Skip to main content

ہم ضرور ملیں گے

 کچھ ملاقاتیں وقت کی قید سے آزاد ہوتی ہیں؛ وہ چراغوں کے روشن ہونے یا سورج کے ڈھلنے کی محتاج نہیں ہوتیں۔ سچا ساتھ وہ ہے جو پہاڑوں کی اوٹ میں بسے چوبی مکانوں سے لے کر خواب کے آخری خیمے تک، ایک سائے کی طرح ساتھ چلے۔ ہم اکثر منزلوں کو رستوں میں ڈھونڈتے ہیں، حالانکہ اصل سفر تو ان میدانوں کا ہے جہاں بوڑھے چرواہے خاموشی سے ابد کی جانب بڑھ رہے ہوتے ہیں۔ زندگی کے کسی بھی پہر میں، چاہے وہ دھند آلود رات ہو یا صبحِ کاذب کی نیم تاریکی، روح کا رشتہ ہمیشہ اس آخری ٹمٹماتے ستارے کی مانند قائم رہتا ہے جو بجھتے ہوئے چاند کا سوگ نہیں مناتا بلکہ نئی روشنی کی نوید دیتا ہے۔

اگر یہ مادی دنیا ہمیں ایک دوسرے سے نہ ملا سکی، تو بھی کوئی ملال نہیں۔ ہم ان نظموں کے مصرعوں میں ایک دوسرے کے روبرو بیٹھے رہیں گے جن کی تاثیر کبھی پرانی نہیں ہوتی۔ وقت کی پرکار ہمیں کتنا ہی محدود کیوں نہ کر دے، احساس کے پھیلاؤ میں ہمیشہ ایک ایسی جگہ باقی رہتی ہے جسے صرف دو آنکھیں ہی دیکھ سکتی ہیں۔ یہ ایک ایسا خواب ہے جس کی ویرانی بھی آباد ہے، کیونکہ اس میں کسی تیسرے کی مداخلت کا گمان نہیں۔ ہم اس عمر میں یا کسی بھی عمر کے دورانیے میں، ایک دوسرے کو ضرور ملیں گے—اگر کہیں اور نہ ملے، تو حرف و بیاں کے اس طلسم کدے میں، جہاں ہر لفظ ایک دائمی ملاپ کا استعارہ ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

‏صبر کی طاقت اور کمال

  ‏صبر کی طاقت اور کمال صبر بظاہر ایک چھوٹی سی کرداری خوبی ہے ۔ لیکن صبر کی طاقت اور نتائج سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ صبر ایک خوبی نہیں بلکہ ایک ایسی طاقت ہے کہ آپ بڑے سے بڑے مسئلے کو حل کرستکے ہیں ۔ حضرت ایوب کا صبر اور برداشت مثالی تھا ۔ اسی طرح تاریخ سے صبر کی بے شمار مثالیں موجود ہوں ۔ لیکن آج ہم صبر کے حوالے سے مارش میلو تھیوری پر بات کریں گے۔ استاد نے کلاس کے سب بچوں کو ایک خوب صورت ٹافی دی اور پھر ایک عجیب بات کہی۔ ’’ سنو بچو! آپ سب نے دس منٹ تک اپنی ٹافی نہیں کھانی۔ ‘‘ یہ کہہ کہ وہ کلاس روم سے نکل گئے۔ چند لمحوں کے لیے کلاس میں خاموشی چھاگئی ، ہر بچہ اپنے سامنے پڑی ٹافی کو بے تابی سے دیکھ رہا تھا اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ان کے لیے خود کو روکنا مشکل ہو رہا تھا۔ دس منٹ پورے ہوئے اور استاد نے آ کر کلاس روم کا جائزہ لیا۔ پوری کلاس میں سات بچے ایسے تھے، جن کی ٹافیاں جوں کی توں تھیں، جب کہ باقی تمام بچے ٹافی کھا کر اس کے رنگ اور ذائقے پر تبصرہ کر رہے تھے۔ استاد نے چپکے سے ان سات بچوں کے نام اپنی ڈائری میں نوٹ کیے اور پڑھانا شروع کردیا۔ اس استاد کا نام پروفیسر والٹر مشا...

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر