Skip to main content

جیسے جیسے ہم مردم شناس ہوتے جاتے ہیں، تنہا ہوتے جاتے ہیں

 جیسے جیسے ہم مردم شناس ہوتے جاتے ہیں، تنہا ہوتے جاتے ہیں

شعور کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی انسان جس پہلی حقیقت سے ٹکراتا ہے، وہ ہجوم ہے۔ ایک ایسا ہجوم جہاں ہر چہرہ ایک کہانی اور ہر آنکھ ایک خواب کی امین نظر آتی ہے۔ آغازِ سفر میں ہمیں لگتا ہے کہ جوں جوں ہم لوگوں کو جانیں گے، ہمارے رابطوں کی وسعت ہمیں معتبر بنائے گی۔ مگر یہ انسانی نفسیات کا عجیب المیہ ہے کہ مردم شناسی کا سفر دراصل خود شناسی کی ایک ایسی کٹھن منزل ہے جہاں بھیڑ کم اور سناٹا بڑھتا چلا جاتا ہے۔
مردم شناسی محض چہروں کو پڑھنے کا نام نہیں، بلکہ ان نقابوں کے پیچھے چھپی مصلحتوں، تضادات اور انا کے بتوں کو پہچاننے کا عمل ہے۔ جب ایک حساس دل بصیرت کی آنکھ سے دیکھتا ہے، تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ جسے وہ محبت سمجھ رہا تھا، وہ محض ضرورت کا لبادہ ہے؛ اور جسے وہ خلوص گردانتا تھا، وہ سماجی رکھ رکھاؤ کی ایک مصنوعی ضرورت ہے۔
جیسے جیسے بصیرت گہری ہوتی ہے، گفتگو کے مفہوم بدل جاتے ہیں۔ ہمیں لفظوں کے پیچھے چھپی خاموشی اور مسکراہٹوں کے پیچھے دبی تلخی سنائی دینے لگتی ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ایک حساس دل رکھنے والا تنہا ہو جاتا ہے۔ وہ ہجوم میں کھڑا تو ہوتا ہے، مگر اس کا ذہنی تال میل کسی سے نہیں بیٹھتا۔ وہ جان لیتا ہے کہ اکثر رشتے محض وہم کے سہارے قائم ہیں، اور سچائی کا بوجھ اٹھانے کی سکت ہر کندھے میں نہیں ہوتی۔
یہ تنہائی کوئی محرومی نہیں، بلکہ ایک "اچھاانتخاب" ہے۔ ایک حساس انسان کے لیے یہ تنہائی اس کے خیالات کی آماجگاہ بن جاتی ہے۔ وہ جان لیتا ہے کہ ہزاروں کھوکھلے ذہنوں کے ساتھ رہنے سے بہتر ہے کہ اس خاموشی کے ساتھ رہا جائے جو سچی اور کھری ہے۔
مردم شناسی ہمیں سکھاتی ہے کہ انسانوں کو پرکھنا دراصل اپنی توقعات کا گلا گھونٹنا ہے۔ جب توقعات دم توڑتی ہیں، تو تعلقات کی وہ چمک بھی ماند پڑ جاتی ہے جو ہمیں ہجوم کا حصہ بنائے رکھتی تھی۔ یوں، ہم جیسے جیسے لوگوں کے اندر چھپے انسان کو پہچاننے لگتے ہیں، ہم ان سے دور اور اپنی ذات کے قریب ہوتے جاتے ہیں۔ یہ تنہائی دراصل اس سچائی کی قیمت ہے جو ہم دنیا کو سمجھنے کے بدلے ادا کرتے ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

اے شہنشاہِ زمنﷺ

  اے شہنشاہِ زمنﷺ

پہلا روزہ

پہلا روزہ محمد نور آسی ہمیں نہ تو کسی نے مجبور کیا ، بہت ضد کی یا منت سماجت کی کہ خدا کے اپنے پہلے روزے کے بارے میں  اپنا ایک ادبی  شاہکار  اپنے "زورقلم اور زیادہ " والے قلم  سے  عنائت کریں  اور نہ ہی کسی نے ان باکس میں کوئی مسیج کیا نہ کسی نے ٹیک کیا۔  پھربھی پتہ نہیں کیوں ہم نے یہ تحریرلکھی ہے بلکہ اپنے ایک عدد بوسیدہ بلکہ خزان رسیدہ  بلاگ پر بھی ڈال دی ۔۔۔۔۔۔۔۔ پہلاروزہ رکھے ویسے تو اب اتنے سال بیت گئے ہیں کہ بہت ساری تفصیلات ذہن میں نہیں تاہم ماہ رمضان سے جڑے اپنے بچپن کے کچھ ایسے واقعات ضرور یاد ہیں جو کل کی طرح تازہ لگتے ہیں۔  پہلا روزہ جب رکھا تو یہ یاد نہیں کہ کیا کھایا کیا پیا البتہ شام کو جو آؤ بھگت ہوئی وہ نہیں بھولتی ۔  گھروالوں کے علاوہ خصوصا خالہ ، پھوپھو اور کزن نے جو تحائف پھلوں اور دیگر کھانے کی اشیاء اور نقدی  کی صورت میں دیے تو  دل کرتا تھا اب روزانہ روزہ ہی رکھیں گے ۔ وہ تو امی آڑے آ جاتی کہ معصوم جان اور سخت گرمی ۔ بس ایک روزہ کافی ہے ۔ ہاں جس دن موسم ٹھیک ہو گا اس دن رکھ لینا ۔ جمعے کا روزہ ضد کرکے ر...