رمضان المبارک کا چاند ابھی افق پر نمودار نہیں ہوتا کہ ہمارے واٹس ایپ کی "ڈیجیٹل خانقاہوں" میں ہلچل مچ جاتی ہے۔ وہ واٹس ایپ گروپس جو سارا سال کسی متروکہ حویلی کی طرح سائیں سائیں کرتے ہیں اور جن میں آخری میسج پچھلی عید پر کسی دور کے کزن نے "خیر مبارک" کا بھیجا تھا، اچانک مردہ خانہ سے نکل کر میدانِ جنگ بن جاتے ہیں۔ جیسے ہی رویتِ ہلال کمیٹی کے مولانا صاحب دوربین سے چاند برآمد کرتے ہیں، ادھر واٹس ایپ پر مبارک بادوں کا ایسا ایٹمی دھماکہ ہوتا ہے کہ بندے کا فون تھرتھرا کر فریاد کرنے لگتا ہے۔ یہ گروپس دراصل ہماری سماجی زندگی کا وہ نچوڑ ہیں جہاں عبادت، عقیدت اور خالص دیسی مزاح کا ایک ایسا ملغوبہ تیار ہوتا ہے جس کی مثال دنیا کی کسی لیبارٹری میں نہیں ملتی۔
رمضان میں ان گروپس کا سب سے خطرناک کردار وہ
"سحری بیدار فورس" ہوتی ہے جنہیں اللہ نے شاید نیند کی نعمت سے محروم کر
کے دوسروں کی نیندیں حرام کرنے پر مامور کیا ہوتا ہے۔ ابھی سحری میں دو گھنٹے باقی
ہوتے ہیں کہ گروپ میں "اٹھو مومنو سحری کا وقت ہوا چاہتا ہے" کے دیدہ
زیب پوسٹرز کی بارش شروع ہو جاتی ہے۔ ان پوسٹرز میں چمکتے ہوئے چراغ اور اڑتی ہوئی
چڑیاں اس قدر تیزی سے آتی ہیں کہ بندہ سحری کی برکت سمیٹنے کے بجائے یہ سوچنے پر
مجبور ہو جاتا ہے کہ کیا یہ بھائی صاحب پوری رات موبائل ہاتھ میں لیے غسل خانے کے
باہر ڈھول بجانے والے کا انتظار کر رہے تھے؟ ان کا جوش و خروش دیکھ کر گمان ہوتا
ہے کہ اگر آج ہم نے ان کے میسج پر "آمین" نہ لکھا یا جواب میں "جاگ
رہے ہیں بھائی" نہ کہا، تو شاید ہمارا روزہ ہی مشکوک ہو جائے گا۔
پھر باری آتی ہے ان "ڈیجیٹل مفتیوں"
کی جن کا علم رمضان میں ابال کھاتے ہوئے دودھ کی طرح باہر گرنے لگتا ہے۔ گروپ میں
ایسی ایسی شرعی ابحاث چھڑتی ہیں کہ الا ماں۔ ایک صاحب پوچھیں گے کہ "کیا
خوشبو سونگھنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟" تو دوسرے صاحب، جنہوں نے زندگی میں کبھی
کیمسٹری کی کتاب نہیں کھولی، وہ ایسی سائنسی اور منطقی دلیلیں دیں گے کہ بندہ
خوشبو تو کیا، سانس لینے سے بھی ڈرنے لگے۔ ان گروپس میں "ٹوتھ پیسٹ بمقابلہ
مسواک" کی وہ طویل جنگ لڑی جاتی ہے جس کا کوئی نتیجہ آج تک برآمد نہیں ہو
سکا، مگر بحث کرنے والوں کا جذبہ ایسا ہوتا ہے جیسے وہ اسی گروپ میں بیٹھ کر پوری
امت کی تقدیر کا فیصلہ کر کے ہی اٹھیں گے۔ ہر میسج کے نیچے "شیئر کریں صدقہ
جاریہ ہے" کا ایسا لیبل لگا ہوتا ہے کہ اگر آپ اسے آگے نہ بھیجیں تو آپ کو
اپنی پارسائی خطرے میں نظر آنے لگتی ہے۔
دوپہر ہوتے ہوتے ان گروپس کا رنگ بدل کر
"ماسٹر شیف" کے مقابلے جیسا ہو جاتا ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب خواتین
اپنے کچن کی خفیہ کارروائیوں کو دنیا پر آشکار کرنے کا ارادہ کرتی ہیں۔ گروپ میں
