Skip to main content

عکس مصلوب

 



وہاں کوئی دیوار نہیں تھی، مگر ایک حد ضرور تھی جس کے پار قدم رکھنے کا مطلب اپنے ہی وجود سے دستبردار ہونا تھا۔ شہر کی آخری سڑک جہاں ختم ہوتی تھی، وہاں سے ایک ایسی پگڈنڈی شروع ہوتی تھی جو کسی نقشے پر موجود نہ تھی۔ آسمان کا رنگ وہاں نیلا نہیں تھا، بلکہ ایک گدلے بھورے پن میں ڈوبا ہوا، جیسے کسی نے صدیوں پرانی راکھ کو افق پر بکھیر دیا ہو۔ آفتاب نے اپنی جیب سے گھڑی نکالی۔ سوئیاں ساکت تھیں۔ یہ اس کا تیسرا دن تھا یا تیسری صدی؟ اسے یاد نہیں تھا۔ زندگی نے اسے ایک ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا تھا جہاں یادداشت ایک بوجھ بن چکی تھی۔ اس کے سامنے ایک بوڑھا شخص بیٹھا تھا جو ایک ایسی لکڑی کو تراش رہا تھا جس کا کوئی سرا نہیں تھا۔

 تم یہاں کیوں رکے ہو؟ بوڑھے نے سر اٹھائے بغیر پوچھا۔

 اس کی آواز میں ایسی لرزش تھی جیسے خشک پتے آپس میں ٹکرا رہے ہوں۔ آفتاب نے پگڈنڈی کی سمت اشارہ کیا،

 میں اس آواز کا پیچھا کر رہا ہوں جو سنائی نہیں دیتی، مگر محسوس ہوتی ہے۔ 

بوڑھا ہنسا۔ ایک تلخ، کھوکھلی ہنسی۔ 

جو محسوس ہوتا ہے، وہ ہوتا نہیں ہے۔ اور جو ہوتا ہے، وہ ہم دیکھنا نہیں چاہتے۔ تم جس آواز کے پیچھے ہو، وہ تمہارے اپنے اندر کی وہ چیخ ہے جسے تم نے برسوں پہلے خاموشی کے تابوت میں بند کر دیا تھا۔ 

مگر مجھے لگتا ہے کہ اس پگڈنڈی کے آخر میں ایک دروازہ ہے، آفتاب نے دھیمے لہجے میں کہا۔

 ایک ایسا دروازہ جو مجھے اس مشینی زندگی سے نکال کر کسی حقیقی دنیا میں لے جائے گا۔ 

بوڑھے نے تراشی ہوئی لکڑی کو زمین پر پھینک دیا۔ حقیقت؟ میاں، حقیقت تو وہ گرد ہے جو تمہارے جوتوں پر جمی ہے۔ باقی سب استعارہ ہے۔ تم ایک ایسے افسانے کے کردار ہو جس کا مصنف خود الجھن کا شکار ہے۔

فضا میں ایک عجیب سی بو پھیلی ہوئی تھی—گیلی مٹی اور جلے ہوئے کاغذوں کی ملی جلی بو۔ دور کہیں ایک مینار نظر آتا تھا جو اوپر سے ٹوٹا ہوا تھا، جیسے کسی نے بلندی کی خواہش میں اسے ادھورا چھوڑ دیا ہو۔ وہاں پرندے نہیں اڑتے تھے، بلکہ کاغذ کے ٹکڑے ہوا کے دوش پر رقص کرتے تھے جن پر ادھورے جملے لکھے تھے۔ 'میں ہوں کیونکہ...' 'شاید...' 'اگر...' آفتاب آگے بڑھا۔ اس کے قدموں تلے زمین نرم تھی، جیسے وہ کسی زندہ وجود کے سینے پر چل رہا ہو۔ ہر قدم پر ایک ہلکی سی دھمک سنائی دیتی۔ اس نے محسوس کیا کہ جوں جوں وہ آگے بڑھ رہا ہے، اس کا سایہ اس سے الگ ہوتا جا رہا ہے۔ سائے کی اپنی ایک سمت تھی، اپنی ایک رفتار۔ 

تم کہاں جا رہے ہو؟ اس نے اپنے سائے سے پوچھا۔

 سایہ زمین پر رینگتے ہوئے رکا۔ 

میں وہاں جا رہا ہوں جہاں مجھے تمہاری ضرورت نہیں رہے گی۔ تم ایک بوجھ ہو، آفتاب۔ تم یادوں کے بوجھ سے لدے ہوئے ایک ایسے مسافر ہو جس نے اپنی منزل خود ہی مٹا دی ہے۔ 

مگر میں تمہارا وجود ہوں! آفتاب چلایا۔ 

تم صرف ایک رکاوٹ ہو، سائے نے جواب دیا اور ایک کالی دیوار کے پیچھے غائب ہو گیا۔

راستے میں اسے ایک عورت ملی۔ وہ ایک آئینہ ہاتھ میں لیے بیٹھی تھی، مگر آئینے میں عکس کے بجائے صرف اندھیرا تھا۔

 کیا تم نے میرا سایہ دیکھا ہے؟ آفتاب نے پوچھا۔ 

عورت نے آئینہ اس کی طرف کر دیا۔ 

سائے تو یہاں آزاد ہو جاتے ہیں۔ یہاں صرف وہ لوگ رہ جاتے ہیں جن کے پاس کھونے کو کچھ نہیں ہوتا۔ تم کیا ڈھونڈ رہے ہو؟ 

میں ایک معنی ڈھونڈ رہا ہوں، آفتاب نے تھکن سے کہا۔

 عورت مسکرائی، اس کی مسکراہٹ میں ایک عجیب سی گھمبیرتا تھی۔ معنی تو ایک لباس ہے جو ہم ننگے پن کو چھپانے کے لیے پہنتے ہیں۔ دیکھو، اس آئینے میں کچھ نظر آتا ہے؟ 

آفتاب نے آئینے میں جھانکا۔ وہاں کچھ نہیں تھا۔ مطلق اندھیرا۔ کچھ نہیں۔ 

یہی تو وہ مقام ہے، عورت نے سرگوشی کی۔ جہاں 'کچھ نہیں' شروع ہوتا ہے، وہیں سے تخلیق کا سفر شروع ہوتا ہے۔ تم ابھی اس مرحلے پر ہو جہاں تمہارے پرانے بت ٹوٹ رہے ہیں۔ ابھی تم نے نئے خدا نہیں بنائے۔ 

مجھے ڈر لگ رہا ہے، آفتاب نے اعتراف کیا۔ 

ڈرنا اچھا ہے، عورت نے آئینہ ایک طرف رکھ دیا۔ ڈر ہی وہ واحد چیز ہے جو ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ ہم ابھی تک زندہ ہیں۔ جو نڈر ہو گئے، وہ تو پتھر کے ستون بن کر اس شہر کی زینت بن گئے۔

آفتاب نے سوچا، کیا یہ سفر واقعی کسی انجام کی طرف ہے؟    دنیا میں انجام تو ایک دھوکہ ہے۔ ہم صرف دائروں میں سفر کرتے ہیں۔ ایک دائرہ ختم ہوتا ہے تو دوسرا شروع ہو جاتا ہے۔ اس کے پاؤں اب تھکنے لگے تھے۔ زمین کی رنگت بدل رہی تھی۔ اب وہ پگڈنڈی غائب ہو چکی تھی اور اس کے سامنے ایک بہت بڑی جھیل تھی، جس کا پانی ساکت تھا۔ جھیل کے بیچوں بیچ ایک کرسی پڑی تھی جس پر کوئی بیٹھا ہوا تھا۔ دور سے دیکھنے پر وہ شخص بالکل آفتاب جیسا لگ رہا تھا۔ وہی لباس، وہی انداز۔ آفتاب کے ذہن میں ایک دھماکہ ہوا۔ کیا وہ خود کو ہی ڈھونڈنے نکلا تھا؟ 

فضا میں گونجنے والی  ایک پوشیدہ آواز تیز ہو رہی تھی۔ یہ کوئی موسیقی نہیں تھی، نہ ہی کوئی شور۔ یہ ایک ایسی فریکوئنسی تھی جو دل کی دھڑکن کے ساتھ ہم آہنگ ہو رہی تھی۔ اس نے جھیل کے پانی میں قدم رکھا۔ پانی ٹھنڈا نہیں تھا، بلکہ اس میں ایک ایسی تپش تھی جو روح تک اترتی محسوس ہو رہی تھی۔ ہر قدم کے ساتھ اس کی عمر کم ہو رہی تھی، یا شاید بڑھ رہی تھی۔ زمان و مکاں کا یہ کھیل اب اسے پاگل کر رہا تھا۔

رک جاؤ! پیچھے سے ایک آواز آئی۔ 

آفتاب نے مڑ کر دیکھا۔ وہاں کوئی نہیں تھا۔ صرف اس کے اپنے جوتوں کے نشان تھے جو اب خود بخود مٹ رہے تھے۔ جیسے وہ کبھی وہاں تھا ہی نہیں۔ اس کا وجود اب ایک ایسی حالت میں تھا جہاں وہ ہونا اور نہ ہونا کے درمیان معلق تھا۔ اس نے سوچا، اگر میں اس جھیل کے بیچ تک پہنچ گیا، تو کیا میں مکمل ہو جاؤں گا؟ یا میں ہمیشہ کے لیے اس سناٹے کا حصہ بن جاؤں گا؟ آسمان پر بکھری راکھ اب گرنے لگی تھی۔ ایک سفید برف باری کی طرح، مگر وہ گرم تھی۔ آفتاب نے اپنا ہاتھ پھیلایا۔ اس کی ہتھیلی پر ایک جملہ لکھا ہوا نمودار ہوا: "تم وہ ہو جو تم نے اب تک نہیں سوچا تھا۔" جھیل کا پانی اب اس کے گھٹنوں تک آ چکا تھا، مگر یہ پانی نہیں تھا۔ یہ مائع وقت تھا جو اس کے بدن سے لپٹ رہا تھا۔ آفتاب نے محسوس کیا کہ جوں جوں وہ جھیل کے وسط میں موجود اس پراسرار کرسی کی طرف بڑھ رہا ہے، اس کے گرد و پیش کی دنیا ایک دھندلے خواب کی طرح تحلیل ہو رہی ہے۔ پیچھے رہ جانے والا ساحل اب ایک لکیر بن چکا تھا، جہاں وہ بوڑھا اور آئینہ بردار عورت محض چند نقطے دکھائی دیتے تھے۔

کرسی پر بیٹھا شخص اب بالکل واضح تھا۔ وہ آفتاب ہی تھا، مگر اس کے چہرے پر وہ جھریاں نہیں تھیں جو تجربات دیتی ہیں، بلکہ وہ لکیریں تھیں جو صرف حد سے بڑھی ہوئی سوچ ہی تراش سکتی ہے۔ اس کے ہاتھ میں ایک قلم تھا جو ہوا میں کچھ لکھ رہا تھا، اور وہاں سے الفاظ نکل کر پانی کی سطح پر تیرنے لگتے۔ تم آگئے؟ کرسی پر بیٹھے آفتاب نے سر اٹھائے بغیر پوچھا۔ 

اس کی آواز پانی کی لہروں کی طرح ہموار اور سرد تھی۔ 

میں یہاں کیوں ہوں؟ آفتاب نے پوچھا، اس کے دانت کپکپا رہے تھے حالانکہ اسے سردی نہیں لگ رہی تھی۔ 

تم یہاں اس لیے ہو کیونکہ تم نے سوال کرنا بند نہیں کیا تھا، کرسی پر بیٹھے ہم زاد نے قلم روک کر اسے دیکھا۔ جس دن انسان سوال کرنا بند کر دیتا ہے، وہ سڑک کے کنارے لگے اس لیمپ پوسٹ کی طرح ہو جاتا ہے جو روشنی تو دیتا ہے مگر خود اندھیرے میں قید رہتا ہے۔ تم نے اندھیرے سے نکلنے کی کوشش کی، اس لیے تم اس جزیرے میں قید کر دیے گئے ہو۔

جھیل کی سطح اب آئینے کی طرح شفاف ہو رہی تھی۔ آفتاب نے نیچے جھانکا تو اسے اپنی زندگی کے مختلف ادوار تیرتے نظر آئے۔ ایک جگہ وہ بچہ تھا جو تتلی کے پیچھے بھاگ رہا تھا، مگر تتلی کے پر لوہے کے تھے اور اس کے ہاتھ لہو لہان تھے۔ دوسری طرف وہ ایک دفتر کی میز پر بیٹھا فائلوں کے انبار میں دبا ہوا تھا، جہاں سے اس کی آنکھیں مدد کے لیے پکار رہی تھیں۔ پھر منظر بدلا۔ جھیل کے افق پر ایک ایسی عمارت نمودار ہوئی جس کے ہزاروں دروازے تھے، مگر ایک بھی کھڑکی نہیں تھی۔ اس عمارت سے ایسی چیخیں نکل رہی تھیں جو موسیقی میں ڈھل کر فضا میں بکھر جاتیں۔

