Skip to main content

جڑواں شہر

 جڑواں شہر



پنڈی وہ یاد ہے جو جسم میں گھر کر کے بیٹھ جاتی ہے
اسلام آباد وہ خیال ہے جو ترتیب مانگتا ہے
ایک شہر وقت کو سینے سے لگاتا ہے
دوسرا شہر وقت کو ناپتا ہے
پنڈی میں آدمی روایت کے نام پر زندہ رہتا ہے
اسلام آباد میں آدمی شناخت کے نام پر بکھر جاتا ہے
پنڈی میں وقت، انسان کے اندر رہتا ہے
یہاں دیواریں نہیں، حافظے کھڑے ہوتے ہیں
ہر گلی ایک سوال ہے جو جواب نہیں چاہتا
بوڑھے چہروں پر ماضی نہیں، جڑیں اگتی ہیں
یہ شہر حال میں نہیں جیتا، خود کو دہراتا ہے
پنڈی میں زندہ رہنا، یاد رہ جانا ہے
اسلام آباد میں آدمی نام سے پہلے عہدہ ہوتا ہے
یہاں خاموشی بھی فائلوں میں بند ہے
درخت سایہ دیتے ہیں، مگر مانوس نہیں ہوتے
ہر چہرہ کسی اور جگہ کا حوالہ لگتا ہے
یہ شہر خود کو ڈھونڈتے لوگوں سے بھرا ہے
اسلام آباد میں ہونا، خود سے فاصلے پر ہونا ہے
پنڈی ماضی ہے جو چھوڑتا نہیں
اسلام آباد مستقبل ہے جو اپناتا نہیں
ایک شہر یاد رکھتا ہے
دوسرا شہر ترتیب دیتا ہے
درمیان میں کھڑا آدمی ۔۔ نامکمل ہوتا ہے
یہ جڑواں شہر نہیں، آدمی کی تقسیم ہیں
پنڈی میں وقت، دروازوں کی زنجیر سے بندھا ملتا ہے
ہر گلی میں ایک بزرگ، ماضی کا حوالہ اٹھائے کھڑا ہے
دیواروں پر کیلوں کی طرح لٹکی یادیں بولتی رہتی ہیں
یہاں مکان نہیں، نسلیں آباد ہوتی ہیں
بازار شور نہیں، سانس لیتا ہوا ورثہ ہیں
پنڈی میں آدمی بوڑھا نہیں ہوتا، تجربہ ہو جاتا ہے
اسلام آباد میں سڑکیں بھی شائستہ گفتگو کرتی ہیں
درختوں کو معلوم ہے کہ انہیں کہاں سایہ رکھنا ہے
یہاں شناخت، ایڈریس سے نہیں، لہجے سے بنتی ہے
ہر چہرہ کسی اور شہر کا ترجمہ لگتا ہے
سفارت خانے خوابوں کی طرح محفوظ ہیں
یہ شہر کم بولتا ہے، زیادہ چھپاتا ہے
پنڈی وہ دھڑکن ہے جو خون رواں رکھتی ہے
اسلام آباد وہ نبض ہے جو رفتار ناپتی ہے
ایک شہر روایت کا وضو کرتا ہے
دوسرا شہر مستقبل کی نماز پڑھتا ہے
درمیان کی سڑک پر شناخت گم ہو جاتی ہے

Comments

Popular posts from this blog

میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

 میں چپ رہوں گا کوئی تماشا نہیں کروں گا

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر

الفاظ بھی شرمندہء معنی ہیں یہاں پر  

مس کالوجی ۔ ایک نیا مضمون

مس کالوجی ۔ ایک نیا مضمون محمد نور آسی محترم قارئین آپ نے بیا لوجی، سائیکا لو جی ، فزیالوجی وغیرہ تو پڑھا یا سنا ہو گا یہ مس کا لوجی کیا ہے؟ یہ ہم آپ کو بتا تے ہیں یہ در اصل دو الفا ظ سے مل کر بنا ہے مس کال اور لوجی یعنی وہ علم جس میں مس کالوں کی سائنس کے بارے میں پڑھا یا جاتا ہے جی ہاں یہ بالکل نئی سائنس ہے اور اسکی دریافت بلکہ ایجا د کہئیے ، کا سہرا سب پاکستانیوں کے سر پر ہے سب سے پہلے کس نے مس کال دی- اس کے بارے میں   کوئی مصدقہ حوالہ موجود نہیں تاہم غیر معتبر راویوں کا بیان ہے اور اغلب یہ ہے کہ کسی عاشق نامراد نے حسب روائت تہی بیلنس ہونے کی صورت میں اپنی محبوبہ کو دی ہوگی۔ راوی اس بارے میں خاموش ہے کہ آیا اسکی محبوبہ نے آگے سے کیا رسپانس دیا؟ مس کا ل ایک فن ہے ، ایک سائنس ہے یہ ہر کسی کے بس کا کھیل نہیں ۔۔ بہت سارے سیدھے ، اس سائنس سے نا واقف لوگ مس کا لیں دیتے دیتے اپنا بیلنس زیرو کر بیٹھتے ہیں اور پھر حیران ، پریشان ہو کر کہتے ہیں یہ موبائل کمپنی والے بڑے بے ایمان ہیں ۔ ابھی کل ہی سوروپے بیلنس ڈلوایا تھا ایک دفعہ بھی بات نہیں کی اور بیلنس زیرو۔ لعنت ہو ۔۔۔۔ کمپنی...