Skip to main content

اداکاریاں


زندگی میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو آپ سے حال پوچھیں گے تو اس انداز میں گویا آپ کی صحت کی رپورٹ سیدھی عالمی ادارہِ صحت کو بھیجنی ہے، لیکن جوں ہی آپ نے خلوصِ نیت سے اپنے سر درد کا تذکرہ چھیڑا، ان کی آنکھوں میں وہ بیزاری جھلکنے لگتی ہے جو ایک طالب علم کے چہرے پر ریاضی کے مشکل سوال کو دیکھ کر آتی ہے۔ دراصل ہم سب ایک ایسی عجیب دنیا میں رہ رہے ہیں جہاں "کیسے ہیں آپ؟" کا جواب "ٹھیک ہوں" کے علاوہ کچھ بھی دینا ایک معاشرتی جرم سمجھا جاتا ہے۔
کچھ لوگوں کو اپنے جذبات پر بھی ضبط کمال حاصل ہوتا ہے۔ فون کی گھنٹی بجتے ہی جو صاحب بچوں پر دھاڑ رہے ہوتے ہیں، وہ کال اٹھاتے ہی اچانک لہجے میں شہد بھر لیتے ہیں ۔ لہجے کی یہ تبدیلی کسی معجزے سے کم نہیں ہوتی۔ ایک لمحے پہلے کا غصہ اگلے ہی لمحے "جی فرمائیے" کی ایسی لوری میں بدل جاتا ہے کہ سننے والا اسے دنیا کا معصوم ترین انسان سمجھ لے۔
پھر کچھ وہ احباب ہیں جو سادگی کا لبادہ اوڑھ کر اپنی امارت کی ایسی نمائش کرتے ہیں کہ بندہ سوچتا رہ جائے کہ یہ عاجزی ہے یا کوئی اشتہاری مہم۔ "بھئی ہم تو بہت سادہ لوگ ہیں، بس یہ دو چار کنال کا گھر ہے اور تین عدد گاڑیاں، بزنس سے پانچ سات لاکھ ماہانہ آجاتا ہے۔ اسی پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں"۔ یہ جملہ سن کر ایسا لگتا ہے جیسے سادگی خود ان کے گھر کے باہر گیٹ کیپر بنی کھڑی ہو اور اندر جانے کی اجازت مانگ رہی ہو۔
دراصل ہم سب کے اندر ایک ایسا چھوٹا سا اداکار چھپا بیٹھا ہے جو ہر وقت تالیاں بٹورنے کی فکر میں رہتا ہے۔ ہم اداس ہوتے ہیں تو چاہتے ہیں کہ دنیا ہمیں پر اسرار سمجھے، اور جب خوش ہوتے ہیں تو ہماری کوشش ہوتی ہے کہ سب کو ہماری کامیابی سے تھوڑی تھوڑی حسد ضرور ہو۔ یہ تضاد برا نہیں ہے، یہ تو انسان ہونے کی دلیل ہے۔ فرشتے تو ہم بن نہیں سکتے اور شیطان ہونے کا حوصلہ نہیں، تو بس اسی بیچ کی راہ پر مسکراتے، لہجے بدلتے گزرے جا رہے ہیں۔
اگر ہم ایک دوسرے کے لہجوں کی اس "ملمع سازی" کو سنجیدہ لینا چھوڑ دیں اور اس کے پیچھے چھپے ہوئے سہمے ہوئے انسان کو دیکھ لیں، تو زندگی کسی مزاحیہ ڈرامے سے کم نہیں لگے گی، جہاں ہر کوئی اپنا کردار نبھانے کی کوشش میں کبھی کبھار اسٹیج سے نیچے بھی گر جاتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

‏صبر کی طاقت اور کمال

  ‏صبر کی طاقت اور کمال صبر بظاہر ایک چھوٹی سی کرداری خوبی ہے ۔ لیکن صبر کی طاقت اور نتائج سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ صبر ایک خوبی نہیں بلکہ ایک ایسی طاقت ہے کہ آپ بڑے سے بڑے مسئلے کو حل کرستکے ہیں ۔ حضرت ایوب کا صبر اور برداشت مثالی تھا ۔ اسی طرح تاریخ سے صبر کی بے شمار مثالیں موجود ہوں ۔ لیکن آج ہم صبر کے حوالے سے مارش میلو تھیوری پر بات کریں گے۔ استاد نے کلاس کے سب بچوں کو ایک خوب صورت ٹافی دی اور پھر ایک عجیب بات کہی۔ ’’ سنو بچو! آپ سب نے دس منٹ تک اپنی ٹافی نہیں کھانی۔ ‘‘ یہ کہہ کہ وہ کلاس روم سے نکل گئے۔ چند لمحوں کے لیے کلاس میں خاموشی چھاگئی ، ہر بچہ اپنے سامنے پڑی ٹافی کو بے تابی سے دیکھ رہا تھا اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ان کے لیے خود کو روکنا مشکل ہو رہا تھا۔ دس منٹ پورے ہوئے اور استاد نے آ کر کلاس روم کا جائزہ لیا۔ پوری کلاس میں سات بچے ایسے تھے، جن کی ٹافیاں جوں کی توں تھیں، جب کہ باقی تمام بچے ٹافی کھا کر اس کے رنگ اور ذائقے پر تبصرہ کر رہے تھے۔ استاد نے چپکے سے ان سات بچوں کے نام اپنی ڈائری میں نوٹ کیے اور پڑھانا شروع کردیا۔ اس استاد کا نام پروفیسر والٹر مشا...

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر