اسکرین پر چمکتے ہوئے حروف
مجھ سے میری پہچان پوچھتے ہیں
وہ مجھے یوزر نیم اور پاس ورڈ سے جانتے ہیں
مگر گلی کا ناہموار رستہ
میرے جوتوں کی چاپ سے میرا شجرہ پہچانتا ہے
میں مشین کے رحم و کرم پر نہیں رہ سکتا
میرا بدن ایک قدیم رقص کی امانت ہے
جسے کسی کیبل یا وائی فائی کی ضرورت نہیں
میں کچی گلیوں
اور اونچی نیچی پگڈنڈیوں پر چلنا چاہتا ہوں
تاکہ مٹی کو بتا سکوں کہ میں ابھی زندہ ہوں!
Comments
Post a Comment