Skip to main content

حیرت کا منشور


تمہیں کیوں کر لگا!

کہ رنگ پیراہنِ گل کے ہیں؟

یا یہ قوسِ قزح جو آسماں پر تان دی گئی ہے

فقط اک اتفاقی عکس ہے؟

ذرا ٹھہرو!

بصارت کی حدوں سے پار جھانکو تو

خبر ہو گی۔۔۔

کہ یہ جتنا تماشا ہے، تمہارے ہی سبب سے ہے

تمہارے چشمِ حیراں میں چھپا منشور ایسا ہے

جو بے رنگ روشنی کو بانٹ دیتا ہے

ہزاروں زاویوں میں، ان گنت احساسِ رنگیں میں!

اگر تم کالی راتوں کے کسی اندھے کنویں میں ہو

جہاں ذروں کی جنبش بھی دکھائی دے نہیں پاتی

تو وہ تاریکی بھی تو اک رنگ ہے

تمہاری وسعتِ جاں کا!

وہ نیلاہٹ، جو تم بادل کے پیچھے ڈھونڈتے پھرتے ہو

تمہارے خواب کی گہرائیوں سے مستعاری ہے

اور وہ سرخی۔۔۔

جو تم نے اضطرابِ موجِ خوں کو سونپ رکھی ہے

وہ مٹی کی نہیں، اس آگ کی اک لہر ہے

جو تمہارے حرفِ حق میں ڈھل نہیں پائی!

عجب ہے یہ طلسمِ رنگ و بو بھی

کہ ہم خود رنگوں کا منبع ہیں

مگر باہر کی اشیاء میں یہ حیرت ڈھونڈتے ہیں

کبھی سوچا؟

اگر تم ہی نہ ہو گے، تو ہری شاخوں کی ہریالی

کسی بے معنی گونگے پن کا حصہ بن کے رہ جائے

نہیں ہے رنگ مادہ ۔۔۔

رنگ تو اک گفتگو ہے!

روشنی اور تمہارے لمسِ باطن کا

اگر تم اپنے اندر جھانک کر دیکھو

تو خود کو ایک ایسی روشنی پاؤ گے

جس کے ہاتھ میں، کائنات کی بے رنگ تصویر ہے

اور ہر وہ رنگ جو تم نے کہیں دیکھا ہے

تمہارے ہی وجود کا اک ادھورا سچ ہے!

تمہاری روح کا رنگ کیا ہے؟

یہ وہ حیرت ہے۔۔۔

جسے پانے کی خاطر، روشنی بھی رقص کرتی ہے!

#نوریات

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

اے شہنشاہِ زمنﷺ

  اے شہنشاہِ زمنﷺ

پہلا روزہ

پہلا روزہ محمد نور آسی ہمیں نہ تو کسی نے مجبور کیا ، بہت ضد کی یا منت سماجت کی کہ خدا کے اپنے پہلے روزے کے بارے میں  اپنا ایک ادبی  شاہکار  اپنے "زورقلم اور زیادہ " والے قلم  سے  عنائت کریں  اور نہ ہی کسی نے ان باکس میں کوئی مسیج کیا نہ کسی نے ٹیک کیا۔  پھربھی پتہ نہیں کیوں ہم نے یہ تحریرلکھی ہے بلکہ اپنے ایک عدد بوسیدہ بلکہ خزان رسیدہ  بلاگ پر بھی ڈال دی ۔۔۔۔۔۔۔۔ پہلاروزہ رکھے ویسے تو اب اتنے سال بیت گئے ہیں کہ بہت ساری تفصیلات ذہن میں نہیں تاہم ماہ رمضان سے جڑے اپنے بچپن کے کچھ ایسے واقعات ضرور یاد ہیں جو کل کی طرح تازہ لگتے ہیں۔  پہلا روزہ جب رکھا تو یہ یاد نہیں کہ کیا کھایا کیا پیا البتہ شام کو جو آؤ بھگت ہوئی وہ نہیں بھولتی ۔  گھروالوں کے علاوہ خصوصا خالہ ، پھوپھو اور کزن نے جو تحائف پھلوں اور دیگر کھانے کی اشیاء اور نقدی  کی صورت میں دیے تو  دل کرتا تھا اب روزانہ روزہ ہی رکھیں گے ۔ وہ تو امی آڑے آ جاتی کہ معصوم جان اور سخت گرمی ۔ بس ایک روزہ کافی ہے ۔ ہاں جس دن موسم ٹھیک ہو گا اس دن رکھ لینا ۔ جمعے کا روزہ ضد کرکے ر...