Skip to main content

جدید آلات اور ہم





آج کل کی دنیا میں "انسان" ہونا ایک اضافی بوجھ معلوم ہوتا ہے۔ اب تو ہم صرف ایک "یوزر نیم" ہیں جس کے پیچھے دو چار سو جی بی ڈیٹا چھپا ہوا ہے۔ ابھی کل کی بات ہے، مابدولت ایک نفیس سی محفل میں بیٹھے تھے جہاں ایک صاحب "انسان کی عظمت" پر بھاشن دے رہے تھے کہ اچانک جیب میں رکھے اسمارٹ فون نے "تھرتھراہٹ" کے ذریعے اطلاع دی کہ آپ کی عظمت اپنی جگہ، لیکن آپ کی بیٹری محض 2 فیصد رہ گئی ہے۔ بس پھر کیا تھا، ان کی ساری فلسفیانہ گفتگو ایک طرف رہ گئی اور وہ کسی "چارجر" کی تلاش میں یوں ہانپتے کانپتے پھرنے لگے جیسے کوئی پیاسا صحرا میں نخلستان ڈھونڈ رہا ہو۔
سچ تو یہ ہے کہ جدید آلات نے ہمیں "آٹو میٹک" تو بنا دیا ہے، مگر "آٹومیٹک بے وقوف"۔ اس میں سب سے بڑا مجرم یہ "آٹو کوریکٹ" نامی بلا ہے۔ یہ ایک ایسا خودسر منشی ہے جو آپ کے جذبات کا خون کرنے میں ذرا برابر تامل نہیں کرتا۔
پرسوں ایک عزیز دوست کے ہاں بیٹے کی ولادت ہوئی۔ ہم نے بڑے خلوص سے میسج ٹائپ کیا: "ماشاء اللہ، اللہ بخت بلند کرے"۔ ظالم آٹو کوریکٹ نے پتا نہیں کس انتقام کی آگ میں اسے "ماشاء اللہ، اللہ بخت بند کرے" کر دیا۔ اب ادھر سے دوست کا فون آیا: "محترم بھائی! بچے نے ابھی آنکھ بھی نہیں کھولی اور آپ نے اس کے مستقبل کے دروازے ابھی سے بند کرنا شروع کر دیے؟"
ہم نے لاکھ صفائیاں دیں کہ میاں، یہ ہم نہیں تھے، یہ تو اس ننھے سے آلے کی کارستانی ہے، مگر وہ نہ مانے۔
پہلے زمانے میں جب کوئی تنہا بیٹھا مسکرا رہا ہوتا تھا تو لوگ اسے "عشق کا مریض" یا "مجنون" سمجھ کر اس کے حق میں دعائے خیر کرتے تھے۔ آج اگر کوئی تنہا بیٹھا قہقہے لگا رہا ہو تو سب سمجھ جاتے ہیں کہ بندہ یا تو کسی "میم" (Meme) سے لطف اندوز ہو رہا ہے یا کسی وٹس ایپ گروپ میں ہونے والی جگت بازی کا حصہ ہے۔
موبائل نے ہماری نفسیات میں ایک نئی بیماری "بیل یا وائبریش کا واہمہ" پیدا کر دی ہے۔ آپ نہا رہے ہوں، سو رہے ہوں یا کسی سنجیدہ میٹنگ میں ہوں، آپ کو اچانک محسوس ہوگا کہ جیب میں فون لرز رہا ہے۔ آپ گھبرا کر فون نکالتے ہیں، اسکرین روشن کرتے ہیں، مگر وہاں سوائے "وال پیپر" کے کچھ نہیں ہوتا۔ یہ دراصل ٹیکنالوجی کا وہ طنز ہے جو وہ ہماری بے چینی پر کرتی ہے۔
سوشل میڈیا پر انسانی جذبات کی جو "سیل" (Sale) لگی ہوئی ہے، اسے دیکھ کر کبھی کبھی دکھ ہوتا ہے اور کبھی بے ساختہ ہنسی آتی ہے۔ اب کھانا، کھانا نہیں رہا بلکہ ایک "فوٹو سیشن" بن چکا ہے۔
