جیسے جیسے ہم مردم شناس ہوتے جاتے ہیں، تنہا ہوتے جاتے ہیں شعور کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی انسان جس پہلی حقیقت سے ٹکراتا ہے، وہ ہجوم ہے۔ ایک ایسا ہجوم جہاں ہر چہرہ ایک کہانی اور ہر آنکھ ایک خواب کی امین نظر آتی ہے۔ آغازِ سفر میں ہمیں لگتا ہے کہ جوں جوں ہم لوگوں کو جانیں گے، ہمارے رابطوں کی وسعت ہمیں معتبر بنائے گی۔ مگر یہ انسانی نفسیات کا عجیب المیہ ہے کہ مردم شناسی کا سفر دراصل خود شناسی کی ایک ایسی کٹھن منزل ہے جہاں بھیڑ کم اور سناٹا بڑھتا چلا جاتا ہے۔ مردم شناسی محض چہروں کو پڑھنے کا نام نہیں، بلکہ ان نقابوں کے پیچھے چھپی مصلحتوں، تضادات اور انا کے بتوں کو پہچاننے کا عمل ہے۔ جب ایک حساس دل بصیرت کی آنکھ سے دیکھتا ہے، تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ جسے وہ محبت سمجھ رہا تھا، وہ محض ضرورت کا لبادہ ہے؛ اور جسے وہ خلوص گردانتا تھا، وہ سماجی رکھ رکھاؤ کی ایک مصنوعی ضرورت ہے۔ جیسے جیسے بصیرت گہری ہوتی ہے، گفتگو کے مفہوم بدل جاتے ہیں۔ ہمیں لفظوں کے پیچھے چھپی خاموشی اور مسکراہٹوں کے پیچھے دبی تلخی سنائی دینے لگتی ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ایک حساس دل رکھنے والا تنہا ہو جاتا ہے۔ وہ ہجوم میں کھڑا تو...
میری نثری تحاریر، شاعری، خیالات اور خود کلامیوں پر مبنی بلاگ - محمد نور آسی