مٹی کے برتن میں ٹھہرے ہوئے پانی کی ٹھنڈک اور قدیم پیڑوں کی گھنی چھاؤں میں ایک ایسی سچائی پوشیدہ ہے جو کسی مصنوعی چکا چوند کی محتاج نہیں، کیونکہ اصل حسن تو ان چھوٹے چھوٹے لمحوں کے تسلسل میں ہے جو خاموشی سے بیت جاتے ہیں. جب صبح کی پہلی کرن کسی کچی دیوار کے گوشے کو چھوتی ہے، تو وہ دیوار محض مٹی کا ڈھیر نہیں رہتی بلکہ ایک زندہ استعارہ بن جاتی ہے، جہاں مادہ ختم ہوتا ہے اور ایک دھیما احساس جنم لیتا ہے. وجود کی اصل معراج کسی بلند و بالا پہاڑ کو چھونا نہیں، بلکہ اپنے اندر کی اس فطری جبلت کو سننا ہے جو ہمیں بتاتی ہے کہ ہم کائنات کے کتنے قریب ہیں. جس طرح وہ دریا جو سمندر تک نہیں پہنچ پایا، وہ ناکام نہیں بلکہ اپنے راستے کی پیاس بجھانے کا ایک مقدس ذریعہ ہوتا ہے بالکل اسی طرح زندگی کا اصل رس کسی منزل کو پا لینے میں نہیں بلکہ اس سفر کے انکشافات میں ہے. شکر گزاری کسی خارجی وجہ کی محتاج نہیں، بلکہ صرف "ہونے" کا ایک بھرپور اور پروقار احساس ہے جو ہمیں ہماری اصل جڑوں سے جوڑے رکھتا ہے.
پہلا روزہ محمد نور آسی ہمیں نہ تو کسی نے مجبور کیا ، بہت ضد کی یا منت سماجت کی کہ خدا کے اپنے پہلے روزے کے بارے میں اپنا ایک ادبی شاہکار اپنے "زورقلم اور زیادہ " والے قلم سے عنائت کریں اور نہ ہی کسی نے ان باکس میں کوئی مسیج کیا نہ کسی نے ٹیک کیا۔ پھربھی پتہ نہیں کیوں ہم نے یہ تحریرلکھی ہے بلکہ اپنے ایک عدد بوسیدہ بلکہ خزان رسیدہ بلاگ پر بھی ڈال دی ۔۔۔۔۔۔۔۔ پہلاروزہ رکھے ویسے تو اب اتنے سال بیت گئے ہیں کہ بہت ساری تفصیلات ذہن میں نہیں تاہم ماہ رمضان سے جڑے اپنے بچپن کے کچھ ایسے واقعات ضرور یاد ہیں جو کل کی طرح تازہ لگتے ہیں۔ پہلا روزہ جب رکھا تو یہ یاد نہیں کہ کیا کھایا کیا پیا البتہ شام کو جو آؤ بھگت ہوئی وہ نہیں بھولتی ۔ گھروالوں کے علاوہ خصوصا خالہ ، پھوپھو اور کزن نے جو تحائف پھلوں اور دیگر کھانے کی اشیاء اور نقدی کی صورت میں دیے تو دل کرتا تھا اب روزانہ روزہ ہی رکھیں گے ۔ وہ تو امی آڑے آ جاتی کہ معصوم جان اور سخت گرمی ۔ بس ایک روزہ کافی ہے ۔ ہاں جس دن موسم ٹھیک ہو گا اس دن رکھ لینا ۔ جمعے کا روزہ ضد کرکے ر...
Comments
Post a Comment