Skip to main content

بازگشت


ہم نے بہت سے شہر دیکھے
اور بہت سی گلیوں میں زندگی کی قبا بچا کر گزرے
مگر وہ ایک راستہ
جو بچپن کے خوابوں سے شروع ہو کر
موجودہ لمحے کی خاموشی تک آتا ہے
وہی ہمارا اصل ٹھکانہ ہے

وہاں اب ہوائیں بدل چکی ہیں
اور آسمان پر پتنگوں کی جگہ
وقت کی گرد اڑتی ہے
دیواریں اب بھی کچھ سننا چاہتی ہیں
شاید ان قدموں کی چاپ
جو اب کسی بوڑھے آدمی کے بوجھل قدم بن چکے ہیں

وہ پرانا برگد
جو تنہا اور متین کھڑا ہے
وہ ہم سب کا گواہ ہے
وہ جانتا ہے کہ
کرکٹ اور بارش کے وہ ساتھی
کہیں گم نہیں ہوئے
بلکہ زندگی کے دھوئیں میں تحلیل ہو کر
خود ایک داستان بن گئے ہیں

ہم اینٹوں کو چھوتے ہیں
تو وہ ہمیں نہیں پہچانتیں
کیونکہ ہم نے بھی تو اپنا چہرہ بدل لیا ہے
ہم اب وہ بچے نہیں رہے
جو ننگے پاؤں دوڑتے تھے
اور جن کی ہنسی جنگلی پرندے کی طرح آزاد تھی

مگر ایک سچ اب بھی باقی ہے
کہ جب ہم اس ویران گلی سے لوٹتے ہیں
تو ہمارے سینے میں
وہی معصوم اور لامتناہی محبت ہوتی ہے
جو کسی بھی مصلحت کو نہیں مانتی
جو دستار سنبھالنے کے فن سے واقف نہیں
جو صرف یہ جانتی ہے کہ
یادوں کا لمس ہی جینے کا اصل جواز ہے

چاہے سینے پر تیر ہوں یا یادوں کے زخم
ہمیں اس صف میں کھڑا ہونا ہے
جہاں محبت کا بھرم قائم رہے
اور جہاں وقت کی بے رحمی کے باوجود
انسان کا "انسان" ہونا شکست نہ کھائے!

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

‏صبر کی طاقت اور کمال

  ‏صبر کی طاقت اور کمال صبر بظاہر ایک چھوٹی سی کرداری خوبی ہے ۔ لیکن صبر کی طاقت اور نتائج سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ صبر ایک خوبی نہیں بلکہ ایک ایسی طاقت ہے کہ آپ بڑے سے بڑے مسئلے کو حل کرستکے ہیں ۔ حضرت ایوب کا صبر اور برداشت مثالی تھا ۔ اسی طرح تاریخ سے صبر کی بے شمار مثالیں موجود ہوں ۔ لیکن آج ہم صبر کے حوالے سے مارش میلو تھیوری پر بات کریں گے۔ استاد نے کلاس کے سب بچوں کو ایک خوب صورت ٹافی دی اور پھر ایک عجیب بات کہی۔ ’’ سنو بچو! آپ سب نے دس منٹ تک اپنی ٹافی نہیں کھانی۔ ‘‘ یہ کہہ کہ وہ کلاس روم سے نکل گئے۔ چند لمحوں کے لیے کلاس میں خاموشی چھاگئی ، ہر بچہ اپنے سامنے پڑی ٹافی کو بے تابی سے دیکھ رہا تھا اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ان کے لیے خود کو روکنا مشکل ہو رہا تھا۔ دس منٹ پورے ہوئے اور استاد نے آ کر کلاس روم کا جائزہ لیا۔ پوری کلاس میں سات بچے ایسے تھے، جن کی ٹافیاں جوں کی توں تھیں، جب کہ باقی تمام بچے ٹافی کھا کر اس کے رنگ اور ذائقے پر تبصرہ کر رہے تھے۔ استاد نے چپکے سے ان سات بچوں کے نام اپنی ڈائری میں نوٹ کیے اور پڑھانا شروع کردیا۔ اس استاد کا نام پروفیسر والٹر مشا...

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر