مٹی کے برتن میں ٹھہرے ہوئے پانی کی ٹھنڈک اور قدیم پیڑوں کی گھنی چھاؤں میں ایک ایسی سچائی پوشیدہ ہے جو کسی مصنوعی چکا چوند کی محتاج نہیں، کیونکہ اصل حسن تو ان چھوٹے چھوٹے لمحوں کے تسلسل میں ہے جو خاموشی سے بیت جاتے ہیں. جب صبح کی پہلی کرن کسی کچی دیوار کے گوشے کو چھوتی ہے، تو وہ دیوار محض مٹی کا ڈھیر نہیں رہتی بلکہ ایک زندہ استعارہ بن جاتی ہے، جہاں مادہ ختم ہوتا ہے اور ایک دھیما احساس جنم لیتا ہے. وجود کی اصل معراج کسی بلند و بالا پہاڑ کو چھونا نہیں، بلکہ اپنے اندر کی اس فطری جبلت کو سننا ہے جو ہمیں بتاتی ہے کہ ہم کائنات کے کتنے قریب ہیں. جس طرح وہ دریا جو سمندر تک نہیں پہنچ پایا، وہ ناکام نہیں بلکہ اپنے راستے کی پیاس بجھانے کا ایک مقدس ذریعہ ہوتا ہے بالکل اسی طرح زندگی کا اصل رس کسی منزل کو پا لینے میں نہیں بلکہ اس سفر کے انکشافات میں ہے. شکر گزاری کسی خارجی وجہ کی محتاج نہیں، بلکہ صرف "ہونے" کا ایک بھرپور اور پروقار احساس ہے جو ہمیں ہماری اصل جڑوں سے جوڑے رکھتا ہے.
میری نثری تحاریر، شاعری، خیالات اور خود کلامیوں پر مبنی بلاگ - محمد نور آسی
Comments
Post a Comment