Skip to main content

کتابوں میں رکھی پھول کی پتیاں




کتابوں کے بند صفحات کے درمیان دبی ہوئی وہ سوکھی پتیاں محض کسی بیتے ہوئے لمحے کی لاشیں نہیں ہوتیں، بلکہ وہ اس 'ان دیکھے ہاتھ' کا پتا دیتی ہیں جس نے انہیں وقت کی قید سے چھڑانے کی کوشش کی تھی۔ جب ایک زندہ پھول کتاب کی آغوش میں دم توڑتا ہے، تو وہ اپنی خوشبو اور نمی کے عوض الفاظ کو ایک جسم عطا کر دیتا ہے۔ جس صفحے پر کوئی پتی سوکھ جائے، وہاں کے حروف باقی کتاب سے زیادہ گہرے اور معتبر ہو جاتے ہیں۔

مگر سوال یہ ہے کہ اسے وہاں کس نے رکھا ہوگا؟ شاید کوئی ایسی ہستی جس کے پاس اپنی بات کہنے کے لیے لفظ کم پڑ گئے تھے، یا شاید وہ جس نے کسی بہت عزیز جملے کو پھول کا صدقہ دے کر ہمیشہ کے لیے معتبر کرنا چاہا ہو۔ وہ خود اب کہاں ہوگا؟ زندگی کی بھیڑ میں کہیں گم، یا شاید وقت کی کسی دوسری کتاب کے صفحات میں دبا ہوا۔ وہ اب کیا سوچتا ہوگا؟ کیا اسے یاد بھی ہوگا کہ اس نے کسی دوپہر ایک پیلے گلاب کی پتی کو کسی خاص صفحے کی امانت بنایا تھا؟ یا شاید اس کی یادداشت سے وہ لمحہ محو ہو چکا ہو، مگر وہ پتی آج بھی اس کے جذبے کی گرمی کو سنبھالے بیٹھی ہے۔

ہم جانتے ہیں کہ شاخ پر کھلا پھول زوال کی امانت ہے، اس لیے ہم اسے علم کے حصار میں قید کر دیتے ہیں۔ پتی کا رنگ اڑ جاتا ہے، مگر اس کا لمس اس خاص پیراگراف کا حصہ بن جاتا ہے جہاں اسے جگہ ملی تھی۔ وہ پتی اب اس شخص کا استعارہ ہے جو وہاں موجود نہیں، مگر اس کی 'موجودگی' کتاب کی خوشبو بن چکی ہے۔

جب ہم برسوں بعد اس کتاب کو کھولتے ہیں، تو دراصل ہم ایک خاموش مکالمہ کر رہے ہوتے ہیں۔ ایک طرف وہ سوکھی پتی ہے، دوسری طرف وہ نامعلوم ہاتھ جس نے اسے وہاں رکھا، اور تیسری طرف ہم ۔۔۔ جو یہ سوچ رہے ہیں کہ کیا خوبصورتی کو بچانے کا واحد راستہ اسے صفحات میں 'قتل' کر دینا ہی تھا؟

اگر وہ پتی وہاں نہ ہوتی، تو کیا وہ صفحہ اور وہ یاد آج بھی اتنی ہی شدت سے بولتے؟

#نوریات

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

جب وہ گیسو سنوارتے ہوں گے

  جب وہ گیسو سنوارتے ہوں گے

مختصر سی زندگی

مختصر سی زندگی محمد نور آسی زندگی بہت مختصر ہے یہ فقرہ تو ہم دن میں شاید کئی بار سنتے ہیں ۔ لیکن کبھی غور نہیں کیا ۔ مختصر کیوں ، کیسے؟ اگر کسی کی عمراللہ کریم نے 50 سال لکھی ہے ، 70 سال لکھی ہے یا 100 سال- تو وہ دنیا میں اتنے ہی سال گذار کر جائے گا۔ پھر مختصر کیوں ہے زندگی ؟ میں کوئی مذہبی سکالر نہیں ۔ لیکن ایک بات جو اپنی کم علمی کے اعتراف کے باوجود جانتا ہوں وہ یہ ہے کہ ہم جب اپنی گذشتہ زندگی پر نظر ڈالتے ہیں تو ایسے لگتا ہے جیسے گذارے گئے دس ، بیس ، تیس سال تو گویا کل کی بات ہے۔ یوں گذرے گئے جیسے اک لمحہ گذرا ہو۔ اسی سے قیاس کرکے جب یہ سوچ ذہن میں آتی ہے کہ جب نزع کا عالم ہو گا تو ممکن ہے اس وقت ہمیں یہی محسوس ہو کہ ہماری 60، 70 زندگی یوں پلک چھپکتے گذر گئی کہ پتہ بھی نہ چلا۔ تو پھر شاید اسی لئے کہتے ہیں کہ زندگی مختصر ہے۔ ہاں سچ ہی تو کہتے ہیں۔ ذرا ایک لمحے کے لئے تصور کیجئے ۔ وہ پہلا دن جب آپ اسکول گئے۔ کل کی بات لگتی ہے نا۔ بے شک سر کے بال سفید ہوگئے یا سفیدی کی جانب سرک رہے ہیں لیکن محسوس ہوتا ہے ابھی تو ہم جوان ہیں۔ کوئی انکل بولے یا آنٹی تو حیرت سی ہوتی ہے۔ ہوتی ہے نا؟ اص...