موڈ خراب کرنے کے آزمودہ طریقے یہ بات اب کسی تحقیق کی محتاج نہیں رہی کہ خوش رہنے کے لیے محنت درکار ہوتی ہے، مگر موڈ خراب کرنے کے لیے صرف ذرا سی غفلت کافی ہوتی ہے۔ بعض لوگ اسے اتفاق سمجھتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم میں سے اکثر اس فن میں درجۂ کمال تک پہنچ چکے ہیں—بغیر کسی استاد، بغیر کسی سند کے۔ موڈ خراب کرنے کا سب سے معتبر اور قدیم نسخہ یہ ہے کہ دن کی ابتدا خود سے نہیں، دنیا سے کی جائے۔ آنکھ کھلتے ہی موبائل فون کی اسکرین پر نظریں ڈالنا دراصل اپنے ذہن کو دوسروں کی پریشانیوں، کامیابیوں اور بے وقت تجزیوں کے حوالے کر دینا ہے۔ چند لمحوں میں دل بوجھل، سوچ منتشر اور صبح بے وقت تھکی ہوئی محسوس ہونے لگتی ہے۔ یہ وہ واحد عبادت ہے جس کے بعد روح ہلکی نہیں، بوجھل ہو جاتی ہے۔ دوسرا آزمودہ طریقہ یہ ہے کہ ہم توقعات کو خاموشی سے پالنا شروع کر دیں۔ نہ کسی کو بتائیں، نہ خود سے اعتراف کریں۔ بس دل کے کسی کونے میں یہ یقین جما لیں کہ فلاں شخص سمجھے گا، فلاں موقع بدلے گا، فلاں دن خاص ہو گا۔ پھر جب کچھ بھی ویسا نہ ہو تو موڈ کو افسوس نہیں ہوتا، اسے حیرت ہوتی ہے—اور یہی حیرت دیرپا اداسی میں بدل جاتی ہے۔ تیسر...
میری نثری تحاریر، شاعری، خیالات اور خود کلامیوں پر مبنی بلاگ - محمد نور آسی