دریا کنارے بستے ایک بوڑھے کی ڈائری
17 دسمبر 1997
آج شام دریا کا رنگ کچھ زیادہ ہی
گہرا تھا۔ ایسا نیلا جیسا کسی کی آنکھوں میں ٹھہرا ہوا پرانا دکھ ہو۔ میں نے اپنی
جھونپڑی کے باہر پڑی لکڑی کی پرانی بینچ پر بیٹھ کر پانی کے تھپیڑوں کو سنا۔ دریا
باتیں کرتا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں یہ صرف شور ہے، مگر یہ شور نہیں، یہ وہ کہانیاں ہیں
جو پہاڑوں سے آتی ہیں اور سمندر کی گود میں دفن ہونے کے لیے بے تاب رہتی ہیں۔
میرے ہاتھ کی لرزش اب میری قلم کی
روانی سے زیادہ تیز ہے۔ شاید اس لیے کہ وقت اب میرے ہاتھوں سے نہیں، میری یادوں سے
پھسل رہا ہے۔ لوگ کہتے ہیں "دریا کے کنارے رہنے والے کبھی پیاسے نہیں
مرتے،" مگر سچ تو یہ ہے کہ یہاں رہنے والا ہر شخص ایک ابدی پیاس لے کر جیتا
ہے—وہ پیاس جو کناروں کو چھو کر لوٹ جانے والی لہروں کو روکنے کی خواہش سے پیدا
ہوتی ہے۔
20 جنوری 1998
میری کٹیا کے سامنے پھیلا ہوا یہ پاٹ
صرف پانی کا ذخیرہ نہیں، یہ میرے لیے ایک آئینہ ہے۔ وہ آئینہ جس میں میں نے اپنے
چہرے کی جھریوں کو ابھرتے دیکھا ہے۔ جب میں یہاں آیا تھا، میری پشت سیدھی تھی اور
میری آنکھوں میں افق کو تسخیر کرنے کا جنون تھا۔ اب میری کمر اس بوڑھے برگد کی طرح
جھک گئی ہے جو کناروں کی مٹی کٹنے کے باوجود زمین کو تھامے ہوئے ہے۔
19 مارچ 1998
دریا کی لہریں جب کنارے سے ٹکراتی
ہیں، تو ایک عجیب سی آواز پیدا ہوتی ہے۔ جیسے کوئی بہت خاموشی سے کسی کا نام لے
رہا ہو۔ میں اکثر چونک کر پیچھے دیکھتا ہوں، مگر وہاں صرف ریت کے ٹیلے اور سرکنڈوں
کی سرسراہٹ ہوتی ہے۔ بچپن میں سنا تھا کہ دریا اپنی یادداشت ساتھ لے کر چلتا ہے۔
جو کچھ اس میں گرا، وہ اس کا حصہ بن گیا۔ میں نے بھی اپنی زندگی کے کئی قیمتی لمحے
اس کے حوالے کر دیے—کچھ آنسو، کچھ خواب اور ایک تانبے کی انگوٹھی جو اب شاید کسی
مچھلی کے پیٹ میں ہوگی یا تہہ نشیں ریت کا رزق بن چکی ہوگی۔
13 جون
1999
ڈائری کے اس صفحے پر میں اس شخص کا
ذکر کرنا چاہتا ہوں جسے میں نے برسوں پہلے یہاں دیکھا تھا۔ وہ ایک مصور تھا، یا
شاید کوئی مجذوب۔ اس کی آنکھوں میں وہ چمک تھی جو صرف ان لوگوں کی ہوتی ہے جو دنیا
جیت کر ہار چکے ہوں۔ اس نے مجھ سے پوچھا تھا، "بابا، کیا یہ پانی کبھی پیچھے
مڑ کر دیکھتا ہے؟"
میں نے مسکرا کر جواب دیا تھا،
"بیٹا، پانی کے پاس پیچھے مڑنے کی مہلت نہیں ہوتی، اگر وہ رک گیا تو سڑ جائے
گا۔ انسان بھی تو پانی کی طرح ہے، اسے بھی بہتے رہنا چاہیے، چاہے سامنے کھائیاں
ہوں یا چٹانیں۔"
وہ کئی دن میرے پاس رہا۔ اس نے دریا
کے اس موڑ کی بیسیوں تصویریں بنائیں۔ ایک دن اس نے کینوس پر صرف ایک سفید لکیر
کھینچی اور چلا گیا۔ میں آج بھی اس لکیر کا مطلب ڈھونڈ رہا ہوں۔ کیا وہ لکیر صراطِ
مستقیم تھی؟ یا وہ اس فاصلے کی علامت تھی جو زمین اور آسمان کے درمیان کبھی ختم
نہیں ہوتا؟
10 فروری 2000
زندگی کیا ہے؟ کیا یہ صرف سانسوں کا
ایک تسلسل ہے؟ نہیں۔ میری نظر میں زندگی وہ لمحہ ہے جب آپ دریا کے عین وسط میں
اپنی چپو چھوڑ دیں اور پانی کے رحم و کرم پر ہو جائیں۔ وہ خود سپردگی کا لمحہ ہی
اصل بیداری ہے۔
میرے اس پاس کی چھوٹی چھوٹی تفصیلات
مجھے زندگی کے بڑے راز سمجھاتی ہیں۔ وہ جو بگلا ایک ٹانگ پر کھڑا مچھلی کے انتظار
میں گھنٹوں گزار دیتا ہے، وہ مجھے صبرو استقامت سکھاتا ہے۔ وہ جو ریت کے گھروندے
بچے بناتے ہیں اور لہریں ایک سیکنڈ میں مٹا دیتی ہیں، وہ مجھے کائنات کی بے ثباتی
کا درس دیتے ہیں۔ ہم سب بھی تو ریت کے گھروندے ہی ہیں، ایک لہر کی دوری پر موجود
عدم کے مسافر۔
20 اکتوبر 2003
جدید دنیا کے لوگ جب کبھی یہاں سیر و
تفریح کے لیے آتے ہیں، تو وہ اپنے چمکدار موبائل فونز سے اس منظر کو قید کرنے کی
کوشش کرتے ہیں۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ جو منظر آنکھ میں جذب نہ ہو، وہ تصویر میں
کبھی زندہ نہیں رہ سکتا۔ وہ شور مچاتے ہیں، قہقہے لگاتے ہیں، مگر وہ دریا کی اس
اداسی کو نہیں بھانپ پاتے جو اس کے گہرے پانیوں کے نیچے دبی ہوئی ہے۔
21 جنوری 2004
جب سورج ڈوب جاتا ہے اور آسمان پر
ستاروں کی بارات سجتی ہے، تو دریا کا منظر بدل جاتا ہے۔ پانی سیاہ ہو جاتا ہے،
جیسے کائنات کی ساری سیاہی اس میں انڈیل دی گئی ہو۔ اس وقت تنہائی کی ایک خاص
خوشبو ہوتی ہے—گیلی مٹی اور سوکھے پتوں کی ملی جلی مہک۔
3 فروری 2004
میں اپنی لالٹین جلاتا ہوں تو اس کی
روشنی پانی پر لرزتی ہوئی ایک لمبی لکیر بنا دیتی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے کوئی
راستہ کھل گیا ہو، جو مجھے دوسری پار لے جائے گا۔ مگر میں جانتا ہوں کہ میرا سفر
ابھی ادھورا ہے۔ مجھے ابھی ان تمام سوالوں کے جواب لکھنے ہیں جو میں نے اپنی زندگی
سے پوچھے تھے۔
ڈائری کا یہ ورق اب بھرنے کو ہے، مگر
میرے اندر کا سمندر ابھی پیاسا ہے۔ میں اکثر سوچتا ہوں کہ کیا میرے بعد بھی یہ
دریا اسی طرح بہتا رہے گا؟ یقیناً بہے گا۔ فطرت کو فرد کی ضرورت نہیں ہوتی، وہ
اپنی تال خود ترتیب دیتی ہے۔ ہم صرف وہ اسکرپٹ ہیں جو ایک بار پڑھا جاتا ہے اور
پھر کائنات کے کتب خانے کے کسی دھول بھرے کونے میں رکھ دیا جاتا ہے۔
18 مئی 2005
کبھی کبھی شام کے سائے میں مجھے اپنے
بیٹے کی آواز سنائی دیتی ہے۔ وہ شہر چلا گیا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ "بابا،
یہاں پانی کے سوا کچھ نہیں، شہر میں مواقع ہیں۔" میں اسے کیسے
سمجھاتا کہ شہر میں مواقع تو ہیں، مگر سکون نہیں۔ وہاں لوگ گھڑیوں کے غلام ہیں، یہاں
ہم وقت کے مالک ہیں۔ وہاں عمارتیں آسمان کو چھوتی ہیں مگر دل زمین بوس ہیں۔ یہاں
جھونپڑی چھوٹی ہے لیکن یہاں کا صحن کائنات جتنا وسیع ہے۔
اس نے مجھے شہر بلایا تھا، مگر میں
نے انکار کر دیا۔ میں ان لہروں کا قرض دار ہوں جنہوں نے مجھے تنہائی میں جینا
سکھایا۔ میں اس دریا کا وفادار ہوں جس نے کبھی میرا ساتھ نہیں چھوڑا، چاہے موسم
بدلے ہوں یا حالات۔
31 دسمبر 2005
آج کی تحریر ختم کرنے سے پہلے میں
ایک بات درج کرنا چاہتا ہوں۔ موت کیا ہے؟ میرے نزدیک موت دریا کا سمندر میں مل
جانا ہے۔ یہ کوئی اختتام نہیں، بلکہ ایک وسیع تر وجود میں ضم ہو جانے کا نام ہے۔
جب قطرہ سمندر بن جائے، تو اس کا خوف ختم ہو جاتا ہے۔
میری انگلیاں اب تھک رہی ہیں۔ باہر
ہوا تیز ہو گئی ہے اور دریا کی لہریں اب زیادہ اونچی آواز میں باتیں کر رہی ہیں۔
شاید وہ مجھے بلا رہی ہیں۔ یا شاید وہ مجھے یہ بتا رہی ہیں کہ کل کا سورج ایک نیا
رنگ لے کر آئے گا۔
میں اپنی اس ڈائری کو اس کٹیا کی میز
پر چھوڑ دوں گا، تاکہ اگر کبھی کوئی بھٹکا ہوا مسافر یہاں آئے، تو اسے معلوم ہو کہ
اس کنارے پر ایک ایسا شخص بھی بستا تھا جس نے پانی کے شور میں زندگی کا نغمہ سنا
تھا۔

0 Comments