمکا تھا۔ وہ بے چارہ عمر بھر اسی ایک تصویر کی وجہ سے خاندان بھر میں الٹے سیدھے ناموں سے مشہور رہتا ہے۔

اس زمانے کے فیشن پر بات نہ کرنا زیادتی ہوگی۔ بڑے بڑے کالر والی قمیضیں، اتنی کھلی پینٹیں کہ جن کے ایک پائنچے میں آج کی نسل کا پورا خاندان سما جائے، اور آنکھوں پر وہ چوڑے فریم والے چشمے جو آج کل صرف لیبارٹری کے سائنسدان پہنتے ہیں۔ ان تصویروں کو دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ انسان ارتقائی عمل سے نہیں گزرا، بلکہ اس نے فیشن کے نام پر خود پر بڑے بڑے تجربات کیے ہیں۔ کسی تصویر میں آپ کے بڑے بھائی نے 'بیل باٹم' پہن کر ایسی پوز دی ہوتی ہے جیسے وہ ہالی ووڈ کا کوئی ناکام ہیرو ہو، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت وہ صرف گلی کے کونے والے تندور سے روٹیاں لینے جا رہا تھا۔

پرانی تصویروں کا ایک اور پہلو ان کا رنگ ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان کا کالا سفید رنگ اب زردی مائل ہو چکا ہے، جیسے انہیں یرقان ہو گیا ہو۔ لیکن اس زردی میں جو خوشبو ہے، وہ آج کے ڈیجیٹل پکسلز میں کہاں؟ وہ کاغذ کی کھردراہٹ، وہ کونوں سے مڑی ہوئی تصویریں اور ان کے پیچھے پنسل سے لکھی ہوئی تاریخیں۔۔۔ "یادگارِ شادیِ خانہ آبادی"، "پپو کی پہلی سالگرہ"۔ یہ صرف تصویریں نہیں ہیں، یہ وہ وقت ہے جو رک گیا ہے۔

جب ہم پرانی البم کے درمیانی صفحات تک پہنچتے ہیں، تو وہاں سے وہ دور شروع ہوتا ہے جسے 'خاندانی سفارت کاری' کا دور کہا جا سکتا ہے۔ ان صفحات پر ایسی تصویریں ملتی ہیں جنہیں دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ فوٹو گرافر دراصل کوئی کیمرہ مین نہیں بلکہ کسی بین الاقوامی عدالت کا جج تھا، جس نے کمالِ ہوشیاری سے دو ایسے دشمنوں کو ایک ہی فریم میں کھڑا کر دیا ہے جو عام زندگی میں ایک دوسرے کی شکل دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے تھے۔ مثال کے طور پر، آپ کی بڑی پھوپھی اور چچی کی وہ یادگار تصویر، جس میں دونوں کے چہروں پر ایسی مصنوعی مسکراہٹ سجی ہے جیسے کسی نے زبردستی ان کے منہ میں میٹھی گولیاں ٹھونس دی ہوں۔ دونوں کے درمیان فاصلہ اتنا ہی ہے جتنا ایک ایٹمی طاقت اور اس کے پڑوسی کے درمیان ہوتا ہے، مگر تصویر میں دونوں نے ایک دوسرے کے کندھے پر ہاتھ یوں رکھا ہوا ہے جیسے ابھی ابھی امن کا نوبل انعام جیت کر آئی ہوں۔

اس حصے میں شادیوں کی وہ تصاویر بھی نمایاں ہوتی ہیں جہاں 'کھانے کی میز' پر قبضے کی جنگ دکھائی دیتی ہے۔ ان بلیک اینڈ وائٹ تصویروں میں سب سے زیادہ دلچسپ وہ مناظر ہیں جہاں کوئی دور کا رشتہ دار ہاتھ میں بوٹی پکڑے، منہ کھولے، کیمرے کی طرف حیرت سے دیکھ رہا ہوتا ہے۔ اس بے چارے کو کیا معلوم تھا کہ اس کا یہ 'جذباتی لمحہ' آنے والی نسلوں کے لیے تفریح کا سامان بن جائے گا۔ شادیوں کی ان تصاویر میں دولہا اور دلہن کی حالت بھی قابلِ رحم ہوتی تھی۔ بیچارہ دولہا اتنے بھاری ہاروں میں جکڑا ہوتا تھا کہ اس کی گردن صرف تصویر کھنچوانے کے لیے سیدھی رہتی تھی، ورنہ بوجھ سے اس کا حال کسی تھکے ہوئے مزدور جیسا ہوتا۔ اور دلہن کا میک اپ؟ وہ تو گویا کسی ماہرِ تعمیرات نے سیمنٹ اور چونا ملا کر چہرے پر ایک نئی دیوار کھڑی کر دی ہوتی تھی۔ ان تصویروں کو دیکھ کر آج کی بیٹیاں اپنی ماؤں سے پوچھتی ہیں، "امی! کیا اس وقت بیوٹی پارلر میں صرف 'سفید چونا' ہی دستیاب تھا؟"

پھر البم میں کچھ ایسی تصویریں آتی ہیں جنہیں 'پکنک سپیشل' کہا جا سکتا ہے۔ مری یا کاغان کی ان تصویروں میں پورا خاندان کسی آبشار کے سامنے کھڑا ہوتا ہے۔ ابا جی نے وہ مخصوص 'سویٹر' پہن رکھا ہوتا ہے جو دادی جان نے تین سال پہلے بنا تھا اور جس کی آستینیں اب ابا جی کی کہنیوں تک پہنچ چکی ہوتی تھیں۔ ان تصویروں میں قدرت کے مناظر کم اور خاندان کے افراد کا 'جاہ و جلال' زیادہ نظر آتا ہے۔ کسی چٹان پر کھڑے ہو کر پوز دینا اس وقت بہادری کی معراج سمجھا جاتا تھا، چاہے اس چٹان کے نیچے صرف دو فٹ گہرا نالہ ہی کیوں نہ بہہ رہا ہو۔

ان پرانی تصویروں کا ایک اور المیہ 'فوٹو سٹوڈیو' کے پسِ منظر ہیں۔ سٹوڈیو کا وہ پردہ جس پر کسی فرضی جھیل، پہاڑ یا تاج محل کی تصویر بنی ہوتی تھی، اس دور کی عیاشیوں کا کل سرمایہ تھا۔ آپ لاہور کے کسی تنگ محلے میں رہتے ہوں، مگر تصویر میں آپ پیرس کے آئیفل ٹاور کے سامنے کھڑے نظر آتے تھے۔ یہ وہ معصوم دھوکہ دہی تھی جس پر نہ کبھی کسی نے اعتراض کیا اور نہ کبھی کسی نے اسے جھوٹ سمجھا۔ سٹوڈیو کا وہ لکڑی کا گھوڑا جس پر بیٹھ کر ہر بچے نے 'فاتحِ عالم' بننے کی اداکاری کی ہوتی ہے، آج بھی ان البموں میں ہنہناتا محسوس ہوتا ہے۔

اس البم کے آخری صفحات تک پہنچتے پہنچتے انسان کی ہنسی تھمنے لگتی ہے اور ایک عجیب سی اداسی دل میں گھر کرنے لگتی ہے۔ یہاں وہ بزرگ نظر آتے ہیں جن کی دعا پانے کے لیے ہم کبھی ترستے تھے، اور جو اب صرف ان کاغذ کے ٹکڑوں میں قید رہ گئے ہیں۔ دادا جان کی وہ تصویر جس میں وہ حقہ پی رہے ہیں، یا نانی اماں کی وہ تصویر جس میں وہ تسبیح پڑھ رہی ہیں، یہ صرف عکس نہیں بلکہ ایک پورے عہد کی گواہی ہیں۔ ان تصویروں سے وہ مٹی کی خوشبو آتی ہے جو اب سیمنٹ کے جنگلوں میں دفن ہو چکی ہے۔ ان بزرگوں کی آنکھوں میں جو اطمینان اور ٹھہراؤ تھا، وہ آج کے 'سیلفی' زدہ چہروں پر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا۔

آج کل ہم ہزاروں تصویریں کھینچتے ہیں، انہیں فلٹرز سے سجاتے ہیں اور پھر 'ڈیلیٹ' کر دیتے ہیں۔ ہماری یادیں اب 'میموری کارڈ' کی محتاج ہیں جو ایک ذرا سے جھٹکے سے غائب ہو سکتی ہیں۔ مگر وہ پرانی البم، جس کے پلاسٹک کور اب پھٹ چکے ہیں اور جس کی بائنڈنگ ادھڑ رہی ہے، وہ ایک مضبوط قلعہ ہے جس میں ہمارا ماضی محفوظ ہے۔ اسے دیکھ کر جہاں ہمیں اپنے 'عجیب و غریب' فیشن پر ہنسی آتی ہے، وہیں یہ احساس بھی ہوتا ہے کہ ہم نے کتنا طویل سفر طے کر لیا ہے۔

یہ البم دراصل ایک آئینے کی طرح ہے، جس میں ہم نہ صرف اپنا بچپن دیکھتے ہیں بلکہ ان لوگوں کو بھی دیکھتے ہیں جنہوں نے ہمیں 'ہم' بنایا۔ یہ تصویریں ہمیں بتاتی ہیں کہ ہنسنا کتنا سستا تھا اور خوش رہنا کتنا آسان۔ چاہے ہمارے کپڑے بے ڈھنگے تھے، چاہے ہمارے بال بکھرے ہوئے تھے اور چاہے سٹوڈیو کا پسِ منظر نقلی تھا، مگر ان تصویروں میں موجود 'جذبات' بالکل اصلی تھے۔

پرانی البم بند کرتے وقت ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہم نے وقت کی مشین سے نکل کر دوبارہ حال کی تلخ حقیقتوں میں قدم رکھ دیا ہو۔ مگر وہ ایک گھنٹہ جو ہم نے ان بوسیدہ صفحات کے ساتھ گزارا، وہ ہمیں یہ سکھا گیا کہ زندگی 'پکسلز' میں نہیں بلکہ 'ساعتوں' میں چھپی ہوتی ہے، اور ان ساعتوں  کو قید کرنے کے لیے مہنگے کیمرے کی نہیں بلکہ ایک سچی مسکراہٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔


Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

جب وہ گیسو سنوارتے ہوں گے

  جب وہ گیسو سنوارتے ہوں گے

مختصر سی زندگی

مختصر سی زندگی محمد نور آسی زندگی بہت مختصر ہے یہ فقرہ تو ہم دن میں شاید کئی بار سنتے ہیں ۔ لیکن کبھی غور نہیں کیا ۔ مختصر کیوں ، کیسے؟ اگر کسی کی عمراللہ کریم نے 50 سال لکھی ہے ، 70 سال لکھی ہے یا 100 سال- تو وہ دنیا میں اتنے ہی سال گذار کر جائے گا۔ پھر مختصر کیوں ہے زندگی ؟ میں کوئی مذہبی سکالر نہیں ۔ لیکن ایک بات جو اپنی کم علمی کے اعتراف کے باوجود جانتا ہوں وہ یہ ہے کہ ہم جب اپنی گذشتہ زندگی پر نظر ڈالتے ہیں تو ایسے لگتا ہے جیسے گذارے گئے دس ، بیس ، تیس سال تو گویا کل کی بات ہے۔ یوں گذرے گئے جیسے اک لمحہ گذرا ہو۔ اسی سے قیاس کرکے جب یہ سوچ ذہن میں آتی ہے کہ جب نزع کا عالم ہو گا تو ممکن ہے اس وقت ہمیں یہی محسوس ہو کہ ہماری 60، 70 زندگی یوں پلک چھپکتے گذر گئی کہ پتہ بھی نہ چلا۔ تو پھر شاید اسی لئے کہتے ہیں کہ زندگی مختصر ہے۔ ہاں سچ ہی تو کہتے ہیں۔ ذرا ایک لمحے کے لئے تصور کیجئے ۔ وہ پہلا دن جب آپ اسکول گئے۔ کل کی بات لگتی ہے نا۔ بے شک سر کے بال سفید ہوگئے یا سفیدی کی جانب سرک رہے ہیں لیکن محسوس ہوتا ہے ابھی تو ہم جوان ہیں۔ کوئی انکل بولے یا آنٹی تو حیرت سی ہوتی ہے۔ ہوتی ہے نا؟ اص...