Skip to main content

ہجرت


وقت کوئی سایہ دار شجر نہیں
جو تپتے موسموں میں چھاؤں دے
وقت تو وہ پرندہ ہے
جو ہماری ہتھیلیوں سے
خاموشی کے دانے چگتا ہے
اور جب ہم مٹھی بند کرنے لگتے ہیں
تو وہ یادوں کا ایک پر
وہیں چھوڑ کر
کسی نامعلوم سمت ہجرت کر جاتا ہے

Comments