پاکستان میں کرکٹ صرف ایک کھیل نہیں، بلکہ ایک ایسا سماجی تہوار ہے جو ہمیشہ جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔ آج کل سری لنکا کی ہوائیں پاکستانیوں کے تبصروں سے بھری ہوئی ہیں۔ ورلڈ کپ کے پہلے دو میچوں میں فتح کیا ملی، قوم نے مہنگائی اور بجلی کے بلوں کو عارضی طور پر "میوٹ" کر دیا ہے۔ لیکن صاحب! اس فتح کی مٹھاس اپنی جگہ، اصل امتحان تو 15 فروری کو آنے والا ہے، جب روایتی حریف بھارت سامنے ہوگا۔
پچھلے دنوں جو "انکار اور اقرار" کا بھونچال مچا ہوا تھا، اب اس کی گرد بیٹھ چکی ہے۔ کبھی خبر آتی تھی کہ ہم انڈیا سے نہیں کھیلیں گے، کبھی کہا جاتا تھا کہ کھیلیں گے لیکن یہ یہ شرائط منوا کر۔ ایسا لگتا تھا جیسے کرکٹ کا میدان نہیں بلکہ کسی گھریلو شادی کا معاملہ ہو رہا ہو جہاں روٹھے ہوئے قریبی رشتے دار کو منانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ خیر، اب فیصلہ ہو چکا، ٹیم میدان میں ہے اور عوام کے دلوں کے "پیس میکر" 15 فروری کی ٹک ٹک گن رہے ہیں۔
اس بار ٹیم کا نقشہ بدلا ہوا ہے۔ صائم ایوب کے "نو لُک شاٹ جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ صائم جب آنکھیں بند کر کے گیند کو باؤنڈری سے باہر بھیجتا ہے، تو ایسا لگتا ہے جیسے وہ کہہ رہا ہو، "مجھے دیکھنے کی ضرورت نہیں، گیند خود ہی راستہ جانتی ہے"۔ یہ خود اعتمادی دیکھ کر گلی محلے کے لونڈے اب دیواروں پر گیندیں مار مار کر اسی اسٹائل کی مشق کر رہے ہیں، بھلے امی سے ڈانٹ ہی کیوں نہ پڑ جائے۔
دوسری طرف بالنگ میں شاہین آفریدی اور سلمان مرزا کی جوڑی اپنا رنگ جمایا ہوا ہے۔شاہین آفریدی جب بھاگتا ہوا آتا ہے تو اس کے بالوں کی اڑان اور گیند کی رفتار دونوں ہی دیکھنے والوں کے دل موہ لیتی ہیں۔ لیکن اس بار پاکستان کا اصل "ایٹمی ہتھیار" سپن ڈپارٹمنٹ میں چھپا ہوا ہے۔ ابرار احمد کی گگلی ہو یا محمد نواز کا تجربہ، سب اپنی جگہ، مگر عثمان طارق وہ "مسٹری" ہے جس نے مخالف بلے بازوں کو کسی پیچیدہ ریاضی کے سوال میں الجھا رکھا ہے۔
عثمان طارق کا باؤلنگ ایکشن دیکھ کر تو ایسا لگتا ہے جیسے کوئی جادوگر اپنی ٹوپی سے کبوتر نکالنے والا ہو۔ بلے باز یہ سوچتا رہ جاتا ہے کہ گیند بائیں سے آئے گی یا دائیں سے، اور اتنی دیر میں وکٹیں فضا میں رقص کر رہی ہوتی ہیں۔ پاکستانی مداحوں کا اب یہ ماننا ہے کہ اگر 15 فروری کو عثمان طارق کا "جادو" چل گیا، تو انڈیا کے بلے بازوں کو پچ پر کھڑے ہونا بھی کسی مشکل امتحان جیسا لگے گا۔
کرکٹ کے اس بخار کا دوسرا حصہ نفسیاتی ہے۔ 15 فروری کا دن قریب آتے ہی پاکستان میں ایک عجیب و غریب خاموشی اور اضطراب کا ملا جلا رجحان پیدا ہو رہا ہے۔ وہ لوگ جو سارا سال ایک دوسرے کی شکل دیکھنا پسند نہیں کرتے، اس دن ٹی وی کے سامنے ایک ہی صوفے پر ایسے جڑ کر بیٹھے ہوں گے جیسے کوئی فیوی کول کا جوڑ ہو۔
سوشل میڈیا پر جو طوفان بدتمیزی پہلے مچا ہوا تھا کہ "ہمیں نہیں کھیلنا چاہیے"، اب وہ "ہمیں جیتنا چاہیے" میں تبدیل ہو چکا ہے۔ تبصرہ نگاروں نے عثمان طارق کے ایکشن کا اتنا پوسٹ مارٹم کر ڈالا ہے کہ اب وہ بیچارہ خود بھی شاید سوچتا ہوگا کہ میں گیند پھینکتا ہوں یا کوئی پہیلی بوجھتا ہوں۔ محمد نواز کے بارے میں بھی دعائیں کی جا رہی ہیں کہ بس اس بار وہ "آخری اوور" والا سسپنس نہ ہو، بلکہ میچ پہلے ہی قابو میں آ جائے۔
اس وقت پاکستان کے ہر گھر میں ایک "چیف سلیکٹر" بیٹھا ہے۔ کوئی کہتا ہے، "سلمان مرزا کو نئی گیند سے سپیل کرواؤ"، تو کوئی مشورہ دیتا ہے کہ "ابرار کو مڈل اوورز کے لیے بچا کر رکھو"۔ حقیقت تو یہ ہے کہ کرکٹ ہمیں وہ واحد پلیٹ فارم مہیا کرتی ہے جہاں ہم سب خود کو ماہرِ شماریات اور پی ایچ ڈی ڈاکٹر سمجھنے لگتے ہیں۔ سری لنکا کی کنڈیشنز پر ایسے تبصرے ہو رہے ہیں جیسے ہمارے لوگ وہاں کی مٹی کا ڈی این اے ٹیسٹ کر کے آئے ہوں۔
بھارت سے میچ کا جو بخار ہے، اس کا علاج کسی حکیم کے پاس نہیں۔ اس دن پاکستان کے تمام بازاروں میں "سیلف امپوزڈ" کرفیو ہوگا۔ وہ شوہر جو بیوی کو شاپنگ پر لے جانے کا وعدہ کر چکے تھے، اب اچانک "بیماری" کا بہانہ تراش رہے ہیں۔ وہ سٹوڈنٹس جو امتحانات کی تیاری کر رہے تھے، اب یہ دلیل دے رہے ہیں کہ "تاریخ تو یاد ہو جائے گی، لیکن 15 فروری کا لائیو میچ دوبارہ نہیں آئے گا"۔
لیکن صاحب! اس سارے منظر نامے میں جو اصل " کامیڈی شو" چل رہا ہے، وہ سرحد پار کے انڈین تبصرہ نگاروں کا ہے، جنہیں اب پاکستان میں لوگ پیار سے 'کارٹون نیٹ ورک' کے نام سے پکارتے ہیں۔
ان تبصرہ نگاروں کا حال یہ ہے کہ اگر پاکستان ٹیم سری لنکا میں دو میچ جیت جائے، تو ان کے پیٹ میں مروڑ اٹھنے لگتے ہیں۔ ٹی وی سکرینوں پر بیٹھ کر یہ ایسے ایسے تجزیے کرتے ہیں کہ بندہ سوچتا ہے یہ کرکٹ کے ماہر ہیں یا کسی قدیم زمانے کے "نوحہ گر"۔ پچھلے دنوں جب پاکستان نے انڈیا جا کر کھیلنے سے انکار کیا، تو ان کے چینلز پر ایسا ماتم برپا تھا جیسے ورلڈ کپ نہیں، ان کی کوئی ذاتی جائیداد خطرے میں پڑ گئی ہو۔
ان کے تبصروں میں ایسی "سڑی ہوئی" بو آتی ہے کہ سکرین کے اس پار بھی روم سپرے کرنا پڑ جائے۔ جب آئی سی سی نے مداخلت کی اور پاکستان کھیلنے پر راضی ہوا، تو ان تبصرہ نگاروں نے ایسے پینترے بدلے جیسے کوئی گرگٹ بھی نہ بدل سکے۔ کوئی کہہ رہا تھا "پاکستان ڈر گیا"، تو کوئی یہ راگ الاپ رہا تھا کہ "ان کے پاس تو بالر ہی نہیں"۔ اب انہیں کون سمجھائے کہ بھائی! انکار ڈر کی وجہ سے نہیں، اصولوں کی وجہ سے تھا، مگر ان کے ہاں عقل اور کرکٹ کا تعلق ویسا ہی ہے جیسا پٹرول اور آگ کا۔
دیکھا جائے تو یہ کھیل ہی ہے جو ہمیں آپس میں جوڑتا ہے۔ جب ابرار احمد کی گیند کسی بلے باز کو چکمہ دیتی ہے، تو پورے محلے سے ایک ہی وقت میں "ہائے" کی آواز آتی ہے۔ جب صائم ایوب باؤنڈری مارتا ہے، تو ایسا لگتا ہے جیسے پورے ملک کی انا کو تسکین مل گئی ہے۔ یہ وہ جذبات ہیں جو ہمیں زندہ دل رکھتے ہیں۔
15 فروری کو سری لنکا کے میدان میں جو بھی ہو، لیکن پاکستان کی گلیوں میں کرکٹ کی جیت پہلے ہی ہو چکی ہے۔ عثمان طارق کا "ہتھیار" چلے نہ چلے، ابرار کی گگلی پھنسے نہ پھنسے، لیکن اس قوم کی دعا اور جنون کا جو امتزاج ہے، وہ کسی بھی ٹیم کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ بس دعا یہ ہے کہ اس دن انٹرنیٹ اور بجلی دونوں وفادار رہیں، باقی صائم ایوب اور عثمان طارق پر بھروسہ رکھا جا سکتا ہے۔
آخر میں کھلاڑیوں کے لیے صرف اتنا ہی کہ: "کھیلو تو ایسے کہ مخالف کو پسینہ آ جائے، اور اگر ہار جاؤ تو ایسے کہ لڑائی کا ملال نہ ہو"۔ مگر بھائی! انڈیا سے جیت گئے تو پھر سمجھو ورلڈ کپ ہمارا ہی ہے!
Comments
Post a Comment