 یہ کیا ہے؟ آفتاب نے لرزتے ہوئے پوچھا۔ 

یہ تمہارا حافظہ ہے، ہم زاد نے جواب دیا۔ جدید دور کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے حافظے کو ایک عقوبت خانہ بنا لیا ہے۔ ہم یادوں کو جیتے نہیں ہیں، ہم یادوں میں قید ہو جاتے ہیں۔

 آفتاب نے ہمت جمع کی اور ایک قدم اور آگے بڑھایا۔ 

تم کون ہو؟ میرے ہم زاد ہو یا میرا وہ وہم جو اب مجسم ہو چکا ہے؟ 

ہم زاد مسکرایا، ایک ایسی مسکراہٹ جس میں ہزاروں سال کی تھکن تھی۔ میں تمہارا وہ 'مستقبل' ہوں جو کبھی نہیں آئے گا، اور میں تمہارا وہ 'ماضی' ہوں جو کبھی گیا نہیں۔ میں وہ 'خلا' ہوں جو تمہارے اور تمہاری حقیقت کے درمیان حائل ہے۔

 مطلب میں کبھی یہاں سے نہیں نکل پاؤں گا؟ 

نکلنا کیا ہوتا ہے؟ کیا تم ایک کمرے سے نکل کر دوسرے کمرے میں جانے کو آزادی سمجھتے ہو؟ دیکھو، تمہارے پیروں تلے یہ جو پانی ہے، یہ دراصل تمہارے وہ آنسو ہیں جو تم نے کبھی بہائے نہیں۔ یہ جو فضا میں بو ہے، یہ تمہاری ان خواہشوں کی ہے جو بن کھلے مر گئیں۔ تم اپنی ہی تخلیق کردہ کائنات میں قید ہو۔

آفتاب نے غصے میں آکر پانی پر ہاتھ مارا، مگر پانی ٹھوس لوہے کی طرح سخت محسوس ہوا۔ 

نہیں! میں ایک جیتا جاگتا انسان ہوں۔ میرا ایک نام ہے، میری ایک پہچان ہے! 

پہچان؟ ہم زاد نے قہقہہ لگایا۔ پہچان تو اس لیبل کا نام ہے جو معاشرہ لاشوں پر لگاتا ہے تاکہ وہ پہچانی جا سکیں۔ کیا تم نے کبھی آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنا نام پکارا ہے؟ تیسری بار پکارنے پر نام ایک بے معنی لفظ بن جاتا ہے۔ تمہاری حقیقت صرف اتنی ہے کہ تم ایک تسلسل ہو، ایک ایسا نقطہ جو لکیر بننے کی جستجو میں خود کو مٹا رہا ہے۔ 

فضا میں اب وہ گونج ایک دھماکے کی صورت اختیار کر رہی تھی۔ آفتاب نے محسوس کیا کہ اس کے کانوں سے خون رس رہا ہے۔ یہ آواز اب کسی بیرونی ذریعے سے نہیں آرہی تھی، بلکہ اس کے اپنے خلیوں کے اندر سے اٹھ رہی تھی۔ 

تمہیں پتہ ہے، ہم زاد نے دھیمے لہجے میں کہنا شروع کیا، اس جھیل کے اس پار ایک جنگل ہے جہاں درختوں پر پتے نہیں، بلکہ انسانی آنکھیں لگی ہیں۔ وہ آنکھیں ہر اس شخص کو دیکھتی ہیں جو سچائی کی تلاش میں وہاں سے گزرتا ہے۔ مگر سچائی کیا ہے؟ سچائی وہ نہیں جو دیکھی جائے، سچائی وہ ہے جو برداشت کی جائے۔

آفتاب کا سر چکرانے لگا۔ جھیل کے ساکت پانی میں اب بھنور پڑنے لگے تھے۔ ہر بھنور میں ایک چہرہ تھا—اس کے ماں باپ، اس کے بچھڑے ہوئے دوست، اس کے وہ دشمن جنہیں وہ بھول چکا تھا۔ وہ سب اسے اپنی طرف بلا رہے تھے۔ آ جاؤ آفتاب! یہاں کوئی سوال نہیں ہے، یہاں صرف خاموشی ہے، ایک جانی پہچانی آواز آئی۔ آفتاب نے دیکھا، وہ آئینہ بردار عورت اب جھیل کی سطح پر چلتی ہوئی اس کی طرف آرہی تھی۔ اس کے ہاتھ میں موجود آئینہ اب اندھیرا نہیں تھا، بلکہ اس میں آفتاب کا عکس ایک صلیب پر لٹکا ہوا نظر آرہا تھا۔ 

جدید انسان کا مقدر یہی ہے، عورت نے قریب آکر کہا۔ وہ اپنی ہی انا کی صلیب پر مصلوب ہے۔ اسے کسی دشمن کی ضرورت نہیں۔ اس کے اپنے خیالات اس کے ہاتھ پاؤں میں کیل ٹھونک رہے ہیں۔ 

آفتاب نے چیخنا چاہا، مگر اس کے گلے سے آواز نہیں نکلی۔ اس نے محسوس کیا کہ اس کے پیر اب جھیل کی تہہ میں دھنس رہے ہیں۔ وہ ریت نہیں تھی، وہ گھڑیاں تھیں—ہزاروں، لاکھوں کلائی کی گھڑیاں جو ٹک ٹک کر رہی تھیں۔ وقت اسے نگل رہا تھا۔ تمہارا وقت ختم ہو رہا ہے آفتاب، ہم زاد نے اپنی کرسی سے اٹھتے ہوئے کہا۔ اب تمہیں انتخاب کرنا ہوگا۔ یا تو تم اس جھیل کی تہہ میں اتر جاؤ اور ابدی سناٹے کا حصہ بن جاؤ، یا پھر اس آگ کو پار کرو جو افق پر لگی ہے، جہاں تمہارا وجود راکھ ہو جائے گا مگر شاید... شاید تمہاری روح آزاد ہو جائے۔


آفتاب نے دور افق پر دیکھا۔ وہاں ایک کالی آگ بھڑک رہی تھی۔ وہ روشنی نہیں دے رہی تھی، بلکہ روشنی کو جذب کر رہی تھی۔ 

میں... میں انتخاب نہیں کر سکتا، آفتاب نے ہانپتے ہوئے کہا۔ 

انتخاب نہ کرنا بھی ایک انتخاب ہے، ہم زاد نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ اس کا ہاتھ اتنا ٹھنڈا تھا کہ آفتاب کی رگوں میں خون جمنے لگا۔ اب منظر مکمل طور پر بدل چکا تھا۔ جھیل غائب ہو گئی تھی اور وہ ایک ایسے میدان میں کھڑے تھے جہاں زمین پر صرف ٹوٹی ہوئی عینکیں بکھری ہوئی تھیں۔ ہر عینک میں ایک الگ دنیا کا منظر تھا۔ 

یہ دوسرا مرحلہ ہے، ہم زاد نے سرگوشی کی۔ یہاں بصارت ختم ہوتی ہے اور بصیرت کا عذاب شروع ہوتا ہے۔ تیار ہو؟ 

آفتاب نے کچھ کہنا چاہا، مگر اس کے سامنے موجود زمین پھٹ گئی اور وہ ایک لامتناہی گہرائی میں گرنے لگا۔ گرتے ہوئے اسے صرف ایک ہی جملہ سنائی دیا: 

"گرنا ہی دراصل بلندی کی پہلی سیڑھی ہے، بشرطیکہ تم یہ جان لو کہ تم گر رہے ہو۔"

گرنے کا عمل جب طویل ہو جائے تو وہ پرواز کا گمان ہونے لگتا ہے۔ آفتاب اس لامتناہی گہرائی میں گر رہا تھا یا کسی خلا میں تیر رہا تھا، اسے اس کا ادراک نہیں رہا۔ پھر اچانک، ایک جھٹکے کے ساتھ وہ ٹھوس سطح پر آ گرا۔ یہ سطح سفید تھی—ایسی سفید کہ اس سے آنکھیں چندھیا رہی تھیں۔ نہ کوئی دیوار، نہ چھت، نہ کوئی افق۔ ایک وسیع و عریض 'سفید کمرہ' جو کائنات جتنا بڑا تھا۔ وہاں کوئی آواز نہیں تھی، یہاں تک کہ اس کی اپنی سانس کی آواز بھی اس کے کانوں تک نہیں پہنچ رہی تھی۔ اسے یوں لگا جیسے وہ کسی گونگے بہرے سناٹے کا حصہ بن گیا ہے۔ اس نے اپنے ہاتھوں کو دیکھا؛ وہ شفاف ہوتے جا رہے تھے۔ انگلیوں کے پوروں سے روشنی کے باریک ذرے نکل کر اس سفید خلا میں جذب ہو رہے تھے۔ 

خوش آمدید، ایک آواز آئی۔

 یہ آواز نہیں تھی، بلکہ ایک خیال تھا جو براہِ راست اس کے دماغ کے پردوں پر دستک دے رہا تھا۔ اس نے مڑ کر دیکھا۔ وہاں کوئی نہیں تھا، مگر ایک پرانی طرز کی ٹائپ رائٹر کی میز موجود تھی جس پر کاغذ کا ایک طویل دستہ چڑھا ہوا تھا۔ ٹائپ رائٹر کی کیز خود بخود دب رہی تھیں، جیسے کوئی نادیدہ انگلیاں کہانی کے آخری ابواب رقم کر رہی ہوں۔

آفتاب نے میز کے قریب جا کر دیکھا۔ ٹائپ رائٹر سے جو الفاظ نکل رہے تھے، وہ کالے نہیں بلکہ سرخ تھے۔ وہ لہو کے رنگ میں ڈوبے ہوئے حروف تھے جو کاغذ پر ثبت ہوتے ہی غائب ہو جاتے۔ فضا میں اچانک ایک کھڑکی نمودار ہوئی—دیوار کے بغیر ایک کھڑکی۔ اس کے پار اسے وہ شہر نظر آیا جہاں سے اس نے سفر شروع کیا تھا۔ لوگ بھاگ رہے تھے، ٹریفک کا شور تھا، موبائل فونز کی سکرینوں پر انگلیاں ناچ رہی تھیں، مگر سب کچھ ساکت تھا۔ ہر چہرے پر ایک خوفناک اطمینان تھا، جیسے وہ اپنی اپنی قبروں میں نہایت آرام سے لیٹے ہوں۔ 

کیا یہ سب مر چکے ہیں؟ آفتاب نے پکار کر پوچھا۔ 

نہیں، وہ نادیدہ آواز گونجی۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے زندگی کو 'انجام' کے حوالے کر دیا ہے۔ جو یہ مان چکے ہیں کہ کہانی مکمل ہو چکی ہے۔ تم خوش قسمت ہو کہ تم ابھی تک ایک ادھورے جملے کی طرح بھٹک رہے ہو۔ میز کے دوسری طرف وہی بوڑھا نمودار ہوا جو پگڈنڈی کے آغاز پر لکڑی تراش رہا تھا۔ مگر اب اس کے ہاتھ میں لکڑی نہیں، ایک چھوٹا سا بچہ تھا جس کی آنکھیں آفتاب کی آنکھوں جیسی تھیں۔

 تم نے انتخاب کر لیا؟ بوڑھے نے پوچھا۔ 

میں نے انتخاب کیا ہے کہ میں اب مزید انتخاب نہیں کروں گا، آفتاب نے مضبوط لہجے میں کہا۔ میں اس جھیل، اس آگ اور اس خلا سے تھک چکا ہوں۔ میں صرف ہونا چاہتا ہوں۔ 

بوڑھا مسکرایا، اس کی مسکراہٹ میں اس بار شفقت تھی۔ ہونا ہی تو سب سے مشکل کام ہے۔ انسان بننا آسان ہے، ہونا ناممکنات میں سے ہے۔ دیکھو، یہ بچہ تمہارا وہ 'امکان' ہے جسے تم نے منطق کی بھٹی میں جھونک دیا تھا۔

 مگر میں تو اب ختم ہو رہا ہوں، آفتاب نے اپنے شفاف ہوتے بدن کی طرف اشارہ کیا۔ میرا وجود اس سفیدی میں گم ہو رہا ہے۔

