رمضان صرف ایک مہینے کا
نام نہیں، بلکہ یہ روح اور بدن کے درمیان ٹوٹے ہوئے تعلق کو دوبارہ جوڑنے کی ایک
سالانہ مشق ہے۔ جیسے ہی ہلالِ رمضان آسمان کی وسعتوں میں نمودار ہوتا ہے، کائنات
کا سارا آہنگ بدل جاتا ہے۔ گلی کوچوں میں ایک عجیب سی مہک رچ بس جاتی ہے اور
انسان، جو عام دنوں میں اپنی خواہشات کا اسیر ہوتا ہے، اچانک ایک غیبی نظم و ضبط
کے تابع ہو جاتا ہے۔ ہم اسے عبادت کہتے ہیں، اور بلاشبہ یہ خالق کی خوشنودی کا
ذریعہ ہے، لیکن اگر بنظرِ غائر دیکھا جائے تو یہ تیس دن ہماری حیاتیاتی مشینری کی
"اوور ہالنگ" کا وہ نسخہ ہیں جو کسی لیبارٹری میں تیار نہیں ہوا۔
سحر کے وقت جب ستارے
اپنی آخری چمک دکھا رہے ہوتے ہیں، اس وقت بستر کی گرمی چھوڑنا اور دسترخوان پر
بیٹھنا بظاہر ایک مشقت ہے، مگر یہی وہ لمحہ ہے جہاں سے انسانی ارادے کی تربیت شروع
ہوتی ہے۔ ہم اکثر اپنی صحت کی خرابی کا رونا روتے ہیں، مگر ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ
ہمارا بدن مسلسل کام کرنے والی ایک ایسی مشین ہے جسے ہم نے کبھی آرام کا موقع ہی
نہیں دیا۔ سارا سال معدے کی بھٹی چوبیس گھنٹے دہکتی رہتی ہے۔ ہم بھوک نہ ہونے پر
بھی کھاتے ہیں، لذت کے لیے کھاتے ہیں، اور کبھی صرف اس لیے کھاتے ہیں کہ سامنے کچھ
رکھا ہے۔ رمضان کا پہلا تحفہ "توقف" (Pause) ہے۔ یہ رک جانا، یہ کچھ گھنٹوں کے لیے اپنے نظامِ ہضم کو خاموش
کر دینا، دراصل بدن کے اندرونی خلیوں کو صفائی کا موقع فراہم کرنا ہے۔
طبی نقطہ نظر سے دیکھا
جائے تو فاقہ کشی اور روزے میں ایک لطیف فرق ہے۔ فاقہ محرومی ہے، جبکہ روزہ ایک
ارادی انتخاب ہے۔ جب ہم روزے کی حالت میں ہوتے ہیں، تو ہمارا جسم توانائی کے حصول
کے لیے ذخیرہ شدہ چربی کو پگھلانا شروع کرتا ہے۔ یہ عمل صرف وزن کم کرنے کا ذریعہ
نہیں، بلکہ خون کی نالیوں میں جمی ہوئی رکاوٹوں کو دور کرنے کا ایک قدرتی طریقہ
ہے۔ ہم نے برسوں سے اپنے اندر جو فاسد مادے جمع کر رکھے ہوتے ہیں، بھوک کی تپش
انہیں جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی پرانے مکان کی سفیدی اتار
کر اسے نئے سرے سے رنگ دیا جائے۔
لیکن یہاں ایک بڑا تضاد
جنم لیتا ہے۔ ہم دن بھر تو پرہیز گاری کے اعلیٰ درجے پر ہوتے ہیں، مگر جیسے ہی
غروبِ آفتاب کا وقت قریب آتا ہے، ہماری نفسیات بدلنے لگتی ہے۔ افطار کا دسترخوان
ہماری ساری روحانی تربیت کا امتحان بن جاتا ہے۔ وہ تلے ہوئے پکوان، وہ رنگ برنگے
شربت، اور وہ مٹھائیاں جن کا تذکرہ سنتے ہی منہ میں پانی آ جائے ۔۔ یہ سب دراصل اس
صحت کے دشمن ہیں جسے ہم روزے کے ذریعے حاصل کرنا چاہتے تھے۔ مشاہدہ گواہ ہے کہ ہم
میں سے اکثر لوگ رمضان کے بعد پہلے سے زیادہ سست اور بھاری پن کا شکار ہو جاتے
ہیں۔ اس کی وجہ روزہ نہیں، بلکہ وہ افطار ہے جس میں ہم نے اعتدال کا دامن چھوڑ
دیا۔
ایک سچا روزہ دار وہ ہے
جو اپنی روح کی بالیدگی کے ساتھ اپنے بدن کی حرمت کا بھی خیال رکھے۔ کھجور سے روزہ
کھولنا صرف ایک سنت نہیں، بلکہ یہ فوری توانائی کا وہ کرشمہ ہے جو آپ کے دماغ کو
یہ پیغام بھیجتا ہے کہ اب خوراک پہنچ چکی ہے، لہٰذا بے صبری کی ضرورت نہیں۔ کھجور
میں موجود قدرتی شکر اور ریشہ (Fiber) معدے کو یکلخت بوجھ تلے دبنے سے بچاتے ہیں۔ اگر ہم صرف اس ایک
نکتے کو سمجھ لیں کہ افطار کا مطلب "تلافی" نہیں بلکہ "تکمیل"
ہے، تو ہماری آدھی بیماریاں خودبخود دم ختم ہو جائیں۔
حقیقت تو یہ ہے کہ سحری
اور افطاری کے درمیان کا وقفہ انسانی جگر کو آرام دینے کا بہترین وقت ہے۔ جگر، جو
دن بھر زہریلے مادوں کو صاف کرنے میں مصروف رہتا ہے، اسے اس مہینے میں وہ مہلت
ملتی ہے کہ وہ اپنے خلیوں کی مرمت کر سکے۔ لیکن یہ سب تبھی ممکن ہے جب ہم اپنی
خوراک کو سادہ اور فطری رکھیں۔ جب ہم سحری میں ضرورت سے زیادہ پانی پی لیتے ہیں یا
افطار میں چٹ پٹے اور مرچ مصالحے والے کھانوں کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں، تو ہم
اپنے نظامِ جسم کے ساتھ مذاق کر رہے ہوتے ہیں۔ انسانی بدن کو زبردستی بھرنے کی
ضرورت نہیں، اسے صرف سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔
اس مہینے کا حسن یہ ہے
کہ یہ ہمیں "کم میں جینے" کا ہنر سکھاتا ہے۔ وہ پیاس جو دوپہر کے وقت
حلق خشک کر دیتی ہے، وہ ہمیں پانی کی ایک ایک بوند کی قیمت بتاتی ہے۔ اور جب افطار
کے وقت وہی سادہ پانی حلق سے نیچے اترتا ہے، تو اس وقت جو آسودگی ملتی ہے، وہ کسی
شاہانہ ضیافت میں بھی میسر نہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں روحانیت اور صحت ایک ہو جاتے
ہیں۔ روح کو شکر گزاری کی غذا ملتی ہے اور بدن کو تطہیر کا موقع۔
رمضان کے دوسرے عشرے تک
پہنچتے پہنچتے انسانی بدن خود کو اس نئے نظام کے مطابق ڈھال چکا ہوتا ہے۔ اب وہ سر
درد یا نقاہت محسوس نہیں ہوتی جو ابتدائی دنوں میں تھی۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ
آپ کے جسم نے اپنے فاسد مادوں کو نکال باہر کیا ہے اور اب وہ ایک نئی توانائی کے
ساتھ کام کر رہا ہے۔ لیکن اس توانائی کو برقرار رکھنے کے لیے دوسرے حصے کی حکمتِ
عملی پہلے سے زیادہ اہم ہے۔
اکثر دیکھا گیا ہے کہ
لوگ افطار کے بعد سستی کا شکار ہو کر لیٹ جاتے ہیں۔ حالانکہ، نمازِ تراویح کی صورت میں
اسلام نے ہمیں ایک ایسی جسمانی حرکت عطا کی ہے جو نظامِ ہضم کو متحرک رکھنے کا
بہترین ذریعہ ہے۔ یہ محض رکوع و سجود نہیں، بلکہ یہ خون کی گردش کو برقرار رکھنے
اور عضلات کو لچکدار بنانے کی ایک مکمل ورزش ہے۔ جو لوگ افطار میں اعتدال سے کھاتے
ہیں اور پھر تراویح کی صورت میں متحرک رہتے ہیں، ان کے لیے ذیابیطس اور بلڈ پریشر
جیسے امراض پر قابو پانا حیرت انگیز طور پر آسان ہو جاتا ہے۔
صحت کے حوالے سے ایک اور
اہم پہلو "نیند کا توازن" ہے۔ سحری کے لیے بیدار ہونا اور پھر دن بھر کے
معمولات انجام دینا بظاہر نیند کی کمی کا باعث لگتا ہے، لیکن دوپہر کے وقت ایک
مختصر سا قیلولہ نہ صرف سنت ہے بلکہ یہ اعصابی نظام کو ری سیٹ (Reset) کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔ جدید سائنس اب تسلیم کر رہی ہے کہ دن
کے وقت کی چھوٹی سی نیند انسانی کارکردگی کو کئی گنا بڑھا دیتی ہے۔ رمضان ہمیں وقت
کی قدر سکھاتا ہے؛ یہ بتاتا ہے کہ زندگی صرف سونے اور کھانے کا نام نہیں، بلکہ یہ
جاگنے اور بیدار رہنے کا عمل ہے۔
خوراک کی ترتیب میں سب
سے بڑی غلطی "سحر سے افطار تک" کا سفر نہیں، بلکہ "افطار سے سحر
تک" کا بے ہنگم کھانا ہے۔ رات کے وقت ہلکی غذا، زیادہ سے زیادہ پانی کا
استعمال (مگر وقفے وقفے سے)، اور پھلوں کا انتخاب وہ عادات ہیں جو آپ کو عید کے دن
ایک نیا انسان بنا سکتی ہیں۔ ہم اکثر پھلوں کو افطار کا حصہ تو بناتے ہیں، مگر
انہیں کریموں اور چینی کے ڈھیر میں چھپا دیتے ہیں۔ فطرت کی سادگی میں ہی اصل شفا
ہے۔ اگر ہم صرف کچے پھل اور سبزیاں اپنی رات کی خوراک کا حصہ بنا لیں، تو رمضان کے
اختتام پر ہماری جلد کی چمک اور آنکھوں کی روشنی خود گواہی دے گی کہ ہم نے صرف
روزہ نہیں رکھا، بلکہ اپنی صحت کا مقدمہ بھی جیت لیا ہے۔
روحانی طور پر، جب ہم
جھوٹ، غیبت اور غصے سے پرہیز کرتے ہیں، تو اس کا براہِ راست اثر ہمارے
"اسٹریس ہارمونز" (Stress Hormones) پر پڑتا ہے۔ غصہ اور تناؤ انسانی معدے میں تیزابیت پیدا کرتے ہیں
اور دل کی دھڑکن کو بے ترتیب کرتے ہیں۔ رمضان ہمیں خاموشی اور صبر کا جو سبق دیتا
ہے، وہ کسی بھی مہنگی تھراپی سے بڑھ کر ہے۔ جب ذہن پرسکون ہوتا ہے، تو بدن کے زخم
جلدی بھرتے ہیں۔ یہ وہ نفسیاتی شفا ہے جو صرف اس مہینے کے تقدس سے وابستہ ہے۔
بالآخر، جب رمضان رخصت
ہونے کو ہوتا ہے، تو ایک عجیب سی اداسی کے ساتھ ساتھ ایک غیر معمولی ہلکا پن محسوس
ہوتا ہے۔ یہ ہلکا پن صرف روح کا نہیں، بلکہ اس بدن کا بھی ہوتا ہے جو اب اضافی
بوجھ سے آزاد ہو چکا ہے۔ ہم نے تیس دن میں یہ سیکھ لیا ہوتا ہے کہ ہم اپنی ضرورت
سے بہت کم کھا کر بھی زندہ رہ سکتے ہیں، اور وہ بھی پہلے سے زیادہ توانائی کے
ساتھ۔ یہ احساس کہ "ہم اپنی خواہشات کے مالک ہیں، غلام نہیں"، انسان کو
ایک عجیب سی خود اعتمادی عطا کرتا ہے۔
عید کا دن دراصل اس جیت
کا جشن ہونا چاہیے۔ روح کی جیت، ارادے کی جیت اور ایک صحت مند بدن کی بازیافت۔ اگر
ہم رمضان کی ان عادات کو سال کے باقی گیارہ مہینوں میں بھی تھوڑا بہت شامل رکھیں،
تو ہسپتالوں کی رونقیں کم اور میدانوں کی رونقیں بڑھ سکتی ہیں۔ یاد رکھیں، اللہ نے
ہمیں یہ مہینہ اس لیے دیا ہے کہ ہم تقویٰ اختیار کریں، اور تقویٰ کا ایک پہلو اپنی
اس امانت (بدن) کی حفاظت کرنا بھی ہے جو خالق نے ہمیں سونپی ہے۔
رمضان ایک موقع ہے، ایک
راستہ ہے اور ایک منزل ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم صرف مٹی کا ڈھیر نہیں، بلکہ
ایک روشن روح اور ایک متوازن جسم کا مجموعہ ہیں۔ اس سال جب آپ دسترخوان پر بیٹھیں،
تو صرف پیٹ بھرنے کا نہ سوچیں، بلکہ اس نظامِ قدرت کا شکر ادا کریں جو آپ کے اندر
خاموشی سے آپ کی زندگی کی ڈوریں مضبوط کر رہا ہے۔
Comments
Post a Comment