ہم نے بہت سے شہر دیکھے
اور بہت سی گلیوں میں زندگی کی قبا بچا کر گزرے
مگر وہ ایک راستہ
جو بچپن کے خوابوں سے شروع ہو کر
موجودہ لمحے کی خاموشی تک آتا ہے
وہی ہمارا اصل ٹھکانہ ہے
وہاں اب ہوائیں بدل چکی ہیں
اور آسمان پر پتنگوں کی جگہ
وقت کی گرد اڑتی ہے
دیواریں اب بھی کچھ سننا چاہتی ہیں
شاید ان قدموں کی چاپ
جو اب کسی بوڑھے آدمی کے بوجھل قدم بن چکے ہیں
وہ پرانا برگد
جو تنہا اور متین کھڑا ہے
وہ ہم سب کا گواہ ہے
وہ جانتا ہے کہ
کرکٹ اور بارش کے وہ ساتھی
کہیں گم نہیں ہوئے
بلکہ زندگی کے دھوئیں میں تحلیل ہو کر
خود ایک داستان بن گئے ہیں
ہم اینٹوں کو چھوتے ہیں
تو وہ ہمیں نہیں پہچانتیں
کیونکہ ہم نے بھی تو اپنا چہرہ بدل لیا ہے
ہم اب وہ بچے نہیں رہے
جو ننگے پاؤں دوڑتے تھے
اور جن کی ہنسی جنگلی پرندے کی طرح آزاد تھی
مگر ایک سچ اب بھی باقی ہے
کہ جب ہم اس ویران گلی سے لوٹتے ہیں
تو ہمارے سینے میں
وہی معصوم اور لامتناہی محبت ہوتی ہے
جو کسی بھی مصلحت کو نہیں مانتی
جو دستار سنبھالنے کے فن سے واقف نہیں
جو صرف یہ جانتی ہے کہ
یادوں کا لمس ہی جینے کا اصل جواز ہے
چاہے سینے پر تیر ہوں یا یادوں کے زخم
ہمیں اس صف میں کھڑا ہونا ہے
جہاں محبت کا بھرم قائم رہے
اور جہاں وقت کی بے رحمی کے باوجود
انسان کا "انسان" ہونا شکست نہ کھائے!
پہلا روزہ محمد نور آسی ہمیں نہ تو کسی نے مجبور کیا ، بہت ضد کی یا منت سماجت کی کہ خدا کے اپنے پہلے روزے کے بارے میں اپنا ایک ادبی شاہکار اپنے "زورقلم اور زیادہ " والے قلم سے عنائت کریں اور نہ ہی کسی نے ان باکس میں کوئی مسیج کیا نہ کسی نے ٹیک کیا۔ پھربھی پتہ نہیں کیوں ہم نے یہ تحریرلکھی ہے بلکہ اپنے ایک عدد بوسیدہ بلکہ خزان رسیدہ بلاگ پر بھی ڈال دی ۔۔۔۔۔۔۔۔ پہلاروزہ رکھے ویسے تو اب اتنے سال بیت گئے ہیں کہ بہت ساری تفصیلات ذہن میں نہیں تاہم ماہ رمضان سے جڑے اپنے بچپن کے کچھ ایسے واقعات ضرور یاد ہیں جو کل کی طرح تازہ لگتے ہیں۔ پہلا روزہ جب رکھا تو یہ یاد نہیں کہ کیا کھایا کیا پیا البتہ شام کو جو آؤ بھگت ہوئی وہ نہیں بھولتی ۔ گھروالوں کے علاوہ خصوصا خالہ ، پھوپھو اور کزن نے جو تحائف پھلوں اور دیگر کھانے کی اشیاء اور نقدی کی صورت میں دیے تو دل کرتا تھا اب روزانہ روزہ ہی رکھیں گے ۔ وہ تو امی آڑے آ جاتی کہ معصوم جان اور سخت گرمی ۔ بس ایک روزہ کافی ہے ۔ ہاں جس دن موسم ٹھیک ہو گا اس دن رکھ لینا ۔ جمعے کا روزہ ضد کرکے ر...
Comments
Post a Comment