کمرے کے کونے میں رکھی وہ پرانی میز اب بھی اسی طرح ڈگمگاتی تھی جیسے برسوں پہلے جب اس پر پہلی بار سیاہی گری تھی۔ حامد نے کھڑکی سے باہر دیکھا، جہاں بستی کی شام کسی میلے کچیلے کپڑے کی طرح لٹک رہی تھی۔ پرندے خاموشی سے اپنے گھونسلوں کی طرف جا رہے تھے، مگر ان کی پرواز میں وہ تیزی نہیں تھی جو کسی خوشخبری کے لانے والے میں ہوتی ہے۔
حامد کی انگلیاں میز پر پڑے ایک خالی کاغذ کو سہلا رہی تھیں۔ یہ کاغذ پچھلے کئی دنوں سے اسی طرح سفید اور بے جان پڑا تھا۔ اسے یاد آیا کہ کبھی اس کے پاس لفظوں کا ایک لامتناہی ذخیرہ ہوتا تھا، جو بارش کی پہلی بوند پڑتے ہی مٹی کی خوشبو کی طرح مہک اٹھتا تھا۔ اب تو یہ حال تھا کہ ایک جملہ لکھنے کے لیے بھی اسے یادوں کے ملبے میں گہرا اترنا پڑتا۔
"چائے ٹھنڈی ہو رہی ہے،" زینب کی آواز کچن سے آئی۔
زینب، جو پچھلے بیس سالوں سے حامد کے سکوت اور اس کی تحریروں کے درمیان ایک پل بنی رہی تھی، اب خود بھی ایک خاموش تصویر کی طرح لگتی تھی۔ حامد نے پیالی اٹھائی۔ چائے کی کڑواہٹ اس کے حلق میں اتری تو اسے محسوس ہوا کہ یہ کڑواہٹ چائے کی نہیں، بلکہ ان کہی باتوں کی ہے جو ان دونوں کے درمیان ایک دیوار بن چکی تھی۔ ایسی دیوار جسے گرانے کے لیے نہ ہمت تھی اور نہ ہی کوئی مادی اوزار۔
"آج وہ پھر آیا تھا،" زینب نے کرسی کھینچتے ہوئے کہا۔
"کون؟" حامد نے چونک کر پوچھا۔
"وہی لڑکا، جو اپنے باپ کی پرانی گھڑی ٹھیک کروانا چاہتا ہے۔ کہتا ہے کہ جب یہ رکتی ہے تو اسے لگتا ہے کہ اس کا باپ مر گیا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ کوئی اسے دوبارہ چلا دے تاکہ اسے اپنے ہونے کا احساس ہو۔"
حامد خاموش رہا۔ اسے وہ گھڑی ساز یاد آیا جو گلی کے نکڑ پر بیٹھتا تھا اور جس کی دکان اب ایک موبائل شاپ میں بدل چکی تھی۔ وقت کو قید کرنا کتنا لایعنی عمل ہے، اس نے سوچا۔ ہم گھڑیوں کی سوئیاں تو ملا سکتے ہیں، مگر ان لمحوں کو کیسے واپس لائیں جو تغافل کی نذر ہو گئے؟
وہ اٹھا اور گلی میں نکل گیا۔ گلی میں اب بھی وہی بو تھی—گلے سڑے پتوں اور گیلی مٹی کی ملی جلی بو۔ اسے وہ لڑکے نظر آئے جو ایک پھٹی ہوئی گیند سے کھیل رہے تھے۔ ان کے قہقہے فضا میں کسی ٹوٹے ہوئے آئینے کی طرح بکھر رہے تھے۔ حامد نے سوچا، کیا یہ لڑکے جانتے ہیں کہ ایک دن ان کی ہنسی بھی یادوں کے کسی سنبھالے ہوئے ڈبے میں بند ہو جائے گی؟
وہ چلتے چلتے بستی کے آخری سرے پر موجود اس تالاب تک جا پہنچا جو اب سوکھ کر ایک بنجر گڑھے کی شکل اختیار کر چکا تھا۔ وہاں ایک بوڑھا مچھیر ا اپنی خالی جال بچھائے بیٹھا تھا۔
"کچھ ملا؟" حامد نے پوچھا۔
بوڑھے نے سر اٹھایا۔ اس کی آنکھوں میں ایک ایسا خلا تھا جو گہرائی میں کسی گہرے سمندر سے کم نہ تھا۔ "کچھ نہیں صاحب، بس یہ جال بچھانا میری عادت بن گئی ہے۔ مچھلیاں تو کب کی مر گئیں، مگر یہ پانی کی لہروں کا انتظار مجھے زندہ رکھتا ہے۔"
حامد کو لگا کہ وہ خود بھی اس مچھیرے جیسا ہے۔ وہ بھی تو لفظوں کا جال بچھائے بیٹھا ہے، اس امید میں کہ کوئی پرانی یاد، کوئی بھولا ہوا احساس اس میں آ پھنسے۔ اس نے محسوس کیا کہ ہم سب کسی نہ کسی 'انتظار' کے قیدی ہیں۔ کوئی باپ کی گھڑی چلنے کا منتظر ہے، کوئی سوکھے تالاب میں مچھلی کا، اور کوئی اس ایک جملے کا جو اس کے وجود کی الجھن کو سلجھا سکے۔
گھر واپسی پر اس نے دیکھا کہ زینب سو چکی تھی۔ اس کے چہرے پر تھکن کی ایک باریک تہہ جمی تھی جو نیند میں بھی صاف نظر آ رہی تھی۔ حامد دوبارہ اپنی میز پر آ بیٹھا۔ اس نے وہ خالی کاغذ اٹھایا اور اسے مٹھی میں بھینچ لیا۔ کاغذ کی چرچراہٹ خاموش کمرے میں ایک چیخ کی طرح گونجی۔
اس نے سوچا کہ کیا وہ ان تمام سالوں میں لوگوں سے جیتتا رہا ہے؟ کیا اس کا خاموش رہنا اور اپنی تحریروں میں پناہ لینا دوسروں کو زیر کرنے کا ایک طریقہ تھا؟ اسے اس عورت کا خیال آیا جو اپنے بھائی کی نشانیاں لے کر کسی کے پاس گئی تھی تاکہ اپنا دکھ بانٹ سکے۔ کیا ہم واقعی اپنا دکھ کسی کو دے سکتے ہیں؟ یا یہ صرف ایک وہم ہے جو ہمیں کچھ دیر کے لیے سکون دیتا ہے؟
حامد نے قلم اٹھایا۔ اس بار اس نے کوئی بڑی بات نہیں لکھی۔ کوئی فلسفہ، کوئی استعارہ نہیں تراشا۔ اس نے بس ایک سادہ سا جملہ لکھا:
"آج میں نے زینب کے ہاتھ دیکھے، وہ بوڑھے ہو رہے ہیں۔"
یہ جملہ لکھتے ہی اس کی آنکھوں سے ایک آنسو ٹپک کر کاغذ پر گرا اور لفظوں کو پھیلا گیا۔ اسے لگا کہ یہ پھیلی ہوئی سیاہی ہی اس کی زندگی کا اصل رنگ ہے۔ اسے اب کسی پرندے یا کسی درخت سے مکالمہ کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ اسے بس اس سامنے بیٹھی عورت کے ساتھ ہنسنا تھا، اس کے دکھ کو سمجھنا تھا، اس سے پہلے کہ وہ 'جدائی کا دن' سچ مچ آ جائے۔
باہر بارش شروع ہو چکی تھی۔ مٹی کی وہی پرانی خوشبو کمرے میں داخل ہو رہی تھی۔ حامد نے کھڑکی بند نہیں کی۔ اس نے اپنے ہاتھ کی تالی سے ایک مچھر کو مارا اور پھر دیر تک اپنے خالی ہاتھوں کو دیکھتا رہا۔
اسے محسوس ہوا کہ اب وہ کاغذ ادھورا نہیں رہا۔ اس پر زندگی کا وہ پہلا نقش بن چکا تھا جو سچا تھا۔ وہ اب اس کمرے کی دیواروں سے باہر دیکھ رہا تھا، جہاں بستی کی روشنیاں دھندلی ہو رہی تھیں، مگر اس کے اندر ایک نئی روشنی پیدا ہو رہی تھی۔ ایسی روشنی جو کسی کو ہرانے کے لیے نہیں، بلکہ کسی کے ساتھ مل کر چلنے کے لیے تھی۔
اس نے قلم رکھ دیا اور زینب کے سرہانے جا کر بیٹھ گیا۔ اس نے زینب کے خشک ہاتھ کو اپنے ہاتھوں میں لیا۔ یہ ہاتھ کسی ریشم کی طرح نرم نہیں تھے، یہ کھردرے تھے اور ان میں برسوں کی مشقت کی لکیریں تھیں۔ حامد نے ان لکیروں کو چھوا تو اسے لگا کہ وہ کائنات کی سب سے بڑی سچائی کو چھو رہا ہے۔
اس رات حامد کو کوئی خواب نہیں آیا۔ وہ بس بیدار رہا، زینب کی سانسوں کی ترتیب کو سنتا رہا۔ اسے اب کسی 'تعبیر' کی ضرورت نہیں تھی۔ وہ خود اپنی تعبیر بن چکا تھا۔
Comments
Post a Comment