Skip to main content

عہدِ نو کی نفسیات اور مصلحت کے سائے


عصرِ حاضر کے سماجی ڈھانچے میں اگر گہرائی سے جھاتی ماری جائے تو ایک عجیب صورتِ حال سامنے آتی ہے۔ بظاہر مادی ترقی اور چکا چوند نے انسانی زندگی کو سہولیات سے بھر دیا ہے، لیکن اس کے بطن میں چھپی ہوئی نفسیاتی الجھنیں اور سماجی شکستگی ایک ایسے المیے کی نشان دہی کر رہی ہیں جس کا ادراک شاید ابھی عام سطح پر نہیں ہو سکا۔ انسانی معاشرت، جو کبھی خلوص اور براہِ راست تعلق پر استوار تھی، اب مصلحتوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ انسانوں کے درمیان بڑھتی ہوئی دوری اور رشتوں میں در آنے والا مصنوعی پن ایک ایسی حقیقت ہے جسے اب مزید نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

کسی بھی معاشرے کی اساس اس کے بولے جانے والے الفاظ اور ان کے پیچھے چھپے ہوئے ارادوں پر ہوتی ہے۔ الفاظ محض حروف کا مجموعہ نہیں ہوتے بلکہ یہ وہ توانائی ہیں جو سماج کی رگوں میں دوڑتی ہے۔ جب الفاظ اپنی تاثیر کھو دیں یا انہیں صرف مصلحت کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جانے لگے، تو معاشرے میں نفاق اور بے یقینی کا زہر گھلنے لگتا ہے۔ دورِ جدید کا انسان گفتگو تو بہت کرتا ہے، مگر اس گفتگو میں وہ شفافیت مفقود ہے جو دلوں کو جوڑنے کا سبب بنتی تھی۔ اب کہی جانے والی بات کے کئی معنی نکالے جاتے ہیں اور "اثبات" کے پردے میں چھپے ہوئے "انکار" کو پڑھنا ایک فن بن چکا ہے۔ یہ صورتِ حال اس بات کی غماز ہے کہ معاشرے میں بھروسے کی فضا کس حد تک مسموم ہو چکی ہے۔

اس بدلتے ہوئے سماج میں رشتوں کی نوعیت بھی یکسر بدل گئی ہے۔ پہلے زمانے میں اگر دو افراد کے درمیان اختلاف ہوتا تھا، تو وہ واضح اور دو ٹوک ہوتا تھا، لیکن اب ایک ایسا دور آ گیا ہے جہاں رشتوں کو "وینٹی لیٹر" پر رکھ کر زندہ رکھا جاتا ہے۔ لوگ ایک دوسرے کے ساتھ رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے کوسوں دور ہیں۔ یہ وہ سماجی منافقت ہے جس نے انسانی جبلت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ دکھاوا، بناوٹ اور مصنوعی رویوں نے اصل جذبات کی جگہ لے لی ہے۔ جب جذبے اپنی فطری موت مر جاتے ہیں تو انہیں معاشرتی دباؤ اور نام نہاد اخلاقیات کے سہارے چلایا جاتا ہے۔ یہ عمل بالکل ایسا ہی ہے جیسے کسی بے جان جسم کو مشینوں کے ذریعے سانس دلائی جائے، جو بظاہر زندگی کا احساس تو دیتی ہے مگر اس میں وہ تپش اور توانائی نہیں ہوتی جو ایک زندہ وجود کا خاصہ ہے۔

معاشرے میں ایک اور خطرناک رجحان "حاشیہ نشینی" کا ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ سچی آوازوں اور توانا کرداروں کو مرکزی دھارے سے نکال کر حاشیوں پر دھکیل دیا جاتا ہے۔ یہ وہ مصلحت پسندی ہے جو طاقتور طبقات اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے اختیار کرتے ہیں۔ جب کسی معاشرے میں سچائی کو متن سے نکال کر حاشیے پر لکھ دیا جائے، تو وہ معاشرہ فکری طور پر بانجھ ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی حق کی آواز کو دبایا گیا، اس نے کسی نہ کسی صورت میں اپنا رستہ بنایا، لیکن اسے دبانے کی کوشش میں جو نقصان ہوتا ہے، اس کا ازالہ صدیوں تک نہیں ہو پاتا۔ آج کا انسان بھی اپنی زندگی کے متن میں گم ہے اور ان سچائیوں کو حاشیے پر رکھ رہا ہے جو اس کی بقا کے لیے ناگزیر تھیں۔

سرحدوں اور تقسیم کے حوالے سے بھی انسانی رویوں میں ایک عجیب جمود پایا جاتا ہے۔ جغرافیائی سرحدیں تو نقشوں پر ہوتی ہیں، لیکن انسانی ذہنوں نے اپنے گرد جو خود ساختہ فصیلیں کھڑی کر رکھی ہیں، وہ زیادہ تشویشناک ہیں۔ انسانوں نے اپنے آپ کو گروہوں، نسلوں اور فرقوں میں اس طرح تقسیم کر لیا ہے کہ وہ ایک جیسے دکھنے والے انسانوں میں بھی فرق تلاش کر لیتے ہیں۔ اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو انسانی دکھ اور سکھ کی فطرت ہر جگہ ایک جیسی ہے۔ سرحد کے اس پار کا انسان ہو یا اس پار کا، اس کی بنیادی ضرورتیں اور اس کے جذبات میں کوئی فرق نہیں ہوتا، لیکن سیاست اور مصلحت نے اسے ایک ایسے دشمن کے طور پر پیش کیا ہے جو صرف "پڑوس" میں بسا دیا گیا ہے۔ یہ دشمنی اکثر فطری نہیں ہوتی بلکہ اسے مخصوص مقاصد کے لیے پروان چڑھایا جاتا ہے۔ جب ایک جیسی وردیاں پہننے والے اور ایک جیسی زندگی گزارنے والے ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو جائیں، تو سمجھ لینا چاہیے کہ انسانیت اپنا توازن کھو چکی ہے۔

تخلیق کار اور دانشور کا کردار بھی اس بگڑتی ہوئی صورتِ حال میں بہت اہم ہے۔ ایک فنکار جب اپنے اردگرد کے حالات کو دیکھتا ہے، تو وہ صرف مشاہدہ نہیں کرتا بلکہ اسے محسوس کرتا ہے۔ اس کا منصب یہ ہے کہ وہ معاشرے کے زخموں کی نشان دہی کرے اور ان کے لیے مرہم تلاش کرے۔ لیکن بدقسمتی سے اج کل کا تخلیق کار بھی اکثر اوقات اسی سماجی نفاق کا حصہ بن جاتا ہے۔ وہ سچ کہنے کے بجائے مصلحت کی چادر اوڑھنا زیادہ پسند کرتا ہے۔ تخلیق کا عمل تو وہ ہے جو سوئے ہوئے ضمیروں کو جھنجھوڑ دے، جو خاموشی کے سناٹے میں ایک ایسی پکار بن جائے جسے نظر انداز کرنا ممکن نہ رہے۔ اگر ایک ادیب یا شاعر بھی اسی مصنوعی فضا کا اسیر ہو جائے، تو پھر معاشرے کی فکری رہنمائی کون کرے گا؟

بچپن اور معصومیت کے حوالے سے بھی سماج کی بے حسی عیاں ہے۔ آج کے دور میں بچوں پر سنجیدگی اور مسابقت کا اتنا بوجھ ڈال دیا گیا ہے کہ وہ مسکرانا بھول گئے ہیں۔ ہم نے انہیں ایک ایسی مشینی زندگی کا حصہ بنا دیا ہے جہاں صرف نمبر، گریڈ اور مادی کامیابی کی اہمیت ہے۔ فطرت سے دوری اور مشینی آلات کی بہتات نے ان سے وہ چہچہاہٹ چھین لی ہے جو کبھی گھروں کے آنگنوں کی زینت ہوتی تھی۔ جب کسی معاشرے میں بچوں کی معصومیت وقت سے پہلے ختم ہو جائے، تو وہ معاشرہ اپنی روح سے محروم ہونے لگتا ہے۔ پرندوں کا چہچہانا اور بچوں کا ہنسنا وہ قدرتی آہنگ ہے جو زندگی کے توازن کو برقرار رکھتا ہے، لیکن ہم نے اپنی نام نہاد سنجیدگی اور ترقی کے جنون میں اسے کہیں بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

رشتوں کے خاتمے اور جدائی کے بھی کچھ آداب ہوتے ہیں، جنہیں آج کا انسان فراموش کر چکا ہے۔ اب کسی تعلق کا ختم ہونا صرف ایک واقعے تک محدود نہیں رہتا بلکہ اسے ایک مستقل جنگ میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ نفرت، بدگوئی اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا عمل اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم جذبات کی قدر کرنا بھول چکے ہیں۔ اگر دو انسانوں کے راستے جدا ہو بھی جائیں، تو انسانیت اور باہمی احترام کا رشتہ باقی رہنا چاہیے۔ لیکن اب "انا" اس قدر غالب آ چکی ہے کہ ہم رشتوں کے احترام کو اپنی شکست تصور کرتے ہیں۔ یہ رویہ سماج میں تنہائی اور بیگانگی کو فروغ دے رہا ہے۔

انصاف اور عدل کی صورتِ حال بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ جب تک انصاف مصلحتوں کا شکار رہے گا، معاشرے میں امن کا خواب شرمندہء تعبیر نہیں ہو سکتا۔ ہم نے عدل کو کاغذوں اور فائلوں تک محدود کر دیا ہے، جبکہ حقیقت میں طاقتور کا حق مقدم مانا جاتا ہے۔ جب کسی عام آدمی کی آواز دبائی جاتی ہے اور اسے اپنے جائز حق کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانی پڑتی ہیں، تو وہ نظام اپنی ساکھ کھو دیتا ہے۔ سچائی کو چھپانے کے لیے جھوٹ کا سہارا لینا اب ایک عام معمول بن گیا ہے، جس کی وجہ سے معاشرتی بنیادیں کھوکھلی ہوتی جا رہی ہیں۔

آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ ہمیں اپنے رویوں پر نظرِ ثانی کی ضرورت ہے۔ مصلحت پسندی، منافقت اور مصنوعی زندگی کے اس خول سے باہر نکلے بغیر ہم ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل نہیں کر سکتے۔ الفاظ کو ان کی اصل حرمت واپس دلانی ہوگی اور رشتوں کو مصنوعی تنفس کے بجائے سچائی اور خلوص کی آکسیجن پر چلانا ہوگا۔ ہمیں ان حاشیوں کو ختم کرنا ہوگا جو سچائی کو متن سے دور رکھتے ہیں۔ جب تک ہم اپنے اندر کے انسان کو بیدار نہیں کریں گے اور دوسروں کے دکھ کو اپنا دکھ نہیں سمجھیں گے، تب تک ہم اسی دھندلکے میں بھٹکتے رہیں گے جہاں راستے تو ہیں مگر منزل کا کوئی نشان نہیں۔ زندگی کو اس کے فطری آہنگ پر واپس لانا ہی آج کا سب سے بڑا چیلنج ہے، اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب ہم "سرسری باتوں" سے نکل کر گہری سچائیوں کا سامنا کرنے کی جرات پیدا کریں۔

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

جب وہ گیسو سنوارتے ہوں گے

  جب وہ گیسو سنوارتے ہوں گے

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر