Skip to main content

کائنات کے گیت


تھکن سے چور کائنات کے گیت

اب میرے کانوں میں رس نہیں گھولتے

کہ میں نے سماعتوں پر

وقت کی دھول کے پہرے بٹھا دیے ہیں

تم ٹھیک کہتے ہو۔۔۔

زمین محبت سے بانجھ ہو رہی ہے

مگر یہ جو میں کیاریوں سے جڑی بوٹیاں نکالتا ہوں

یہ دراصل اپنے اندر کے خاردار دکھوں کی صفائی ہے

میں مٹی میں انگلیاں اس لیے گاڑتا ہوں

کہ دیکھ سکوں، کہیں زندگی کی کوئی نبض

اب بھی باقی ہے یا نہیں؟

میں شکستہ پلوں اور ویران اسٹیشنوں پر

کسی مسافر کا انتظار نہیں کرتا

میں تو وہاں رک کر

اپنے گزرے ہوئے قدموں کی چاپ ڈھونڈتا ہوں

وہ قدم، جو کبھی عشق کی سرشاری میں

زمین کا سینہ دھکانے کی ہمت رکھتے تھے

رہی بات سولر سسٹم کے یونٹوں اور بجلی کے بلوں کی

تو یہ اس قید خانے کی دیواریں ہیں

جس میں ہم سب "باوقار طریقے سے" قید ہیں!

لو! میں نے جوگرز پہن لیے ہیں

تسمے بھی کس لیے ہیں اور جیکٹ بھی کاندھے پر ہے

مگر اے میرے ہم سفر!

بتا کہ میں کس سمت چلوں؟

کہ اب ہر راستہ بازار کی طرف جاتا ہے

اور ہر منزل، ایک نیا اشتہار بن چکی ہے

تم کہتے ہو کائنات گاتے گاتے تھک گئی ہے

تو آؤ، اس بار ہم دونوں مل کر

خاموشی کا ایک نیا راگ چھیڑتے ہیں

شاید زمین کو اس بار

آوازوں کی نہیں، گہری ہمدرد خاموشی کی ضرورت ہے

اٹھو! کہ محبت کی آخری جنگ

اب مٹی کے لیے نہیں،

اپنے اندر بچی ہوئی تھوڑی سی "انسانیت" کے لیے لڑنی ہے!



 

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

‏صبر کی طاقت اور کمال

  ‏صبر کی طاقت اور کمال صبر بظاہر ایک چھوٹی سی کرداری خوبی ہے ۔ لیکن صبر کی طاقت اور نتائج سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ صبر ایک خوبی نہیں بلکہ ایک ایسی طاقت ہے کہ آپ بڑے سے بڑے مسئلے کو حل کرستکے ہیں ۔ حضرت ایوب کا صبر اور برداشت مثالی تھا ۔ اسی طرح تاریخ سے صبر کی بے شمار مثالیں موجود ہوں ۔ لیکن آج ہم صبر کے حوالے سے مارش میلو تھیوری پر بات کریں گے۔ استاد نے کلاس کے سب بچوں کو ایک خوب صورت ٹافی دی اور پھر ایک عجیب بات کہی۔ ’’ سنو بچو! آپ سب نے دس منٹ تک اپنی ٹافی نہیں کھانی۔ ‘‘ یہ کہہ کہ وہ کلاس روم سے نکل گئے۔ چند لمحوں کے لیے کلاس میں خاموشی چھاگئی ، ہر بچہ اپنے سامنے پڑی ٹافی کو بے تابی سے دیکھ رہا تھا اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ان کے لیے خود کو روکنا مشکل ہو رہا تھا۔ دس منٹ پورے ہوئے اور استاد نے آ کر کلاس روم کا جائزہ لیا۔ پوری کلاس میں سات بچے ایسے تھے، جن کی ٹافیاں جوں کی توں تھیں، جب کہ باقی تمام بچے ٹافی کھا کر اس کے رنگ اور ذائقے پر تبصرہ کر رہے تھے۔ استاد نے چپکے سے ان سات بچوں کے نام اپنی ڈائری میں نوٹ کیے اور پڑھانا شروع کردیا۔ اس استاد کا نام پروفیسر والٹر مشا...

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر