Skip to main content

انتخاب کا عذاب

 انسان کی فطرت ہے کہ وہ ہمیشہ آزادی اور وسعت کا خواہشمند رہا ہے، لیکن عجیب بات یہ ہے کہ جیسے جیسے ہمیں زندگی کے ہر شعبے میں انتخاب کی بے پناہ آزادی ملتی جا رہی ہے، ہماری ذہنی آسودگی اتنی ہی کم ہوتی جا رہی ہے۔ پچھلے چند برسوں میں دنیا اتنی بدل گئی ہے کہ اب ایک عام سے انسان کو بھی صبح بیدار ہونے سے لے کر رات سونے تک سینکڑوں ایسے فیصلوں سے گزرنا پڑتا ہے جو ماضی میں سرے سے موجود ہی نہیں تھے۔ کبھی وقت تھا کہ بازار میں کپڑے کی دو چار دکانیں ہوتی تھیں، جوتا لینا ہوتا تو ایک دو معروف نام ہی کافی سمجھے جاتے تھے اور اگر گھر کے لیے دال یا صابن خریدنا ہوتا تو پرچون والے کے پاس موجود محدود مال ہی ہمارے لیے غنیمت تھا۔ ہم خوش تھے، اس لیے نہیں کہ ہمارے پاس بہت کچھ تھا، بلکہ اس لیے کہ ہمیں یہ فکر نہیں تھی کہ جو ہم نے خریدا ہے اس سے بہتر بھی کچھ ہو سکتا تھا۔