ایک ریستوران میں ایک صاحب کو دیکھا، سامنے گرم گرم کڑاھی رکھی تھی، مگر وہ اسے کھانے کے بجائے مختلف زاویوں سے اس کی تصاویر اتار رہے تھے۔
"بھائی صاحب، کھانا ٹھنڈا ہو رہا ہے،" میں نے ہمدردی جتائی۔
وہ بڑے اطمینان سے بولے: "کھانا تو پیٹ میں چلا جائے گا، لیکن جب تک یہ فیس بک اور انسٹاگرام پر نہیں جائے گا، لوگوں کو پتا کیسے چلے گا کہ میں نے مکھنی کڑاھی کھائی ہے؟"
یعنی اب لذت زبان میں نہیں، بلکہ "لائکس" (Likes) کی گنتی میں ہے۔ اگر تصویر پر سو سے کم لائیکس آئیں تو کھانا ہضم ہونا مشکل ہو جاتا ہے۔
جدید آلات نے گفتگو کو "ایموجیز" (Emojis) تک محدود کر دیا ہے۔ اب ہم روتے نہیں، بس ایک "رونے والا چہرہ" بھیج دیتے ہیں۔ ہم ہنستے نہیں، بس "LOL" لکھ کر فرض پورا کر دیتے ہیں۔
ایک مکالمہ ملاحظہ کریں:
بیگم: "سنتے ہو، آج ہماری شادی کی سالگرہ ہے!"
میاں (فون میں مگن): "ہممم۔۔۔ ابھی ایک 'ہارٹ' والا ایموجی بھیجتا ہوں، اسٹیٹس پر لگا لینا، سب کو پتا چل جائے گا کہ ہماری محبت کتنی گہری ہے۔"
بیگم: "مگر میں نے تو سوٹ مانگا تھا۔"
میاں: "ارے بیگم، ایموجیز میں 'سوٹ' بھی مل جاتا ہے، جو کلر کہو گی، وہی بھیج دوں گا۔"
یہ وہ انسانی لہجہ ہے جو اب مشینوں میں ڈھل چکا ہے۔ ہم ایک ہی کمرے میں بیٹھے ہوتے ہیں، مگر ایک دوسرے سے "میسنجر" پر بات کرتے ہیں۔ شاید اس لیے کہ ٹائپنگ میں ہم وہ سب کچھ کہہ سکتے ہیں جو سامنے بیٹھ کر کہنے کی جرات نہیں ہوتی۔
آج کل کی گھڑیاں (Smart Watches) آپ کو بتاتی ہیں کہ آپ کتنا چلے۔ اب انسان اپنی ہمت پر نہیں، گھڑی کے حکم پر چلتا ہے۔ کل ایک بزرگ پارک میں ہانپ رہے تھے، میں نے پوچھا: "بابا جی، بس کریں، تھک گئے ہوں گے۔"
بولے: "بیٹا، میں تو تھک گیا ہوں، مگر یہ کمبخت گھڑی کہہ رہی ہے کہ ابھی پانچ سو قدم باقی ہیں، جب تک یہ 'ٹارگٹ مکمل' کا میسج نہیں دے گی، میرا گھر جانا حرام ہے۔"
ایسا لگتا ہے کہ اب ہماری زندگی کا کنٹرول پینل ہمارے ہاتھ میں نہیں، بلکہ کسی ایسی ایپلیکیشن کے پاس ہے جس کا "اپ ڈیٹ" (Update) ہر ہفتے آ جاتا ہے اور ہمیں مزید نااہل بنا دیتا ہے۔
اب تو "مصنوعی ذہانت" (AI) کا دور ہے۔ آپ اس سے کچھ بھی پوچھیں، وہ فوراً جواب دیتی ہے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ یہ مشینیں "احساس" سے خالی ہیں۔ میں نے ایک دن اپنے کمپیوٹر سے پوچھا: "مجھے اداسی ہو رہی ہے، کیا کروں؟"
جواب آیا: " ہارڈ ڈرائیو کا ڈیٹا کلین کریں، غیر ضروری فائلیں ڈیلیٹ کریں، سسٹم ری اسٹارٹ کریں!"
میں نے سر پیٹ لیا۔ بھلا اسے کون سمجھائے کہ انسانی روح کا "ری اسٹارٹ" بٹن ابھی تک کسی سافٹ ویئر انجینئر نے ایجاد نہیں کیا۔
ٹیکنالوجی بری نہیں ہے، مگر اس کا استعمال جس طرح ہماری نفسیات کو "ہیک" (Hack) کر چکا ہے، وہ قابلِ غور ہے۔ ہم نے آلات کو آسانیاں پیدا کرنے کے لیے بنایا تھا، مگر اب یہ آلات ہمیں "مشین" بنا رہے ہیں۔ ہم اسکرینوں کے اتنے عادی ہو چکے ہیں کہ اب ہمیں آسمان کا چاند اتنا خوبصورت نہیں لگتا جتنا کہ ایچ ڈی اسکرین پر اس کا "وال پیپر" نظر آتا ہے۔
ہمیں چاہیے کہ کبھی کبھی ان آلات کو "آف" کر کے کسی زندہ انسان سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کریں۔ ورنہ وہ وقت دور نہیں جب قبر کے کتبے پر بھی لکھا ہوگا: "یوزر آف لائن ہے، نیٹ ورک کا انتظار کریں!"
کاش ہم یہ سمجھ سکیں کہ زندگی کسی ایپ کا "ٹرائل ورژن" نہیں ہے جو ختم ہوا تو دوبارہ انسٹال ہو جائے گی۔ یہ تو ایک "ون ٹائم ڈاؤن لوڈ" ہے، جسے جینے کے لیے سگنلز کی نہیں، احساسات کی ضرورت ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر  

مس کالوجی ۔ ایک نیا مضمون

مس کالوجی ۔ ایک نیا مضمون محمد نور آسی محترم قارئین آپ نے بیا لوجی، سائیکا لو جی ، فزیالوجی وغیرہ تو پڑھا یا سنا ہو گا یہ مس کا لوجی کیا ہے؟ یہ ہم آپ کو بتا تے ہیں یہ در اصل دو الفا ظ سے مل کر بنا ہے مس کال اور لوجی یعنی وہ علم جس میں مس کالوں کی سائنس کے بارے میں پڑھا یا جاتا ہے جی ہاں یہ بالکل نئی سائنس ہے اور اسکی دریافت بلکہ ایجا د کہئیے ، کا سہرا سب پاکستانیوں کے سر پر ہے سب سے پہلے کس نے مس کال دی- اس کے بارے میں   کوئی مصدقہ حوالہ موجود نہیں تاہم غیر معتبر راویوں کا بیان ہے اور اغلب یہ ہے کہ کسی عاشق نامراد نے حسب روائت تہی بیلنس ہونے کی صورت میں اپنی محبوبہ کو دی ہوگی۔ راوی اس بارے میں خاموش ہے کہ آیا اسکی محبوبہ نے آگے سے کیا رسپانس دیا؟ مس کا ل ایک فن ہے ، ایک سائنس ہے یہ ہر کسی کے بس کا کھیل نہیں ۔۔ بہت سارے سیدھے ، اس سائنس سے نا واقف لوگ مس کا لیں دیتے دیتے اپنا بیلنس زیرو کر بیٹھتے ہیں اور پھر حیران ، پریشان ہو کر کہتے ہیں یہ موبائل کمپنی والے بڑے بے ایمان ہیں ۔ ابھی کل ہی سوروپے بیلنس ڈلوایا تھا ایک دفعہ بھی بات نہیں کی اور بیلنس زیرو۔ لعنت ہو ۔۔۔۔ کمپنی...