جڑواں شہر پنڈی وہ یاد ہے جو جسم میں گھر کر کے بیٹھ جاتی ہے اسلام آباد وہ خیال ہے جو ترتیب مانگتا ہے ایک شہر وقت کو سینے سے لگاتا ہے دوسرا شہر وقت کو ناپتا ہے پنڈی میں آدمی روایت کے نام پر زندہ رہتا ہے اسلام آباد میں آدمی شناخت کے نام پر بکھر جاتا ہے پنڈی میں وقت، انسان کے اندر رہتا ہے یہاں دیواریں نہیں، حافظے کھڑے ہوتے ہیں ہر گلی ایک سوال ہے جو جواب نہیں چاہتا بوڑھے چہروں پر ماضی نہیں، جڑیں اگتی ہیں یہ شہر حال میں نہیں جیتا، خود کو دہراتا ہے پنڈی میں زندہ رہنا، یاد رہ جانا ہے اسلام آباد میں آدمی نام سے پہلے عہدہ ہوتا ہے یہاں خاموشی بھی فائلوں میں بند ہے درخت سایہ دیتے ہیں، مگر مانوس نہیں ہوتے ہر چہرہ کسی اور جگہ کا حوالہ لگتا ہے یہ شہر خود کو ڈھونڈتے لوگوں سے بھرا ہے اسلام آباد میں ہونا، خود سے فاصلے پر ہونا ہے پنڈی ماضی ہے جو چھوڑتا نہیں اسلام آباد مستقبل ہے جو اپناتا نہیں ایک شہر یاد رکھتا ہے دوسرا شہر ترتیب دیتا ہے درمیان میں کھڑا آدمی ۔۔ نامکمل ہوتا ہے یہ جڑواں شہر نہیں، آدمی کی تقسیم ہیں پنڈی میں وقت، دروازوں کی زنجیر سے بندھا ملتا ہے ہر گلی میں ایک بزرگ، ماضی کا حوالہ اٹھا...
میری نثری تحاریر، شاعری، خیالات اور خود کلامیوں پر مبنی بلاگ - محمد نور آسی