Skip to main content

مسکراہٹ کا معمہ اور ہم


انسانی نفسیات کا مطالعہ کرنے والے بڑے بڑے بقراط اس بات پر حیران ہیں کہ دنیا کے نقشے پر ایک ایسی قوم بھی بستی ہے جو مسکرانے سے پہلے باقاعدہ اجازت نامہ طلب کرتی ہے اور اگر غلطی سے کوئی قہقہہ لبوں سے پھسل جائے تو فوراً "استغفراللہ" پڑھ کر توبہ کرتی ہے کہ کہیں اس خوشی کا کفارہ کسی بڑی مصیبت کی صورت میں نہ ادا کرنا پڑ جائے۔ ہمارے ہاں مسکراہٹ ایک ایسی "مشکوک سرمایہ کاری" ہے جس پر معاشرہ فوری طور پر شک کا انکم ٹیکس نافذ کر دیتا ہے۔ اگر آپ سڑک پر چلتے ہوئے بلاوجہ مسکرا دیں، تو سامنے سے آنے والا شخص آپ کو ہمدردی کی نگاہ سے دیکھے گا، یہ سمجھتے ہوئے کہ بیچارہ کسی بڑے صدمے سے ذہنی توازن کھو بیٹھا ہے، یا پھر وہ اپنے گریبان میں جھانکے گا کہ کہیں اس کا بٹن تو کھلا نہیں رہ گیا جس پر یہ کمبخت دانت نکال رہا ہے۔
ہماری نفسیات میں سنجیدگی کا درجہ تقویٰ کے برابر ہے۔ ایک ایسا شخص جس کے چہرے پر بارہ بجے ہوں، ماتھے پر آٹھ شکنیں مستقل رہائش اختیار کر چکی ہوں اور جس کی زبان سے جملہ نہیں بلکہ فتویٰ صادر ہوتا ہو، اسے ہم "نہایت زیرک اور سلجھا ہوا انسان" تسلیم کرتے ہیں۔ اس کے برعکس، وہ شخص جو محفل میں لطیفہ سناتا ہے یا مسکراہٹیں بانٹتا ہے، اسے "ہلکا" اور "غیر سنجیدہ" قرار دے کر حاشیے پر ڈال دیا جاتا ہے۔ گویا ہم نے یہ فرض کر لیا ہے کہ عقل صرف ان سروں میں بستی ہے جو کبھی جھک کر ہنستے نہیں۔
ہم نے ہنسنے کے لیے بھی "کھسیانی ہنسی" اور "زہریلی مسکراہٹ" جیسی اصطلاحات وضع کر رکھی ہیں۔ کبھی آپ نے غور کیا کہ ہمارے ہاں جب کوئی بہت زیادہ ہنس لے تو وہ جملہ ضرور کہتا ہے: "الٰہی خیر! آج کچھ زیادہ ہی ہنسی آ رہی ہے، جانے کیا ہونے والا ہے۔" یہ جملہ ہماری اس صدیوں پرانی نفسیاتی شکست کا نوحہ ہے جہاں ہمیں یقین دلایا گیا ہے کہ ہر عروج (ہنسی) کے بعد ایک زوال (رونا) لازم ہے۔ ہم خوشی کو خوشی نہیں سمجھتے بلکہ اسے آنے والے غم کا "پری ویو" تصور کرتے ہیں۔
ایک عام پاکستانی کے لیے مسکراہٹ کے چند مخصوص اور "حلال" مواقع ہیں۔ مثلاً جب دشمن کے مکان کی دیوار گر جائے، جب پڑوسی کی نئی گاڑی کو رکشے والا ٹھوک دے، یا جب کوئی ٹی وی اینکر لائیو شو میں کرسی سے گر پڑے۔ ان لمحات میں ہماری مسکراہٹ کی چمک دیدنی ہوتی ہے۔ اسے ہم "روحانی تسکین" کا نام دیتے ہیں۔ لیکن اگر آپ اپنی ذات کی کسی چھوٹی سی کامیابی پر مسکرا رہے ہیں، تو اسے "غرور" اور "تکبر" کے خانے میں ڈالنے میں دیر نہیں لگائی جائے گی۔
ہم اکثر اپنی سنجیدگی کو "مصروفیت" کا لبادہ پہنا دیتے ہیں۔ دفتروں میں بیٹھے بابوؤں کو دیکھ لیں، ان کے چہرے کی سختی دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے ملک کی تمام جی ڈی پی کا بوجھ ان کے ان دو کندھوں پر ہے جو دفتر کی پرانی طرز کی میز پر جھکے جھکے بوڑھے ہو چکے ہیں۔ اگر کوئی سائل آ کر سلام کرے، تو وہ جواب میں گردن اتنی ہی ہلائیں گے جتنی ایک کبوتر دانہ چگتے وقت ہلاتا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اگر وہ مسکرا کر بات کریں گے تو سائل ان کی کرسی کی حرمت پامال کر دے گا یا شاید مفت میں کام کروانے کی جسارت کر بیٹھے گا۔
ہمارے ہاں شادی بیاہ کے موقعوں پر بھی مسکراہٹ کا ایک عجیب و غریب پروٹوکول ہوتا ہے۔ دولہا میاں کو ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ جتنا ہو سکے "سنجیدہ اور شرمیلا" بن کر رہے، گویا وہ شادی نہیں بلکہ کسی جرم کی پاداش میں عمر قید کاٹنے جا رہا ہو۔ اگر دولہا زیادہ مسکرا دے تو خاندان کی بڑی بوڑھیاں سرگوشیاں شروع کر دیتی ہیں: "دیکھو تو سہی، کتنا بے شرم ہے، ابھی سے اتنا خوش ہو رہا ہے جیسے کوئی قلعہ فتح کر لیا ہو۔" دوسری طرف دلہن کا ہنسنا تو خیر ایک الگ ہی داستانِ عبرت ہے۔ اسے اتنا رونا چاہیے کہ اس کا میک اپ بہہ کر "ایبسٹریکٹ آرٹ" کا نمونہ بن جائے، تبھی اسے "خاندانی لڑکی" کا سرٹیفکیٹ ملے گا۔
ہماری اس قومی نفسیات نے ہمیں ایک ایسا معاشرہ بنا دیا ہے جو ہنسنے کے لیے کامیڈی شوز کا محتاج ہے، مگر اپنے گھروں اور دفتروں میں قہقہوں پر پابندی لگا رکھی ہے۔ ہم نے لفظوں کے ایسے طلسم کدے تیار کیے ہیں جہاں "طنز" کو "اصلاح" اور "بدتمیزی" کو "صاف گوئی" کا نام دیا جاتا ہے۔ اگر آپ کسی کی خامی پر ہنس دیں تو آپ "ناقد" ہیں، لیکن اگر آپ کسی کی خوبی پر مسکرا دیں تو آپ "خوشامدی" ہیں۔
انسان اور مشین میں فرق صرف اتنا تھا کہ انسان جذبات کا اظہار کر سکتا تھا، مگر اب ہم نے اپنی جذباتی ڈکشنری سے "مسرت" کا صفحہ ہی پھاڑ دیا ہے۔ ہم ایک ایسی دوڑ میں شامل ہیں جہاں منزل کا تو پتہ نہیں، مگر ہم نے راستے میں ملنے والے پھولوں کو دیکھ کر مسکرانا بھی چھوڑ دیا ہے۔ ہماری سنجیدگی دراصل ہمارا وہ دفاعی حصار ہے جس کے پیچھے ہم اپنی ناکامیوں، محرومیوں اور احساسِ کمتری کو چھپا کر رکھتے ہیں۔
اگر ہم اپنی قومی سیاست اور سماجی ڈھانچے پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہاں "سنجیدگی" کا لبادہ دراصل ایک ایسی ڈھال ہے جس کے پیچھے ہم اپنی نااہلیوں کو چھپاتے ہیں۔ ہمارے سیاسی افق پر وہی ستارہ سب سے زیادہ چمکتا ہے جس کی پیشانی پر غصے کی لکیریں مستقل ہوں اور جس کا لہجہ پگھلے ہوئے سیسے کی مانند ہو۔ ایک ایسا سیاستدان جو پریس کانفرنس میں مسکرا کر مخالف کا شکریہ ادا کر دے، اسے ہماری عوام "بزدل" یا "ملا ہوا" قرار دے دیتی ہے۔ ہمیں وہ تقریر پسند ہے جس میں ڈائس پیٹا جائے، مکے لہرائے جائیں اور گلے کی رگیں اس حد تک پھول جائیں کہ دیکھنے والے کو اپنی عافیت کی فکر ہونے لگے۔ گویا ہم نے "قوت" کا متبادل "بدتمیزی" اور "رعب" کا متبادل "سخت گیری" کو بنا لیا ہے۔
ہماری نفسیات کا یہ تضاد دیکھیے کہ جو قوم نجی محفلوں میں جگتوں کے بغیر روٹی ہضم نہیں کر پاتی، وہی قوم جب کسی بڑے عہدے پر فائز ہوتی ہے تو اس کے چہرے کے عضلات پتھر کے ہو جاتے ہیں۔ ہمارے بیوروکریٹک ڈھانچے میں مسکراہٹ کو "کمزوری" کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اگر کوئی اعلیٰ افسر اپنے ماتحت کو دیکھ کر مسکرا دے، تو ماتحت سمجھتا ہے کہ شاید آج صاحب کی ترقی کی فائل دستخط ہوگئی ہے یا پھر وہ کل اسے نوکری سے نکالنے والے ہیں۔ ہم نے "خلوص" کو اس قدر مہنگا کر دیا ہے کہ اب یہ صرف مفاد کے بازار میں ہی دستیاب ہوتا ہے۔
ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ ہم نے لفظوں کی جادوگری سے "غم" کو ایک رومانوی رنگ دے دیا ہے۔ ہمارے شعراء نے اداسی کو اس قدر خوبصورت بنا کر پیش کیا ہے کہ اب ہمیں ہنستے ہوئے تھوڑی شرم سی محسوس ہوتی ہے۔ ہم "غمِ جاناں" اور "غمِ دوراں" کے اتنے عادی ہو چکے ہیں کہ اگر کبھی حالات سازگار ہو جائیں اور زندگی ہمیں بغیر کسی وجہ کے مسکرانے کا موقع دے، تو ہم گھبرا کر کسی نئے صدمے کی تلاش شروع کر دیتے ہیں۔ ہماری فلموں اور ڈراموں کے ہیرو بھی وہی مقبول ہوتے ہیں جن کی زندگی میں دکھوں کا ہمالیہ کھڑا ہو اور جو بانسری بجاتے ہوئے اپنی قسمت کو رو رہے ہوں۔
سماجی سطح پر مسکراہٹ کے حوالے سے ہمارا یہ "کنجوس" رویہ ہمیں ایک ایسے معاشرے کی طرف لے گیا ہے جہاں ذہنی دباؤ کو ہم "خاندانی وقار" کا نام دیتے ہیں۔ کبھی کسی محفل میں غور کیجیے گا، وہاں موجود لوگ اپنی بیماریوں، پریشانیوں اور مہنگائی کا ذکر اس فخر سے کریں گے جیسے وہ کوئی تمغہِ امتیاز جیت کر آئے ہوں۔ اگر اس دوران کوئی شخص یہ کہہ دے کہ "بھئی! زندگی بہت خوبصورت ہے اور میں بہت خوش ہوں"، تو محفل میں ایسی خاموشی چھا جائے گی جیسے کسی نے بہت بڑا کفر بک دیا ہو۔ اس کے بعد اس شخص پر نظرِ بد کے ایسے وار ہوں گے کہ وہ بیچارہ اگلے ہی لمحے کسی حادثے کا شکار ہونے کی دعا مانگے گا تاکہ دوبارہ معاشرے کا "معتبر" حصہ بن سکے۔
لفظوں کی کاری گری اور نفسیات کا یہ کھیل اب ہماری نئی نسل میں بھی سرائیت کر رہا ہے۔ سوشل میڈیا کی اس دورِ جدید میں ہم نے "ایموجیز" کے پیچھے اپنی اصلی مسکراہٹیں دفن کر دی ہیں۔ ہم سکرین پر Lol تو لکھتے ہیں مگر ہمارے چہرے پر ایک مردنی سی چھائی ہوتی ہے۔ ہم نے خوشی کو سکرین کی چمک تک محدود کر لیا ہے، جبکہ حقیقی زندگی میں ہم اب بھی وہی "بوجھل" انسان ہیں جو مسکراہٹ کو مشکوک سمجھتے ہیں۔
مجھے وہ بوڑھا یاد آتا ہے جو ہر ہار کے بعد بھی اگلے میچ کے لیے دعا مانگتا تھا، یا وہ مزدور جو دن بھر کی مشقت کے بعد شام کو اپنے بچوں کے لیے کھلونا لے جاتے ہوئے مسکراتا ہے۔ شاید یہی وہ اصلی مسکراہٹیں ہیں جو ابھی تک اس بانجھ معاشرے میں زندگی کا ثبوت دے رہی ہیں۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ مسکراہٹ کوئی ایسی کرنسی نہیں جو خرچ کرنے سے ختم ہو جائے گی، بلکہ یہ وہ واحد سرمایہ ہے جسے بانٹنے سے ہماری روح کا قرض اترتا ہے۔ اگر ہم نے آج بھی ایک دوسرے کو دیکھ کر دانت نکالنے (صرف طنز کے لیے نہیں بلکہ خلوص کے لیے) کی عادت نہ ڈالی، تو وہ وقت دور نہیں جب ہماری آنے والی نسلیں مسکرانے کے لیے باقاعدہ "مسکراہٹ کوچ" (Smile Coaches) کی خدمات حاصل کریں گی اور یہ اس قوم کا سب سے بڑا المیہ ہوگا۔
آخر میں صرف اتنا کہوں گا کہ مسکرائیے! اس سے پہلے کہ حکومت اس پر بھی کوئی "خوشحالی ٹیکس" عائد کر دے یا آپ کے چہرے کی لکیریں مستقل طور پر اداسی کے حق میں ووٹ دے دیں۔ کیونکہ زندگی کے اس اسٹیج پر ہم سب صرف اداکار ہیں، اور ایک اچھا اداکار وہی ہے جو اپنا پارٹ ادا کرتے ہوئے کم از کم تماشائیوں کو یہ یقین دلا دے کہ وہ اپنی زندگی سے مطمئن ہے۔
کیا آپ آج مسکرائے ہیں؟ اگر نہیں، تو اپنے قریب موجود آئینے کو دیکھیں، شاید آپ کو وہ شخص مل جائے جو برسوں سے آپ کی ایک سچی مسکراہٹ کا منتظر ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

جب وہ گیسو سنوارتے ہوں گے

  جب وہ گیسو سنوارتے ہوں گے

مختصر سی زندگی

مختصر سی زندگی محمد نور آسی زندگی بہت مختصر ہے یہ فقرہ تو ہم دن میں شاید کئی بار سنتے ہیں ۔ لیکن کبھی غور نہیں کیا ۔ مختصر کیوں ، کیسے؟ اگر کسی کی عمراللہ کریم نے 50 سال لکھی ہے ، 70 سال لکھی ہے یا 100 سال- تو وہ دنیا میں اتنے ہی سال گذار کر جائے گا۔ پھر مختصر کیوں ہے زندگی ؟ میں کوئی مذہبی سکالر نہیں ۔ لیکن ایک بات جو اپنی کم علمی کے اعتراف کے باوجود جانتا ہوں وہ یہ ہے کہ ہم جب اپنی گذشتہ زندگی پر نظر ڈالتے ہیں تو ایسے لگتا ہے جیسے گذارے گئے دس ، بیس ، تیس سال تو گویا کل کی بات ہے۔ یوں گذرے گئے جیسے اک لمحہ گذرا ہو۔ اسی سے قیاس کرکے جب یہ سوچ ذہن میں آتی ہے کہ جب نزع کا عالم ہو گا تو ممکن ہے اس وقت ہمیں یہی محسوس ہو کہ ہماری 60، 70 زندگی یوں پلک چھپکتے گذر گئی کہ پتہ بھی نہ چلا۔ تو پھر شاید اسی لئے کہتے ہیں کہ زندگی مختصر ہے۔ ہاں سچ ہی تو کہتے ہیں۔ ذرا ایک لمحے کے لئے تصور کیجئے ۔ وہ پہلا دن جب آپ اسکول گئے۔ کل کی بات لگتی ہے نا۔ بے شک سر کے بال سفید ہوگئے یا سفیدی کی جانب سرک رہے ہیں لیکن محسوس ہوتا ہے ابھی تو ہم جوان ہیں۔ کوئی انکل بولے یا آنٹی تو حیرت سی ہوتی ہے۔ ہوتی ہے نا؟ اص...