اگر آپ کا دل کسی کی کامیابی پر تالیاں بجانے کا حوصلہ رکھتا ہے، اگر آپ کسی کے چہرے کی مسکراہٹ دیکھ کر اپنے اندر ایک انجانی سی ٹھنڈک محسوس کرتے ہیں، تو یہ اس بات کی گواہی ہے کہ آپ کے باطن کا آئینہ ابھی دھندلا نہیں ہوا۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ آپ کا دل ابھی اس سیاہی سے پاک ہے جو دوسروں کی نعمتوں کو دیکھ کر انسانی ضمیر کو چاٹ جاتی ہے۔ اس نفسا نفسی کے دور میں، جہاں لوگ دوسروں کے زوال کو اپنی بقا سمجھتے ہیں، وہاں کسی کی خوشی میں خوش ہونا ایک ایسی خاموش عبادت ہے جس کا مصلّی آپ کا اپنا دل ہے۔ یہ وہ مقامِ بلند ہے جہاں انسان "میں" کے خول سے نکل کر "خلقِ خدا" کی وسعتوں میں گم ہو جاتا ہے۔ جس دن ہم دوسروں کی مسرت کو اپنی جیت سمجھنا شروع کر دیں گے، دوسروں کے دکھ پر درد محسوس کریں گے،اسی دن ہمارا دل ایک ایسی بستی بن جائے گا جہاں اندھیروں کا گزر کبھی نہیں ہوگا۔ #نوریات
میری نثری تحاریر، شاعری، خیالات اور خود کلامیوں پر مبنی بلاگ - محمد نور آسی