آج کی زندگی ایک لامتناہی فہرست بن چکی ہے۔ آپ ایک عام سے ہوٹل میں چلے جائیں تو چائے کی دس قسمیں آپ کا منہ چڑا رہی ہوتی ہیں۔ موبائل فون لینا ہو تو اس کی خصوصیات اور قیمتوں کا ایسا جنگل سامنے آتا ہے کہ انسان خریدنے سے پہلے ہی تھک جاتا ہے۔ یہ کثرتِ انتخاب بظاہر تو ہمیں بااختیار بناتی ہے، لیکن درحقیقت یہ ہمیں ایک ایسی ذہنی تھکن میں مبتلا کر دیتی ہے جسے ڈیسیژن فٹیگ کہا جاتا ہے۔ ہم سارا دن چھوٹے چھوٹے فیصلے کرتے کرتے اتنے نڈھال ہو جاتے ہیں کہ جب زندگی کا کوئی بڑا اور اہم فیصلہ کرنے کا وقت آتا ہے تو ہمارے پاس قوتِ ارادی کی وہ توانائی باقی نہیں رہتی۔
اس صورتحال کا سب سے دلچسپ اور تکلیف دہ پہلو وہ ہے جسے ہم محروم رہ جانے کا خوف کہتے ہیں۔ جب ہمارے سامنے سو راستے موجود ہوں اور ہم کسی ایک کا انتخاب کریں، تو ہمارا لاشعور مسلسل ان باقی ننانوے راستوں کے بارے میں سوچتا رہتا ہے جنہیں ہم نے چھوڑ دیا ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ شاید وہ دوسرا والا رنگ زیادہ بہتر تھا، شاید وہ دوسری کمپنی زیادہ پائیدار تھی، یا شاید ہم نے جلد بازی میں غلط فیصلہ کر لیا۔ یہ "شاید" ہماری خوشی کو دیمک کی طرح چاٹ جاتا ہے۔ ہم چیز خرید تو لیتے ہیں مگر اس سے لطف اندوز نہیں ہو پاتے۔ جس دور میں انتخاب محدود تھا، اس وقت اگر کوئی چیز تھوڑی خراب بھی نکل آتی تو ہم اسے اپنی تقدیر سمجھ کر قبول کر لیتے تھے، لیکن آج اگر ہم سے غلطی ہو جائے تو ہم اپنی ذہانت پر ماتم کرتے ہیں کیونکہ ہمیں لگتا ہے کہ اتنے زیادہ مواقع ہونے کے باوجود ہم نے غلط انتخاب کیا۔
یہ وبا صرف مادی اشیاء تک محدود نہیں رہی بلکہ اب یہ ہماری سماجی زندگی اور رشتوں میں بھی سرایت کر چکی ہے۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس نے ہمیں ایک ایسی کھڑکی دے دی ہے جہاں سے ہمیں ہر وقت دوسرے لوگوں کی زندگیوں کے بہترین لمحات نظر آتے ہیں۔ ہم اپنی زندگی کو ان ہزاروں لوگوں کے ساتھ موازنہ کرنے لگتے ہیں جنہیں ہم جانتے بھی نہیں ہیں۔ کسی کی سیر و سیاحت، کسی کا نیا گھر اور کسی کی کامیابی ہمیں یہ احساس دلاتی رہتی ہے کہ ہم نے شاید زندگی گزارنے کا صحیح طریقہ منتخب نہیں کیا۔ یہ تقابل ہمیں ایک ایسی دوڑ میں شامل کر دیتا ہے جس کی کوئی منزل نہیں ہے۔ ہم ہر وقت کچھ بہتر، کچھ نیا اور کچھ منفرد ڈھونڈنے کے چکر میں اس "حال" کو گنوا دیتے ہیں جو ہمارے پاس موجود ہے۔
انٹرنیٹ نے ہمیں معلومات کا سمندر تو دے دیا ہے لیکن سمجھ بوجھ کا ساحل دور کر دیا ہے۔ آج ہر شخص ہر موضوع پر ماہر بنا بیٹھا ہے کیونکہ اس کے پاس برقی ذرائع سے رسائی کا ہنر موجود ہے۔ لیکن معلومات کی اس بہتات نے ہماری اپنی سوچنے اور غور کرنے کی صلاحیت کو زنگ آلود کر دیا ہے۔ ہم دوسروں کی آراء کو اپنی رائے سمجھنے لگے ہیں۔ ہم وہ فلمیں دیکھتے ہیں جن کا شہرہ زیادہ ہوتا ہے، وہ کتابیں پڑھتے ہیں جو زیادہ فروخت ہونے والی فہرست میں ہوتی ہیں اور وہ لباس پہنتے ہیں جو رواج میں ہوتا ہے۔ ہم نے اپنی پسند اور ناپسند کا اختیار بھی کمپیوٹر کے خودکار حساب کتاب کے حوالے کر دیا ہے۔
اس الجھن سے نکلنے کا واحد راستہ سادگی میں چھپا ہے۔ ہمیں یہ سیکھنا ہوگا کہ ہر چمکتی ہوئی چیز کے پیچھے بھاگنا ضروری نہیں ہے۔ انتخاب کی اس بھیڑ میں سب سے بڑا انتخاب یہ ہے کہ ہم یہ طے کریں کہ ہمیں کن چیزوں کو نظر انداز کرنا ہے۔ زندگی ان چیزوں سے خوبصورت نہیں بنتی جو ہمارے پاس ہو سکتی تھیں، بلکہ ان چیزوں سے بنتی ہے جو ہمارے پاس ہیں اور ہم ان کی قدر کرنا جانتے ہیں۔ ہمیں اپنی زندگی کے کینوس پر اتنے زیادہ رنگ بھرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ اصل تصویر ہی غائب ہو جائے۔ کبھی کبھی محدود دائرے میں رہنا ہمیں وہ سکون دے جاتا ہے جو لامتناہی وسعتوں میں بھی میسر نہیں ہوتا۔
اگر ہم روزمرہ کے چھوٹے فیصلوں کو خودکار بنا لیں، جیسے کہ لباس کا انتخاب یا کھانے پینے کی عادات، تو ہم اپنی ذہنی توانائی کو بچا سکتے ہیں۔ دنیا کے کئی کامیاب ترین لوگ ایک ہی رنگ یا وضع کے کپڑے اس لیے پہنتے ہیں تاکہ وہ اپنی فیصلہ سازی کی قوت کو صرف اہم کاموں کے لیے بچا کر رکھ سکیں۔ ہمیں بھی اپنی ترجیحات کا ازسرِ نو تعین کرنا ہوگا۔ خوشی کا تعلق اس بات سے نہیں ہے کہ آپ کے پاس کتنے راستے ہیں، بلکہ اس بات سے ہے کہ آپ اپنے کیے ہوئے فیصلے پر کتنے مطمئن ہیں۔
یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ زندگی کوئی ایسی مشین نہیں ہے جسے ہر وقت بہتر سے بہتر بنانے کی ضرورت ہو۔ یہ ایک ایسا تجربہ ہے جسے جیا جانا چاہیے۔ اگر ہم مسلسل بہترین کی تلاش میں رہیں گے تو ہم اچھے سے بھی محروم ہو جائیں گے۔ کبھی کبھی کسی عام سی سڑک پر پیدل چلنا، کسی سادہ سی دکان سے چائے پینا اور کسی پرانے دوست کے ساتھ گھنٹوں بے مقصد گفتگو کرنا ہمیں وہ خوشی دے جاتا ہے جو کسی مہنگے ترین بازار میں خریداری کرنے سے بھی نہیں ملتی۔ انتخاب کا عذاب ہمیں اس وقت تک تنگ کرتا رہے گا جب تک ہم کفایت کے فلسفے کو نہیں سمجھ لیتے۔ جس دن ہم نے یہ تسلیم کر لیا کہ ہمارے پاس جو کچھ ہے وہ ہماری ضرورت کے لیے کافی ہے، اس دن ہم انتخاب کے اس قید خانے سے آزاد ہو جائیں گے اور زندگی واقعی ایک نعمت محسوس ہونے لگے گی۔

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

جب وہ گیسو سنوارتے ہوں گے

  جب وہ گیسو سنوارتے ہوں گے

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر