Skip to main content

Posts

Showing posts with the label بستیوں کی مہک اور لفظوں کے گورکھ دھندے،

بستیوں کی مہک اور لفظوں کے گورکھ دھندے

  انسانی زندگی کی بساط پر بچھے ہوئے تمام رنگ دراصل اس ایک ادھوری کہانی کے مختلف ابواب ہیں، جسے ہم روز جیتے اور روز لکھتے ہیں۔ کبھی یہ کہانی "مان جانے" کی اس آخری التجا پر آ ٹھہرتی ہے جہاں دل دلیلوں کے بوجھ سے تھک کر صرف واسطوں کی پناہ ڈھونڈتا ہے، اور کبھی یہ ہجر کی ان کالی راتوں کا رزم نامہ بن جاتی ہے جہاں آنکھوں کی لال سرخی وقت کے ضیاع کا نوحہ سناتی ہے۔ ہم ایک ایسی مشینی دوڑ کا حصہ بن چکے ہیں جہاں منزل کا تو شاید کسی کو علم نہیں، مگر ہر شخص ہانپ رہا ہے۔ ہم اپنے آج کو کسی ان دیکھے کل کی قربان گاہ پر ذبح کر دیتے ہیں اور پھر عمر بھر ان یادوں کے ملبے سے زندگی تلاش کرتے ہیں جنہیں ہم نے خود ہی ٹھکرا دیا تھا۔  معاشرے کی مصنوعی چمک دمک اور لفظوں کے گورکھ دھندے نے ہمارے اندر کے اس فطری سکون کو نگل لیا ہے جو کبھی سادہ گفتگو، بے غرض رفاقت اور سچے جذبوں میں میسر تھا۔ آج کے دور میں کامیابی کا معیار بدل چکا ہے؛ اب ضمیر کی آواز پر کان دھرنا نادانی تصور کیا جاتا ہے اور مفاد کی زبان بولنا عقلمندی۔ ہم نے اپنے سماجی قد تو اونچے کر لیے مگر ان کے سائے میں بسنے والے انسان بونے ہوتے گئے۔ رشتوں کی ...