میں نے جب بھی راستوں کی کثرت دیکھی
میرے قدم وہیں ٹھہر گئے
ہم اس نسل سے ہیں
جو اپنی پسند کے پیچھے بھاگتے بھاگتے
اپنی ضرورت ہی بھول گئی
ہماری میز پر پھیلے ہوئے سینکڑوں رنگ
ہمیں یہ نہیں بتاتے کہ تصویر کیا بنانی ہے
بلکہ یہ جتاتے ہیں
کہ ہم نے کتنا وقت ضائع کر دیا
کبھی کبھی مجھے لگتا ہے
وہ ندی جو صرف ایک سمت بہتی تھی
ہم سے زیادہ آزاد تھی!
Comments
Post a Comment