Skip to main content

ترلائی کے شہیدوں کے نام

 اسلام آباد کے علاقے ترلائی کی فضا کل ایک ایسے زخم سے چور ہوئی جس کی ٹیسیں پوری قوم کے دل میں محسوس کی جا رہی ہیں۔ ایک مقدس جگہ، عبادت کا وقت اور معصوم انسان ۔۔۔۔ جنہیں صرف اس لیے نشانہ بنایا گیا کہ وہ محو عبادت تھے اور آسان ٹارگٹ تھے۔ یہ محض ایک دھماکہ نہیں تھا، بلکہ انسانیت، امن اور ہماری مشترکہ قدروں پر بزدلانہ وار تھا۔

جب ہم ان گھروں کا تصور کرتے ہیں جہاں کل شام چراغ نہیں جلے، جہاں مائیں اپنے بیٹوں کی واپسی کی منتظر تھیں اور بچے اپنے باپ کی دستک سننے کو بے قرار تھے، تو روح کانپ اٹھتی ہے۔ ترلائی کی اس مسجد کی در و دیوار نے جو منظر دیکھا، وہ لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ جائے نماز پر بکھرا خون اور فضا میں پھیلی آہیں ہمیں یہ یاد دلاتی ہیں کہ دہشت گرد کا نہ کوئی مذہب ہے اور نہ ہی کوئی انسانیت۔ وہ صرف خوف بانٹنا چاہتا ہے، لیکن وہ یہ بھول جاتا ہے کہ دکھ کی یہ گھڑی ہمیں توڑنے کے بجائے مزید جوڑ دیتی ہے۔

ایسے سانحات پر صرف آنسو بہانا کافی نہیں۔ یہ وقت ہے اپنے گریبانوں میں جھانکنے کا اور اس عزم کو دہرانے کا کہ ہم نفرت کی اس آگ کو اپنے اتحاد کی شبنم سے ٹھنڈا کریں گے۔ ہمیں مسلکوں، فرقوں اور لسانی بنیادوں سے بالاتر ہو کر ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بننا ہوگا۔ دشمن ہماری صفوں میں دراڑیں ڈالنا چاہتا ہے، لیکن ہماری ہمدردی اور ایک دوسرے کا دکھ بانٹنا ہی ہمارا سب سے بڑا دفاع ہے۔

اے باری تعالیٰ! ترلائی کے اس سانحے میں بچھڑنے والوں کو جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرما۔ ان کے لواحقین کو وہ صبرِ جمیل عطا کر جس کی تپش ان کے دکھوں کو سہنے کی ہمت بن جائے۔ زخمیوں کو شفائے کاملہ و عاجلہ عطا فرما۔

اے ربِ کریم! ہمارے ملک، ہماری مساجد اور ہماری گلیوں کو امن کا گہوارہ بنا دے۔ ہمیں ان شر پسندوں کے ناپاک عزائم سے محفوظ رکھ جو معصوموں کا خون بہا کر فتنہ پھیلانا چاہتے ہیں۔ ہماری قوم کے دلوں میں الفت پیدا کر دے تاکہ ہم دکھ کی اس گھڑی میں ایک جسم و جان کی طرح متحد رہیں۔ ہمیں وہ بصیرت عطا کر کہ ہم نفرت پھیلانے والوں کو پہچان سکیں اور اپنے وطن کی مٹی کو امن و آشتی کا نمونہ بنا سکیں۔آمین، یا رب العالمین۔

فضا ساکت ہے بستی کی

ہوا ٹھہری ہوئی سی ہے

وہ مسجد جس کے منبر سے

سحر دم گونجتی تھی اک صدائے حق

وہاں اب خون بکھرا ہے

صفیں رنگین ہیں اور

مصلے خوں میں ڈوبے ہیں

وہ ماتھے جو خدا کے سامنے

عجز و نیازِ شوق سےخم تھے

وہ اب مٹی میں مل کر

خاک کا پیوند ٹھہرے ہیں

کسی کی گود اجڑی ہے

کسی کا مان ٹوٹا ہے

کسی معصوم کی آنکھوں میں

اپنے باپ کا چہرہ

کسی دھندلی سی صورت میں مقید ہے

یہ کیسا جبر ہے آخر؟

کہ خالق کے ہی گھر میں

اس کے بندوں کو

اجل کے گھاٹ اتارا ہے

وہ وحشی جو لہو کی پیاس رکھتے ہیں

وہ کیا جانیں محبت کیا ہے؟

الفت کیا ہے؟ انساں کیا؟

مگر اے دشمنِ ہستی!

ہمارے دل اگرچہ غم سے بوجھل ہیں

مگر ٹوٹے نہیں اب تک

ہماری صف بہ صف وحدت

تمہارے وار سے بڑھ کر

ہمیشہ زندہ  و تابندہ  ٹھہرے گی

شہادت کا یہ خوں

 مٹی میں مل کر

امن کا پودا اگائے گا!

#نوریات

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

جب وہ گیسو سنوارتے ہوں گے

  جب وہ گیسو سنوارتے ہوں گے

مختصر سی زندگی

مختصر سی زندگی محمد نور آسی زندگی بہت مختصر ہے یہ فقرہ تو ہم دن میں شاید کئی بار سنتے ہیں ۔ لیکن کبھی غور نہیں کیا ۔ مختصر کیوں ، کیسے؟ اگر کسی کی عمراللہ کریم نے 50 سال لکھی ہے ، 70 سال لکھی ہے یا 100 سال- تو وہ دنیا میں اتنے ہی سال گذار کر جائے گا۔ پھر مختصر کیوں ہے زندگی ؟ میں کوئی مذہبی سکالر نہیں ۔ لیکن ایک بات جو اپنی کم علمی کے اعتراف کے باوجود جانتا ہوں وہ یہ ہے کہ ہم جب اپنی گذشتہ زندگی پر نظر ڈالتے ہیں تو ایسے لگتا ہے جیسے گذارے گئے دس ، بیس ، تیس سال تو گویا کل کی بات ہے۔ یوں گذرے گئے جیسے اک لمحہ گذرا ہو۔ اسی سے قیاس کرکے جب یہ سوچ ذہن میں آتی ہے کہ جب نزع کا عالم ہو گا تو ممکن ہے اس وقت ہمیں یہی محسوس ہو کہ ہماری 60، 70 زندگی یوں پلک چھپکتے گذر گئی کہ پتہ بھی نہ چلا۔ تو پھر شاید اسی لئے کہتے ہیں کہ زندگی مختصر ہے۔ ہاں سچ ہی تو کہتے ہیں۔ ذرا ایک لمحے کے لئے تصور کیجئے ۔ وہ پہلا دن جب آپ اسکول گئے۔ کل کی بات لگتی ہے نا۔ بے شک سر کے بال سفید ہوگئے یا سفیدی کی جانب سرک رہے ہیں لیکن محسوس ہوتا ہے ابھی تو ہم جوان ہیں۔ کوئی انکل بولے یا آنٹی تو حیرت سی ہوتی ہے۔ ہوتی ہے نا؟ اص...