Skip to main content

Posts

Showing posts from May, 2026

جوہرِ انسانیت

اگر آپ کا دل کسی کی کامیابی پر تالیاں بجانے کا حوصلہ رکھتا ہے، اگر آپ کسی کے چہرے کی مسکراہٹ دیکھ کر اپنے اندر ایک انجانی سی ٹھنڈک محسوس کرتے ہیں، تو یہ اس بات کی گواہی ہے کہ آپ کے باطن کا آئینہ ابھی دھندلا نہیں ہوا۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ آپ کا دل ابھی اس سیاہی سے پاک ہے جو دوسروں کی نعمتوں کو دیکھ کر انسانی ضمیر کو چاٹ جاتی ہے۔ اس نفسا نفسی کے دور میں، جہاں لوگ دوسروں کے زوال کو اپنی بقا سمجھتے ہیں، وہاں کسی کی خوشی میں خوش ہونا ایک ایسی خاموش عبادت ہے جس کا مصلّی آپ کا اپنا دل ہے۔ یہ وہ مقامِ بلند ہے جہاں انسان "میں" کے خول سے نکل کر "خلقِ خدا" کی وسعتوں میں گم ہو جاتا ہے۔ جس دن ہم دوسروں کی مسرت کو اپنی جیت سمجھنا شروع کر دیں گے، دوسروں کے دکھ پر درد محسوس کریں گے،اسی دن ہمارا دل ایک ایسی بستی بن جائے گا جہاں اندھیروں کا گزر کبھی نہیں ہوگا۔ #نوریات

اکتارہ

سچ تو یہ ہے کہ ہم انسان بھی عجیب مٹی کے بنے ہوئے ہیں۔ کبھی اتنے ثقیل ہو جاتے ہیں کہ پہاڑ بھی راستہ بدل لیں، اور کبھی اتنے ہلکے کہ کسی کی ایک مسکراہٹ یا شعر کا کوئی اچھوتا مصرع ہمیں ہواؤں میں اڑانے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ اگر ذرا غور سے دیکھا جائے تو آج کل کی ہماری یہ زندگی خود ایک پیچیدہ "بحر" بن چکی ہے، بالکل کسی غزل کی طرح۔ کبھی ہمیں لگتا ہے کہ ہم اوزان اور تقطیع کے تمام قواعد پر پورا اتر رہے ہیں، اور کبھی اچانک پتا چلتا ہے کہ وقت کی کسی سنگین غلطی نے ہمیں "خارج از بحر" مصرعے کی طرح اکیلا چھوڑ دیا ہے۔ ہم سارا دن ڈیٹا، اسکرینوں، سودے بازیوں اور معیشت کے محاصرے میں رہتے ہیں، لیکن جیسے ہی شام ڈھلتی ہے، ہمارے اندر کا وہ پرانا انسان جاگ اٹھتا ہے جو کسی گلی کی سوندھی مٹی اور پیپل کی چھاؤں ڈھونڈنے نکل پڑتا ہے۔ یہ شاید ہماری فطرت کا وہ گوشہ ہے جسے ہم دنیا کی تمام تر پروفیشنل چکا چوند سے چھپا کر رکھنا چاہتے ہیں۔ ہم دن بھر بڑے دانشور بن کر پھرتے ہیں، مگر جیسے ہی کوئی پرانی یاد ذہن کے کسی فولڈر پر دستک دیتی ہے، ہماری ساری دانشوری دھری کی دھری رہ جاتی ہے۔ پھر ہم وہی بچے بن جات...

انتخاب کا بوجھ

میں نے جب بھی راستوں کی کثرت دیکھی میرے قدم وہیں ٹھہر گئے ہم اس نسل سے ہیں جو اپنی پسند کے پیچھے بھاگتے بھاگتے اپنی ضرورت ہی بھول گئی ہماری میز پر پھیلے ہوئے سینکڑوں رنگ ہمیں یہ نہیں بتاتے کہ تصویر کیا بنانی ہے بلکہ یہ جتاتے ہیں کہ ہم نے کتنا وقت ضائع کر دیا کبھی کبھی مجھے لگتا ہے وہ ندی جو صرف ایک سمت بہتی تھی ہم سے زیادہ آزاد تھی! #نوریات

حرمتِ حرف

الفاظ محض آوازیں نہیں ہوتے یہ تو وہ تراشیدہ پتھر ہیں جو اگر میزانِ عقل میں تولے جائیں تو منکر کو بھی قائل کر لیتے ہیں اور اگر انہیں محبت کی خوشبو میں بسایا جائے تو سنگ دلوں کو بھی مائل کر لیتے ہیں! مگر یاد رکھنا! الفاظ کے دھارے دو دھاری تلوار بھی ہیں تلخ لہجے کی نوک پر رکھے ہوئے حرف روح کے اس مقام پر زخم لگاتے ہیں جہاں کوئی مرہم نہیں پہنچ پاتا یہ جیتے جاگتے انسان کو گھائل کر دیتے ہیں! الفاظ برتنے والے جانتے ہیں کہ کب انہیں ڈھال بنانا ہے اور کب انہیں وہ تیر جو کمان سے نکلنے کے بعد واپس نہیں لوٹتے! #نوریات

اداکاریاں

زندگی میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو آپ سے حال پوچھیں گے تو اس انداز میں گویا آپ کی صحت کی رپورٹ سیدھی عالمی ادارہِ صحت کو بھیجنی ہے، لیکن جوں ہی آپ نے خلوصِ نیت سے اپنے سر درد کا تذکرہ چھیڑا، ان کی آنکھوں میں وہ بیزاری جھلکنے لگتی ہے جو ایک طالب علم کے چہرے پر ریاضی کے مشکل سوال کو دیکھ کر آتی ہے۔ دراصل ہم سب ایک ایسی عجیب دنیا میں رہ رہے ہیں جہاں "کیسے ہیں آپ؟" کا جواب "ٹھیک ہوں" کے علاوہ کچھ بھی دینا ایک معاشرتی جرم سمجھا جاتا ہے۔ کچھ لوگوں کو اپنے جذبات پر بھی ضبط کمال حاصل ہوتا ہے۔ فون کی گھنٹی بجتے ہی جو صاحب بچوں پر دھاڑ رہے ہوتے ہیں، وہ کال اٹھاتے ہی اچانک لہجے میں شہد بھر لیتے ہیں ۔ لہجے کی یہ تبدیلی کسی معجزے سے کم نہیں ہوتی۔ ایک لمحے پہلے کا غصہ اگلے ہی لمحے "جی فرمائیے" کی ایسی لوری میں بدل جاتا ہے کہ سننے والا اسے دنیا کا معصوم ترین انسان سمجھ لے۔ پھر کچھ وہ احباب ہیں جو سادگی کا لبادہ اوڑھ کر اپنی امارت کی ایسی نمائش کرتے ہیں کہ بندہ سوچتا رہ جائے کہ یہ عاجزی ہے یا کوئی اشتہاری مہم۔ "بھئی ہم تو بہت سادہ لوگ ہیں، بس یہ دو چار کنال کا گھر ...

مزدوری

سونے کی کان میں کام کرنے والے نے جب دھوپ میں آ کر ہاتھ پھیلائے تو اس کی ہتھیلیوں پر صرف مٹی تھی #نوریات

بنیاد

دیوار پر لگا ہوا وہ آخری پتھر بظاہر بہت بلند اور معتبر ہے مگر اس کا سارا بوجھ بنیاد کی مٹی پر ہے #نوریات

جدید آلات اور ہم

آج کل کی دنیا میں "انسان" ہونا ایک اضافی بوجھ معلوم ہوتا ہے۔ اب تو ہم صرف ایک "یوزر نیم" ہیں جس کے پیچھے دو چار سو جی بی ڈیٹا چھپا ہوا ہے۔ ابھی کل کی بات ہے، مابدولت ایک نفیس سی محفل میں بیٹھے تھے جہاں ایک صاحب "انسان کی عظمت" پر بھاشن دے رہے تھے کہ اچانک جیب میں رکھے اسمارٹ فون نے "تھرتھراہٹ" کے ذریعے اطلاع دی کہ آپ کی عظمت اپنی جگہ، لیکن آپ کی بیٹری محض 2 فیصد رہ گئی ہے۔ بس پھر کیا تھا، ان کی ساری فلسفیانہ گفتگو ایک طرف رہ گئی اور وہ کسی "چارجر" کی تلاش میں یوں ہانپتے کانپتے پھرنے لگے جیسے کوئی پیاسا صحرا میں نخلستان ڈھونڈ رہا ہو۔ سچ تو یہ ہے کہ جدید آلات نے ہمیں "آٹو میٹک" تو بنا دیا ہے، مگر "آٹومیٹک بے وقوف"۔ اس میں سب سے بڑا مجرم یہ "آٹو کوریکٹ" نامی بلا ہے۔ یہ ایک ایسا خودسر منشی ہے جو آپ کے جذبات کا خون کرنے میں ذرا برابر تامل نہیں کرتا۔ پرسوں ایک عزیز دوست کے ہاں بیٹے کی ولادت ہوئی۔ ہم نے بڑے خلوص سے میسج ٹائپ کیا: "ماشاء اللہ، اللہ بخت بلند کرے"۔ ظالم آٹو کوریکٹ نے پتا نہیں کس انتقام کی آ...

دیوار

ایک ذرا سی غلط فہمی نے اپنوں کے درمیان ضد کی ایک اینٹ رکھ دی پھر انا کا گارا اسے مضبوط کرتا گیا یہاں تک کہ وہ ایک دیوار بن گئی اب دیوار کے دونوں طرف پچھتاوا ایک آسیب بن کر رہتا ہے #نوریات

آئینہ

شکوہ کرنا ایک ایسا زہر ہے جسے ہم خود پیتے ہیں اور توقع دوسروں کے مرنے کی کرتے ہیں محبت کی ریاضت کرو کہ یہی وہ آئینہ ہے جس میں خدا دکھتا ہے #نوریات

اخلاص کی جاگیر

ہم نے کبھی دلوں کا سودا نہیں کیا ہم اہل محبت ہیں اور ہماری جائیداد صرف اخلاص ہے ہم اسے بانٹتے ہوئے حساب نہیں رکھتے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ جو بانٹ دیا وہ ہمارا ہے اور جو بچا لیا وہ مٹی ہے #نوریات

گلی میں آج چاند اترا

تمہارا آنا کسی کچے مکان کی منڈیر پر پہلی کرن کے اترنے جیسا ہے کتنی ہی مدت سے اس گلی میں خاک اڑتی رہی اور وقت کے پیروں تلے یادوں کے تارے کچلتے رہے مگر آج۔۔۔ جب تم نے اس بنجر راستے پر قدم رکھا ہے تو یوں لگا ہے جیسے کسی سوکھے ہوئے پیڑ پر کوئی ہرا زخم پھر سے کلی بن گیا ہو ہاں! بہت دنوں بعد میری وحشت زدہ گلی میں ایک چاند اترا ہے! #نوریات

جسم سمندر

وہ جو باتیں پی جاتے ہیں ان کے اندر ایک سمندر خاموشی سے بہتا ہے جس کی موجیں ان کے جسم کو دھیرے دھیرے چاٹتی ہیں #نوریات

احساس

مٹی کے برتن میں ٹھہرے ہوئے پانی کی ٹھنڈک اور قدیم پیڑوں کی گھنی چھاؤں میں ایک ایسی سچائی پوشیدہ ہے جو کسی مصنوعی چکا چوند کی محتاج نہیں، کیونکہ اصل حسن تو ان چھوٹے چھوٹے لمحوں کے تسلسل میں ہے جو خاموشی سے بیت جاتے ہیں. جب صبح کی پہلی کرن کسی کچی دیوار کے گوشے کو چھوتی ہے، تو وہ دیوار محض مٹی کا ڈھیر نہیں رہتی بلکہ ایک زندہ استعارہ بن جاتی ہے، جہاں مادہ ختم ہوتا ہے اور ایک دھیما احساس جنم لیتا ہے. وجود کی اصل معراج کسی بلند و بالا پہاڑ کو چھونا نہیں، بلکہ اپنے اندر کی اس فطری جبلت کو سننا ہے جو ہمیں بتاتی ہے کہ ہم کائنات کے کتنے قریب ہیں. جس طرح وہ دریا جو سمندر تک نہیں پہنچ پایا، وہ ناکام نہیں بلکہ اپنے راستے کی پیاس بجھانے کا ایک مقدس ذریعہ ہوتا ہے بالکل اسی طرح زندگی کا اصل رس کسی منزل کو پا لینے میں نہیں بلکہ اس سفر کے انکشافات میں ہے. شکر گزاری کسی خارجی وجہ کی محتاج نہیں، بلکہ صرف "ہونے" کا ایک بھرپور اور پروقار احساس ہے جو ہمیں ہماری اصل جڑوں سے جوڑے رکھتا ہے. #نوریات

مشترکہ وراثت

ہماری قسمت میں صرف آمین کے خالی پیالے آئے وہ جو ہم نے خوابوں کی فصل بوئی تھی اسے محرومی کی دیمک چاٹ گئی اب جو یہ ملال کی جاگیر بچی ہے اسے آدھا آدھا بانٹ لیتے ہیں کہ ردِ دعا کے اس دکھ میں تمہارے ہاتھ بھی تو میرے ساتھ برابر کے شریک تھے #نوریات

خلا

محبت جب رخصت ہوتی ہے تو اپنے پیچھے جگہ خالی نہیں چھوڑتی وہاں خوف کو بسا دیتی ہے بالکل ویسے ہی جیسے روشنی کے جاتے ہی اندھیرا کسی فاتح کی طرح پورے ماحول پر قابض ہو جاتا ہے اور ہم اپنی ہی دھڑکن سے ڈرنے لگتے ہیں #نوریات