پکوڑوں، سموسوں اور رول کی ایسی ایچ ڈی تصاویر آتی ہیں کہ پندرہویں روزے کی پیاس
میں تڑپتا ہوا روزہ دار سکرین کو ہی ٹھنڈی آہیں بھر کر دیکھنے لگتا ہے۔ تصویر
بھیجنے والی بہن ساتھ یہ بھی لکھتی ہیں کہ "آج بہت سادہ افطاری ہے"،
حالانکہ تصویر میں موجود لوازمات دیکھ کر لگتا ہے کہ پورے محلے کی دعوت کا انتظام
دسترخوان پر موجود ہے۔ ان تصاویر پر آنے والے کمنٹس کا اپنا ہی ایک الگ جہان ہے۔
کوئی "ماشاء اللہ" کہہ کر اپنی حسرت چھپاتا ہے تو کوئی "ہمیں کب
کھلا رہی ہیں" لکھ کر مفت خوری کی راہ ہموار کرتا ہے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے
کہ جو تصویر سب سے زیادہ لائیک سمیٹتی ہے، اس کے بارے میں بعد میں پتہ چلتا ہے کہ
وہ اصل میں گوگل سے ڈاؤن لوڈ کی گئی تھی اور بیگم صاحبہ نے صرف اپنی تخلیقی
صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے لیے اسے اپنی محنت قرار دے دیا تھا۔
رمضان کے ان واٹس ایپ گروپس میں ایک طبقہ
"خاموش تماشائیوں" کا بھی ہوتا ہے جو سارا دن میسجز پڑھتے ہیں، ویڈیوز
دیکھتے ہیں، مگر جواب میں کبھی ایک لفظ نہیں لکھتے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو
"میوٹ" بٹن کے سچے پیروکار ہوتے ہیں۔ یہ صرف افطار سے پانچ منٹ پہلے
گروپ میں داخل ہوتے ہیں تاکہ یہ دیکھ سکیں کہ کہیں عید کا اعلان تو نہیں ہو گیا یا
کسی نے افطار کے وقت کی کوئی خاص دعا تو نہیں بھیج دی۔ ان کی خاموشی اتنی پر اسرار
ہوتی ہے کہ گروپ کے ایڈمن کو بعض اوقات شک ہونے لگتا ہے کہ کہیں یہ ممبر صاحب روزے
کی شدت سے بے ہوش تو نہیں ہو گئے۔ لیکن جیسے ہی کوئی سیاسی یا تیکھی بات چھیڑی
جائے، یہ حضرات اچانک کسی جن کی طرح نمودار ہوتے ہیں اور ایک دو جملے پھینک کر
دوبارہ غائب ہو جاتے ہیں۔
افطار کے بعد ان گروپس کا عالم دیکھنے والا ہوتا
ہے۔ مغرب کی اذان ہوتے ہی ایسا سکوت طاری ہوتا ہے کہ لگتا ہے مارک زکربرگ نے
پاکستان کے لیے واٹس ایپ سروس معطل کر دی ہے۔ کوئی میسج نہیں، کوئی تصویر نہیں،
کوئی تسبیح نہیں۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب انسانیت کا واحد مقصد صرف اور صرف 'انصاف'
کرنا ہوتا ہے ۔۔ وہ انصاف جو دسترخوان پر موجود پکوڑوں اور شربت کے ساتھ کیا جاتا
ہے۔ اس ایک گھنٹے کی خاموشی میں وہ سکون ہوتا ہے جو شاید ہمالیہ کی چوٹیوں پر بھی
میسر نہ ہو۔ لیکن جیسے ہی پیٹ بھرتا ہے اور چائے کا پہلا گھونٹ حلق سے نیچے اترتا
ہے، انسانی عقل دوبارہ بیدار ہوتی ہے اور گروپ میں پہلا میسج نمودار ہوتا ہے:
"الحمد للہ بہت بھرپور افطاری تھی"۔ یہیں سے تنقید اور تبصروں کا وہ
دوسرا دور شروع ہوتا ہے جو تراویح تک جاری رہتا ہے۔
تراویح کے بعد ان گروپس میں "روحانی اور
جسمانی ٹوٹکوں" کا بازار سجتا ہے۔ کوئی صاحب یوٹیوب کی کسی گمنام ویڈیو کا
لنک بھیجیں گے جس میں بتایا گیا ہو گا کہ سحری میں پاؤں کے انگوٹھے پر سرسوں کا
