وقت کوئی سایہ دار شجر نہیں
جو تپتے موسموں میں چھاؤں دے
وقت تو وہ پرندہ ہے
جو ہماری ہتھیلیوں سے
خاموشی کے دانے چگتا ہے
اور جب ہم مٹھی بند کرنے لگتے ہیں
تو وہ یادوں کا ایک پر
وہیں چھوڑ کر
کسی نامعلوم سمت ہجرت کر جاتا ہے
میری نثری تحاریر، شاعری، خیالات اور خود کلامیوں پر مبنی بلاگ - محمد نور آسی
Comments
Post a Comment