Skip to main content

سچا احساس


انسانی لب و لہجہ صرف آواز کا اتار چڑھاؤ نہیں ہوتا، یہ تو باطن کے موسموں کا عکاس ہوتا ہے۔ کبھی لہجے میں اتنی تپش ہوتی ہے کہ برسوں کی ہریالی پل بھر میں راکھ ہو جاتی ہے، اور کبھی کوئی ایک جملہ، کوئی ایک دھیمی پکار، بنجر ہوتے ہوئے وجود میں امید کی کونپلیں پھوٹنے کا سبب بن جاتی ہے۔ ہم اکثر بھول جاتے ہیں کہ رشتوں کی بنیاد مٹی یا پتھر پر نہیں، بلکہ احساس کی اس ملائم ڈور پر کھڑی ہوتی ہے جو ذرا سی تلخی کی تاب نہیں لا سکتی۔
سچ تو یہ ہے کہ زندگی کے اس پر آشوب سفر میں ہمیں کسی "لاجواب" کر دینے والے منطقی استدلال کی اتنی ضرورت نہیں ہوتی، جتنی اس ایک دل آویز مسکراہٹ کی ہوتی ہے جو یہ کہہ سکے کہ "میں تمہاری ان کہی باتوں کا محرم ہوں"۔ احساس کا آنگن تبھی روشن رہتا ہے جب ہم عیبوں پر مصلحت کی چادر تاننے کے بجائے، اپنے اندر کے آئینے کو صاف رکھنے کی جسارت کریں۔
لہجوں میں وہ نمو پیدا کریں جو زخم لگانے کے بجائے مرہم بننا جانتی ہو۔ کیونکہ جب آوازیں تھم جائیں گی اور یادوں کی دھول بیٹھ جائے گی، تو صرف وہی ایک حرفِ معتبر باقی رہ جائے گا جو کسی ٹوٹے ہوئے دل کو جوڑنے کے لیے نہایت خاموشی سے ادا کیا گیا تھا۔ آخر کار، انسان کی کل کائنات بس اتنی ہی ہے ۔۔۔ ایک ادھورا سا خواب اور اسے سنبھالنے والا ایک سچا احساس۔

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

‏صبر کی طاقت اور کمال

  ‏صبر کی طاقت اور کمال صبر بظاہر ایک چھوٹی سی کرداری خوبی ہے ۔ لیکن صبر کی طاقت اور نتائج سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ صبر ایک خوبی نہیں بلکہ ایک ایسی طاقت ہے کہ آپ بڑے سے بڑے مسئلے کو حل کرستکے ہیں ۔ حضرت ایوب کا صبر اور برداشت مثالی تھا ۔ اسی طرح تاریخ سے صبر کی بے شمار مثالیں موجود ہوں ۔ لیکن آج ہم صبر کے حوالے سے مارش میلو تھیوری پر بات کریں گے۔ استاد نے کلاس کے سب بچوں کو ایک خوب صورت ٹافی دی اور پھر ایک عجیب بات کہی۔ ’’ سنو بچو! آپ سب نے دس منٹ تک اپنی ٹافی نہیں کھانی۔ ‘‘ یہ کہہ کہ وہ کلاس روم سے نکل گئے۔ چند لمحوں کے لیے کلاس میں خاموشی چھاگئی ، ہر بچہ اپنے سامنے پڑی ٹافی کو بے تابی سے دیکھ رہا تھا اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ان کے لیے خود کو روکنا مشکل ہو رہا تھا۔ دس منٹ پورے ہوئے اور استاد نے آ کر کلاس روم کا جائزہ لیا۔ پوری کلاس میں سات بچے ایسے تھے، جن کی ٹافیاں جوں کی توں تھیں، جب کہ باقی تمام بچے ٹافی کھا کر اس کے رنگ اور ذائقے پر تبصرہ کر رہے تھے۔ استاد نے چپکے سے ان سات بچوں کے نام اپنی ڈائری میں نوٹ کیے اور پڑھانا شروع کردیا۔ اس استاد کا نام پروفیسر والٹر مشا...

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر