Skip to main content

بچپن کا روزہ

 بچپن کی یادیں کسی پرانے البم کی طرح ہوتی ہیں، جنہیں جب بھی کھولا جائے، ان سے جڑی خوشبوئیں اور رنگ ذہن کو مہکا دیتے ہیں۔ ان یادوں میں سب سے روشن اور دلکش نقش پہلے روزے کا ہے، جو محض ایک عبادت نہیں بلکہ ایک ایسی یادگار تقریب تھی جس کا جادو آج بھی سر چڑھ کر بولتا ہے۔

مجھے آج بھی وہ دن یاد ہے جب بڑے شوق اور ولولے سے پہلا روزہ رکھا تھا۔ مئی جون کی کڑکتی دھوپ تھی اور گرمی اپنے پورے جوبن پر۔ صبح سحری کے وقت تو ایسا لگتا تھا جیسے ہم کوئی بہت بڑا معرکہ سر کرنے جا رہے ہیں، لیکن جوں جوں سورج سوا نیزے پر آیا، سارا شوق پسینہ بن کر بدن سے بہنے لگا۔ پیاس کی شدت نے وہ حال کیا کہ معصوم ذہن میں بار بار ٹھنڈے پانی  کا تصور چپک کر رہ گیا  ۔ ہونٹوں پر خشکی کی پپڑیاں جم گئیں اور وہ گھبراہٹ طاری ہوئی جو صرف ایک تپتی دوپہر میں روزہ رکھنے والا بچہ ہی محسوس کر سکتا ہے۔ بار بار غسل خانے جا کر سر پر پانی ڈالنا اور ٹھنڈک تلاش کرنا اس وقت کی سب سے بڑی عیاشی تھی۔

لیکن اس کٹھن دوپہر کے بعد جو شام آئی، وہ آج بھی میرے حافظے میں رقص کرتی ہے۔ جوں ہی سورج ڈھلنے لگا، گھر کی رونق بدل گئی۔ خالہ ، پھوپھی ، چچا ، اور دیگر  رشتہ دار جب  پہلے روزے پر کئی تحفوں کے ساتھ افطاری کی سوغاتیں لانے لگے  وہ سب کسی عام بچے کے لیے نہیں، بلکہ 'میرے' لیے   تھیں  اور میں خود کو کسی بڑے سیلیبریٹی  سے کم محسوس نہیں کر رہا تھا۔ وہ پروٹوکول، وہ محبت بھری نظریں اور وہ خصوصی توجہ... ان سب نے تپتی دوپہر کی ساری تکان اور پیاس پل بھر میں بھلا دی۔

سچ تو یہ ہے کہ اس وقت روزہ رکھنے کے پیچھے ایک معصوم سا لالچ بھی چھپا ہوتا تھا۔ دسترخوان پر سجے رنگ برنگے پھل، ٹھنڈے مشروبات اور سحری کی وہ خاص آؤ بھگت کسی میلے سے کم نہ تھی۔ افطاری کے آخری چند منٹ تو صدیوں پر محیط لگتے تھے، جب نظریں گھڑی کی سوئیوں اور کان مسجد کے مینار سے اٹھنے والی صدا پر لگے ہوتے تھے۔

آج جب پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ وہ بچپن کی تپتی دوپہریں، وہ بار بار نہانا اور وہ پیاس کی شدت دراصل ایک خاموش تربیت تھی۔ اسی مشقت نے ارادوں کو وہ پختگی دی کہ الحمدللہ! آج ایک طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود کبھی کوئی روزہ قضا نہیں ہوا۔ وہ صبر جو اس وقت پیاس کے سامنے سیکھا تھا، آج زندگی کے ہر مشکل موڑ پر کام آتا ہے۔

اب یہی ورثہ میں اپنے بچوں کو منتقل کر رہا ہوں۔ انہیں بھی وہی شوق،  وہی تقدس اور وہی محبت بھرا ماحول دیتا ہوں تاکہ وہ بھی اسی راستے پر چل سکیں جس نے میری زندگی کو ایک انوکھا توازن اور ڈسپلن بخشا۔ بچپن کا وہ پہلا روزہ گو ایک تربیتی روزہ تھا  مگر اس کی خوشبو آج بھی میرے ایمان اور کردار میں رچی بسی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

اے شہنشاہِ زمنﷺ

  اے شہنشاہِ زمنﷺ

پہلا روزہ

پہلا روزہ محمد نور آسی ہمیں نہ تو کسی نے مجبور کیا ، بہت ضد کی یا منت سماجت کی کہ خدا کے اپنے پہلے روزے کے بارے میں  اپنا ایک ادبی  شاہکار  اپنے "زورقلم اور زیادہ " والے قلم  سے  عنائت کریں  اور نہ ہی کسی نے ان باکس میں کوئی مسیج کیا نہ کسی نے ٹیک کیا۔  پھربھی پتہ نہیں کیوں ہم نے یہ تحریرلکھی ہے بلکہ اپنے ایک عدد بوسیدہ بلکہ خزان رسیدہ  بلاگ پر بھی ڈال دی ۔۔۔۔۔۔۔۔ پہلاروزہ رکھے ویسے تو اب اتنے سال بیت گئے ہیں کہ بہت ساری تفصیلات ذہن میں نہیں تاہم ماہ رمضان سے جڑے اپنے بچپن کے کچھ ایسے واقعات ضرور یاد ہیں جو کل کی طرح تازہ لگتے ہیں۔  پہلا روزہ جب رکھا تو یہ یاد نہیں کہ کیا کھایا کیا پیا البتہ شام کو جو آؤ بھگت ہوئی وہ نہیں بھولتی ۔  گھروالوں کے علاوہ خصوصا خالہ ، پھوپھو اور کزن نے جو تحائف پھلوں اور دیگر کھانے کی اشیاء اور نقدی  کی صورت میں دیے تو  دل کرتا تھا اب روزانہ روزہ ہی رکھیں گے ۔ وہ تو امی آڑے آ جاتی کہ معصوم جان اور سخت گرمی ۔ بس ایک روزہ کافی ہے ۔ ہاں جس دن موسم ٹھیک ہو گا اس دن رکھ لینا ۔ جمعے کا روزہ ضد کرکے ر...