ہم ہمیشہ غروبِ آفتاب کو ایک اختتام کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ایک ایسا لمحہ جب سورج، اپنی ساری سنہری کرنیں سمیٹ کر افق کے پیچھے چھپ جاتا ہے، اور ہم اسے دن کا خاتمہ قرار دے کر اپنے روزمرہ کے کاموں سے دستبردار ہو جاتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ غروب، ایک موت ہے، ایک اندھیرا ہے جو روشنی کو نگلنے آ رہا ہے۔ لیکن کیا ہم نے کبھی غور کیا کہ غروب ہوتے ہوئے اس شمس کیا پتہ کہ جس رات کو وہ اندھیرا سمجھ کر چھوڑ رہا ہے، وہ رات ایک الگ دنیا ہے۔
اسی نکتے پر میرا ایک شعر ہے
غروب ہوتے ہوئے شمس کو خبر ہی نہین
کہ رات ، رات نہیں، کائنات ہوتی ہے۔
غروبِ آفتاب، دراصل صرف ایک نقطہ نظر کا بدل جانا ہے۔ زمین کے کسی مخصوص گوشے سے روشنی کا ہٹ جانا، سورج کا زوال نہیں، بلکہ اس کا ایک نئے سفر کا آغاز ہے۔ وہ شمس جو غروب ہو رہا ہے، وہ اپنی مستی میں سرشار ہے، اسے اپنی شان و شوکت کا زعم ہے، وہ سمجھتا ہے کہ اس کے بغیر دنیا ویران ہو جائے گی۔ اسے خبر نہیں کہ اس کے پیچھے جو کائنات امڈ کر آ رہی ہے، وہ اس کی کرنوں سے کہیں زیادہ گہری، کہیں زیادہ وسیع اور کہیں زیادہ پُراسرار ہے۔
ہم انسان بھی اکثر اپنی زندگیوں میں اسی سورج کی طرح ہوتے ہیں۔ ہم اپنی کامیابیوں، اپنے عہدوں، اپنی اناؤں اور اپنی شناخت کے زعم میں مست ہوتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ اگر ہم منظر سے ہٹ گئے، اگر ہماری چمک ماند پڑ گئی، تو سب کچھ ختم ہو جائے گا۔ ہم اپنی انا کے حصار میں اتنے قید ہوتے ہیں کہ ہم اپنے بعد آنے والے وسیع تر امکانات ۔۔ یعنی رات۔۔۔۔کو دیکھنے سے قاصر رہتے ہیں۔
جب ہم کہتے ہیں کہ رات ہو گئی، تو ہمارا مطلب ہوتا ہے کہ روشنی ختم ہو گئی۔ لیکن ذرا تھم کر، کائنات کے اس کینوس کو دیکھیے جو رات کے دامن میں کھلتا ہے۔ رات، تاریکی کا نام نہیں، یہ تو ستاروں کی کہکشاؤں کا گہوارہ ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب کائنات اپنے اصل رنگوں میں سامنے آتی ہے۔ دن کی تیز روشنی میں ہم صرف زمین کو دیکھتے ہیں، مگر رات کی کوکھ سے ہم پورے نظامِ شمسی کو، کائنات کی وسعتوں کو، اور اپنے وجود کی لامتناہی گہرائیوں کو دیکھ سکتے ہیں۔
رات، دراصل تخلیق کا وقت ہے۔ جب دنیا تھم جاتی ہے، جب ہنگامے خاموش ہو جاتے ہیں، تب انسانی روح بیدار ہوتی ہے۔ کیا آپ نے غور کیا کہ تمام بڑے فیصلے، تمام بڑی نظمیں، تمام عظیم ایجادات کے ابتدائی خاکے رات کے سناٹے میں ہی کیوں جنم لیتے ہیں؟ کیونکہ رات، انسان کو خود سے ملنے کا موقع دیتی ہے۔ دن تو ہمیں دوسروں کی نظروں میں قید رکھتا ہے، مگر رات ہمیں اپنی اپنی ذات کے آئینے میں بٹھا دیتی ہے۔
سورج کا غروب ہونا ایک فطری عمل ہے، مگر انسان کا غروب‘ایک انتخاب ہے۔ ہم اکثر اپنی انا کے غروب سے اتنا ڈرتے ہیں کہ ہم بدلنا نہیں چاہتے۔ ہم اسی دن کی تیز روشنی میں جینا چاہتے ہیں، حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ روشنی کا یہ تلاطم ہماری بصارت کو دھندلا رہا ہے۔ ہم کائنات کی وسعتوں کو اس لیے نہیں دیکھ پاتے کیونکہ ہم سورج کی چمک میں گم ہیں۔
ہم نے رات کو خوف سے جوڑ دیا ہے۔ ہم تاریکی سے ڈرتے ہیں۔ مگر جس نے تاریکی کا سفر نہیں کیا، وہ ستاروں کی روشنی کا ادراک کیسے کرے گا؟ جس نے خاموشی کو نہیں چکھا، وہ کائنات کے پراسرار نغموں کو کیسے سنے گا؟ سورج کو خبر نہیں کہ وہ جس تاریکی کو چھوڑ کر جا رہا ہے، اس تاریکی کے بطن میں ہی زندگی کے سارے راز چھپے ہیں۔ وہ سمجھتا ہے کہ وہ کائنات کا مرکز ہے، مگر کائنات تو اس غروب کے بعد ہی کھلتی ہے۔
میں جب انسانی زندگی کو دیکھوں، تو مجھے ہر انسان میں ایک سورج اور ایک پوری رات نظر آتی ہے۔ ہمارے اندر کا سورج ہماری صلاحیتیں، ہماری خواہشات اور ہماری طاقت ہے، اور ہمارے اندر کی رات ہماری تنہائی، ہمارا دکھ، ہماری خاموشی اور ہماری روحانیت ہے۔ اکثر ہم اپنی زندگی کا سارا وقت سورج کو بچانے میں گزار دیتے ہیں۔ ہم اپنی طاقت، اپنی انا اور اپنی شناخت کو قائم رکھنے کے لیے مسلسل بھاگتے ہیں۔ مگر ہم یہ نہیں جانتے کہ جب تک ہم اپنی انا کا سورج غروب نہیں کریں گے، تب تک ہمارے اندر کی کائنات بیدار نہیں ہوگی۔
اپنی انا کو غروب کرنا موت نہیں، بلکہ ایک نئی کائنات کا جنم ہے۔ جب آپ اپنی ذات کے سورج کو غروب ہونے دیتے ہیں، تب ہی آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ آپ محض ایک فرد نہیں، بلکہ ایک پوری کائنات ہیں۔ آپ کا دکھ، آپ کی تنہائی، آپ کی خاموشی ۔۔۔ یہ سب کوئی منفی چیزیں نہیں ہیں، یہ تو وہ کائنات ہے جو آپ کے اندر پنپ رہی ہے۔
آئیے، آج رات ایک لمحے کے لیے اس غروب ہوتے ہوئے سورج کو الوداع کہیں، بغیر کسی خوف کے۔ مت ڈریے کہ آپ کا وقت ختم ہو رہا ہے۔ مت ڈریے کہ آپ کی شناخت ماند پڑ رہی ہے۔ یہ جو خاموشی، یہ جو تاریکی، یہ جو تنہائی آپ کے پاس آ رہی ہے، اس کا خیر مقدم کریں۔ یہ رات نہیں، یہ ایک کائنات ہے۔ اس میں جھانک کر دیکھیں۔ اپنے اندر ستاروں کو چمکتا ہوا محسوس کریں۔
ہمیں اپنے اندر کے اس غروب کو قبول کرنا ہوگا۔ جب ہم غروب ہوتے ہیں۔۔ یعنی جب ہم اپنی انا کو مٹاتے ہیں، جب ہم اپنی ضد چھوڑتے ہیں، جب ہم اپنی جھوٹی شان سے دستبردار ہوتے ہیں ۔۔ تب ہی ہم کائنات کے اس عظیم نظام کا حصہ بنتے ہیں جو نہ کبھی سوتا ہے اور نہ کبھی غروب ہوتا ہے۔
غروبِ شمس، فطرت کا سب سے بڑا سبق ہے۔ یہ سکھاتا ہے کہ ہر اختتام ایک نئی شروعات ہے۔ یہ سکھاتا ہے کہ روشنی ہر چیز کا حل نہیں، بلکہ بعض اوقات تاریکی ہی وہ راستہ ہے جو ہمیں حقیقت تک پہنچاتی ہے۔
تو پھر کیوں ڈرنا؟ کیوں بھاگنا؟ کیوں انا کے ان سورجوں کو بچانے کے لیے زندگی ضائع کرنا جو خود غروب ہونے کے لیے بنے ہیں؟ آئیں، اس رات کو گلے لگائیں۔ اس کائنات کو اپنے اندر سمو لیں۔ اپنی انا کے غروب کو جشن بنائیں، کیونکہ اسی غروب کے بعد وہ رات آئے گی جس میں ستارے صرف آسمان پر نہیں، آپ کے دل میں بھی چمکیں گے۔
کائنات صرف ستاروں کا نام نہیں، کائنات ان تمام محسوسات کا نام ہے جو ہم تنہائی میں، تاریکی میں اور اپنے غروب کے بعد سیکھتے ہیں۔ شمس غروب ہو رہا ہے، ہونے دیں! اس کی بے خبری ہی اس کے غرور کا باعث ہے، مگر ہم تو باخبر ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ رات کیا ہوتی ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ یہ رات، تاریکی نہیں، بلکہ ایک ایسی کائنات ہے جس میں ہم سب آزاد ہیں۔
اپنے آپ کو پہچانیے۔ اپنے اندر کی کائنات کو دریافت کیجیے۔ اور یاد رکھیے، آپ تب تک مکمل نہیں ہو سکتے جب تک آپ اپنا سورج غروب نہیں کرتے۔ غروب ہوتے ہوئے شمس کو اپنی انا کا آخری سلام کہیں، اور کائنات کا خیر مقدم کریں۔ کیونکہ وہی شخص کائنات کا مالک بنتا ہے جو اپنے اندر کا غروب دیکھ کر بھی نہیں ڈرتا، بلکہ مسکرا کر رات کے ستاروں میں کھو جاتا ہے۔ یہی تو زندگی کا اصل حسن ہے ۔۔ ایک مسلسل سفر، روشنی سے تاریکی کی طرف، اور تاریکی سے روشنی کی ایک ایسی نہ ختم ہونے والی لہر کی طرف، جو کائنات کے ہر ذرے میں دھڑکتی ہے۔ آج کی رات، آپ کی رات ہے۔ اسے جی لیجیے!

Comments
Post a Comment