انسانی لب و لہجہ صرف آواز کا اتار چڑھاؤ نہیں ہوتا، یہ تو باطن کے موسموں کا عکاس ہوتا ہے۔ کبھی لہجے میں اتنی تپش ہوتی ہے کہ برسوں کی ہریالی پل بھر میں راکھ ہو جاتی ہے، اور کبھی کوئی ایک جملہ، کوئی ایک دھیمی پکار، بنجر ہوتے ہوئے وجود میں امید کی کونپلیں پھوٹنے کا سبب بن جاتی ہے۔ ہم اکثر بھول جاتے ہیں کہ رشتوں کی بنیاد مٹی یا پتھر پر نہیں، بلکہ احساس کی اس ملائم ڈور پر کھڑی ہوتی ہے جو ذرا سی تلخی کی تاب نہیں لا سکتی۔
سچ تو یہ ہے کہ زندگی کے اس پر آشوب سفر میں ہمیں کسی "لاجواب" کر دینے والے منطقی استدلال کی اتنی ضرورت نہیں ہوتی، جتنی اس ایک دل آویز مسکراہٹ کی ہوتی ہے جو یہ کہہ سکے کہ "میں تمہاری ان کہی باتوں کا محرم ہوں"۔ احساس کا آنگن تبھی روشن رہتا ہے جب ہم عیبوں پر مصلحت کی چادر تاننے کے بجائے، اپنے اندر کے آئینے کو صاف رکھنے کی جسارت کریں۔
لہجوں میں وہ نمو پیدا کریں جو زخم لگانے کے بجائے مرہم بننا جانتی ہو۔ کیونکہ جب آوازیں تھم جائیں گی اور یادوں کی دھول بیٹھ جائے گی، تو صرف وہی ایک حرفِ معتبر باقی رہ جائے گا جو کسی ٹوٹے ہوئے دل کو جوڑنے کے لیے نہایت خاموشی سے ادا کیا گیا تھا۔ آخر کار، انسان کی کل کائنات بس اتنی ہی ہے ۔۔۔ ایک ادھورا سا خواب اور اسے سنبھالنے والا ایک سچا احساس۔
Comments
Post a Comment