تیل لگانے سے پیاس نہیں لگتی۔ اب سارا گروپ اس سائنسی معجزے پر بحث کر رہا ہو گا
کہ آیا تیل سرسوں کا ہونا چاہیے یا زیتون کا۔ کچھ لوگ اپنی اپنی تجربہ گاہوں کی
رپورٹیں پیش کریں گے کہ "میں نے پچھلے سال لگایا تھا، پیاس تو لگی تھی مگر
انگوٹھا بڑا چمکنے لگا تھا"۔ یہ ٹوٹکے اتنے معصوم اور مضحکہ خیز ہوتے ہیں کہ
بندہ یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ ہم نے شاید تعلیم پر بلاوجہ اتنا پیسہ خرچ
کیا، اصل شفا تو ان واٹس ایپ ٹوٹکوں میں چھپی ہوئی ہے۔
رمضان کا آخری عشرہ آتے ہی ان گروپس میں
"الوداعی" کیفیت پیدا ہونے لگتی ہے، مگر یہ اداسی سے زیادہ عید کی
خریداری اور درزیوں کی بے وفائی کے تذکروں سے بھرپور ہوتی ہے۔ اب گروپس میں دعاؤں
کی جگہ ان درزیوں کی شکایتیں آتی ہیں جنہوں نے سوٹ خراب کر دیا یا فون اٹھانا بند
کر دیا۔ مرد حضرات عید کے جوتوں کی تصویریں بھیج کر مشورے مانگتے ہیں، حالانکہ
انہوں نے وہی جوتا خریدنا ہوتا ہے جو دکان پر سب سے سستا مل رہا ہو۔ اسی دوران وہ
ممبرز بھی سرگرم ہو جاتے ہیں جو پورے مہینے "انڈر گراؤنڈ" تھے، کیونکہ
اب انہیں عید کی عیدی کے لیے تعلقات استوار کرنے ہوتے ہیں۔ عید کا چاند نظر آنے کی
افواہیں ان گروپس کا سب سے بڑا تفریحی عنصر ہوتی ہیں۔ جیسے ہی کسی گمنام ویب سائٹ
پر خبر آتی ہے، گروپ میں کھلبلی مچ جاتی ہے۔ ایڈمن صاحب اپنی اتھارٹی استعمال کرتے
ہوئے "تصدیق شدہ خبر" کا انتظار کرنے کی تلقین کرتے ہیں، مگر تب تک آدھا
گروپ عید کی نماز کے اوقات بھی طے کر چکا ہوتا ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ یہ واٹس ایپ گروپس ہمارے رمضان
کا ایک ایسا حصہ بن چکے ہیں جس کے بغیر اب یہ مہینہ کچھ ادھورا سا لگتا ہے۔ یہ
ہمیں جوڑتے بھی ہیں اور بعض اوقات ہماری برداشت کا امتحان بھی لیتے ہیں۔ ان میں
موجود وہ چچا جان جو ہر بات پر نصیحت کرتے ہیں، وہ کزن جو صرف مزاحیہ میمز بھیجتا
ہے، اور وہ محترمہ جو صرف اپنی افطاری کی نمائش کرتی ہیں ۔۔ یہ سب مل کر ایک ایسا
گلدستہ بناتے ہیں جس کی خوشبو صرف رمضان میں ہی آتی ہے۔ یہ گروپس ہمیں بتاتے ہیں
کہ ہم چاہے جتنے بھی جدید ہو جائیں، ہماری جڑیں وہی پرانی باتوں، وہی چھوٹی چھوٹی
خوشیوں اور وہی آپسی چھیڑ چھاڑ میں پیوست ہیں۔ رمضان کے یہ تیس دن ہمیں یہ سکھاتے
ہیں کہ زندگی صرف بھوکا پیاسا رہنے کا نام نہیں، بلکہ اپنوں کے ساتھ مل کر
مسکرانے، ایک دوسرے کی "ڈیجیٹل لغزشوں" کو معاف کرنے اور اسکرین کے اس
پار بیٹھے انسان کے لیے دعا کرنے کا نام ہے۔ اس لیے اس بار جب آپ کے گروپ میں کوئی
فضول سا ٹوٹکا یا پکوڑوں کی جلی ہوئی تصویر آئے، تو اسے ڈیلیٹ کرنے کے بجائے ایک
مسکراہٹ کے ساتھ قبول کر لیں، کیونکہ یہی وہ رنگ ہیں جو ہمارے رمضان کو یادگار
بناتے ہیں۔
Comments
Post a Comment