اسلام آباد کی سرمئی صبح، جہاں بادلوں نے مارگلہ کی چوٹیوں کو اپنی آغوش میں لے رکھا ہے، محض ایک موسمی تبدیلی نہیں بلکہ ایک نفسیاتی واردات ہے۔ جب آسمان سے بوندیں نہیں، بلکہ خاموشی گر رہی ہو، تو انسان خود سے چھپ نہیں سکتا۔
یہ جو ہلکی بوندا باندی ہے، یہ دراصل زمین اور آسمان کے درمیان ہونے والی ایک سرگوشی ہے۔ کبھی یہ پھوار کی صورت میں گالوں کو چھوتی ہے تو کبھی خاموش ہو کر انتظار کا کرب بڑھا دیتی ہے۔ اس موسم کا سب سے انوکھا زاویہ یہ ہے کہ یہ ماضی کو حال کے آئینے میں لا کھڑا کرتا ہے۔
اکثر لوگ اسے اداسی کہتے ہیں، مگر یہ اداسی نہیں بلکہ خود شناسی کا وہ لمحہ ہے جہاں ہم اپنی مصروفیات کی ڈھال اتار کر کھڑے ہوتے ہیں۔ بوندوں کا تسلسل جب ٹوٹتا ہے، تو وہ وقفہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ زندگی بھی تو ایسی ہی ہے؛ کبھی خوشیوں کی جھڑی اور کبھی ٹھہرا ہوا سناٹا۔
اس موسم میں ایک عجیب تضاد ہے۔ سرور سا ہے جو تخلیق کار کو نئے استعاروں کی نوید دیتا ہے۔ اور اک ملال سا ہے جو بچھڑے ہوئے لوگوں کی دستک بن کر دل پر گرتا ہے۔
مارگلہ کی ڈھلوانوں پر اترتی یہ ہلکی ہلکی دھند ہمیں کہہ رہی ہے کہ حقیقت ہمیشہ واضح نہیں ہوتی، کچھ چیزیں دھندلی ہی بھلی لگتی ہیں۔ یہ موسم ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ ہم اپنی اندرونی دنیا کی گرد صاف کریں۔ ہر قطرہ ایک سوال ہے اور ہر خاموشی ایک جواب۔
بارش کی ہر بوند مٹی پر نہیں گرتی، کچھ بوندیں براہِ راست روح میں اتر کر پرانے زخموں کو ہرا اور نئی امیدوں کو زندہ کر دیتی ہیں۔
Comments
Post a Comment