 گم ہونا ہی تو ملنا ہے، بوڑھے نے بچے کو زمین پر بٹھا دیا اور خود ہوا میں تحلیل ہونے لگا۔ زندگی کا آخری پڑاؤ 'لا' ہے۔ جب تم 'کچھ نہیں' ہو جاؤ گے، تبھی تم 'سب کچھ' ہو سکو گے۔

آفتاب نے ٹائپ رائٹر کی طرف دیکھا۔ اب وہاں صرف ایک ہی سطر بار بار ٹائپ ہو رہی تھی: "کہانی ختم نہیں ہوتی، صرف پڑھنے والا بدل جاتا ہے۔" اس نے محسوس کیا کہ اب اس کا جسم مکمل طور پر غائب ہو چکا ہے۔ وہ اب صرف ایک 'نظر' بن گیا تھا۔ وہ دیکھ سکتا تھا، محسوس کر سکتا تھا، مگر وہ اب 'وہ' نہیں رہا تھا۔ اس سفید خلا میں اب رنگ بھرنے لگے تھے۔ لیکن یہ رنگ کسی آرٹسٹ کے برش سے نہیں نکل رہے تھے، بلکہ آفتاب کے ماضی کے پچھتاووں اور مستقبل کے خوابوں سے کشید کیے گئے تھے۔ ایک طرف اس کی ماں کی لوری کی گونج تھی، دوسری طرف ایک بھولی ہوئی محبت کی خوشبو۔ ایک طرف وہ ناکامیاں تھیں جنہوں نے اسے توڑا تھا، دوسری طرف وہ کامیابیاں تھیں جنہوں نے اسے دھوکہ دیا تھا۔ وہ سمجھ گیا کہ یہ کوئی جگہ نہیں تھی، یہ اس کے اپنے شعور کا وہ آخری کمرہ تھا جہاں سے باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں تھا، کیونکہ باہر کچھ تھا ہی نہیں۔ کائنات تو اس کے اندر سمٹی ہوئی تھی۔ اچانک وہ ٹائپ رائٹر رک گیا۔ کاغذ پر آخری لفظ ٹائپ ہوا: "اور پھر..."

اور پھر کے آگے کچھ نہیں تھا۔ خاموشی ایسی گہری تھی کہ اب وہ 'سنائی' دے رہی تھی۔ آفتاب نے اس 'اور پھر' کے بعد خود کو لکھنا چاہا۔ اس نے اپنی تمام توانائی اکٹھی کی اور اس ادھورے جملے کو مکمل کرنے کی کوشش کی۔ مگر اسے احساس ہوا کہ اگر اس نے جملہ مکمل کر دیا، تو وہ بھی 'ختم' ہو جائے گا۔ اس نے ایک گہرا سانس لیا اور قلم چھوڑ دیا۔ وہ اب اس سفید کمرے کے وسط میں کھڑا تھا، یا شاید وہ خود ہی وہ سفید کمرہ بن گیا تھا۔ دور کہیں سے اسے کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دی۔ جیسے کوئی اور مسافر، کوئی اور آفتاب، اس کی چھوڑی ہوئی پگڈنڈی پر پہلا قدم رکھ رہا ہو۔ وہ اب ایک 'خاموشی' تھا جو کسی نئے شور کے انتظار میں تھی۔ شہر کی آخری سڑک پر آج بھی وہ بوڑھا بیٹھا لکڑی تراش رہا ہے۔ ایک نیا نوجوان وہاں آ کر رکتا ہے اور وہی سوال پوچھتا ہے۔ بوڑھا وہی تلخ ہنسی ہنستا ہے اور پگڈنڈی کی طرف اشارہ کر دیتا ہے۔ سوالات اب بھی وہیں معلق ہیں۔ 

۔ وہاں کوئی دیوار نہیں تھی، مگر ایک حد ضرور تھی... اور اس حد کے پار، شاید اب بھی کوئی پکار رہا ہے: "دیکھ کر چلو۔"


Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

جب وہ گیسو سنوارتے ہوں گے

  جب وہ گیسو سنوارتے ہوں گے

اے شہنشاہِ زمنﷺ

  اے شہنشاہِ زمنﷺ