Skip to main content

Posts

Showing posts with the label تعجب ہے کہ جو سردار بھی ہے

تعجب ہے کہ جو سردار بھی ہے

 تعجب ہے کہ جو سردار بھی ہے تعجب ہے کہ جو سردار بھی ہے   قبیلے کا وہی غدار بھی ہے عداوت سے بہت بےزار بھی ہے   مگر وہ برسرِ پیکار بھی ہے محبت وادی ء پرخار بھی ہے کرم ہوجائے تو گل زار بھی ہے اسی سے زندگی میں رنگ سارے تعلق باعث آزار بھی ہے لبوں پر "ہاں"   نگاہوں میں "نہیں" ہے "بہم انکار بھی اقرار بھی ہے" کنارے میری قسمت میں کہاں ہیں کوئی دریا ہی دریا پار بھی ہے تیرے لہجے میں جھرنوں کا ترنم مگر تلوار سی اک دھار بھی ہے   کس و ناکس کی جو کرتا ہو عزت وہی تعظیم کا حق دار بھی ہے وہی ہے دل کی راحت کا سبب بھی مگر وہ باعثِ آزار بھی ہے میرا وجدان آسی کہ رہا ہے کوئی روزن پسِ دیوار بھی ہے محمد نور آسی 27 جولائی 2020