Skip to main content

اداسی اور خود شناسی


اسلام آباد کی سرمئی صبح، جہاں بادلوں نے مارگلہ کی چوٹیوں کو اپنی آغوش میں لے رکھا ہے، محض ایک موسمی تبدیلی نہیں بلکہ ایک نفسیاتی واردات ہے۔ جب آسمان سے بوندیں نہیں، بلکہ خاموشی گر رہی ہو، تو انسان خود سے چھپ نہیں سکتا۔
یہ جو ہلکی بوندا باندی ہے، یہ دراصل زمین اور آسمان کے درمیان ہونے والی ایک سرگوشی ہے۔ کبھی یہ پھوار کی صورت میں گالوں کو چھوتی ہے تو کبھی خاموش ہو کر انتظار کا کرب بڑھا دیتی ہے۔ اس موسم کا سب سے انوکھا زاویہ یہ ہے کہ یہ ماضی کو حال کے آئینے میں لا کھڑا کرتا ہے۔
اکثر لوگ اسے اداسی کہتے ہیں، مگر یہ اداسی نہیں بلکہ خود شناسی کا وہ لمحہ ہے جہاں ہم اپنی مصروفیات کی ڈھال اتار کر کھڑے ہوتے ہیں۔ بوندوں کا تسلسل جب ٹوٹتا ہے، تو وہ وقفہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ زندگی بھی تو ایسی ہی ہے؛ کبھی خوشیوں کی جھڑی اور کبھی ٹھہرا ہوا سناٹا۔
اس موسم میں ایک عجیب تضاد ہے۔ سرور سا ہے جو تخلیق کار کو نئے استعاروں کی نوید دیتا ہے۔ اور اک ملال سا ہے جو بچھڑے ہوئے لوگوں کی دستک بن کر دل پر گرتا ہے۔
مارگلہ کی ڈھلوانوں پر اترتی یہ ہلکی ہلکی دھند ہمیں کہہ رہی ہے کہ حقیقت ہمیشہ واضح نہیں ہوتی، کچھ چیزیں دھندلی ہی بھلی لگتی ہیں۔ یہ موسم ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ ہم اپنی اندرونی دنیا کی گرد صاف کریں۔ ہر قطرہ ایک سوال ہے اور ہر خاموشی ایک جواب۔
بارش کی ہر بوند مٹی پر نہیں گرتی، کچھ بوندیں براہِ راست روح میں اتر کر پرانے زخموں کو ہرا اور نئی امیدوں کو زندہ کر دیتی ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر  

مس کالوجی ۔ ایک نیا مضمون

مس کالوجی ۔ ایک نیا مضمون محمد نور آسی محترم قارئین آپ نے بیا لوجی، سائیکا لو جی ، فزیالوجی وغیرہ تو پڑھا یا سنا ہو گا یہ مس کا لوجی کیا ہے؟ یہ ہم آپ کو بتا تے ہیں یہ در اصل دو الفا ظ سے مل کر بنا ہے مس کال اور لوجی یعنی وہ علم جس میں مس کالوں کی سائنس کے بارے میں پڑھا یا جاتا ہے جی ہاں یہ بالکل نئی سائنس ہے اور اسکی دریافت بلکہ ایجا د کہئیے ، کا سہرا سب پاکستانیوں کے سر پر ہے سب سے پہلے کس نے مس کال دی- اس کے بارے میں   کوئی مصدقہ حوالہ موجود نہیں تاہم غیر معتبر راویوں کا بیان ہے اور اغلب یہ ہے کہ کسی عاشق نامراد نے حسب روائت تہی بیلنس ہونے کی صورت میں اپنی محبوبہ کو دی ہوگی۔ راوی اس بارے میں خاموش ہے کہ آیا اسکی محبوبہ نے آگے سے کیا رسپانس دیا؟ مس کا ل ایک فن ہے ، ایک سائنس ہے یہ ہر کسی کے بس کا کھیل نہیں ۔۔ بہت سارے سیدھے ، اس سائنس سے نا واقف لوگ مس کا لیں دیتے دیتے اپنا بیلنس زیرو کر بیٹھتے ہیں اور پھر حیران ، پریشان ہو کر کہتے ہیں یہ موبائل کمپنی والے بڑے بے ایمان ہیں ۔ ابھی کل ہی سوروپے بیلنس ڈلوایا تھا ایک دفعہ بھی بات نہیں کی اور بیلنس زیرو۔ لعنت ہو ۔۔۔۔ کمپنی...